کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عربوں کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16599
عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَلِيُّ ، أُوصِيكَ بِالْعَرَبِ خَيْرًا ، أُوصِيكَ بِالْعَرَبِ خَيْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ : أَسْنَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى صَدْرِي فَقَالَ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ” اے علی ! میں تمہیں عربوں کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتا ہوں ، میں تمہیں عربوں کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے کے ساتھ ٹیک دی ہوئی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ امام بزار کے رجال کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16599
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2832) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3481)»
حدیث نمبر: 16600
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَحِبُّوا الْعَرَبَ لِثَلَاثٍ : لِأَنِّي عَرَبِيٌّ ، وَالْقُرْآنَ عَرَبِيٌّ ، وَكَلَامَ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَرَبِيٌّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَلِسَانَ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَرَبِيٌّ " . وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین وجوہ سے ، عربوں سے محبت رکھو ! کیونکہ میں عربی ہوں ، قرآن عربی ہے اور اہل جنت کا کلام عربی ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اہل جنت کی زبان عربی ہو گی ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی علاء بن عمرو حنفی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16600
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11441)»
حدیث نمبر: 16601
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي دَعَوْتُ لِلْعَرَبِ فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ مَنْ لَقِيَكَ مِنْهُمْ مُعْتَرِفًا بِكَ فَاغْفِرْ لَهُ أَيَّامَ حَيَاتِهِ ، وَهِيَ دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - ، وَإِنَّ لِوَاءَ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِيَدِي ، وَإِنَّ أَقْرَبَ الْخَلْقِ إِلَى لِوَائِي يَوْمَئِذٍ الْعَرَبُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرَوَى الْبَزَّارُ مِنْهُ : " اللَّهُمَّ مَنْ لَقِيَكَ مِنْهُمْ مُصَدِّقًا بِكَ ، مُوقِنًا فَاغْفِرْ لَهُ " . فَقَطْ . وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے عربوں کے لئے دعا کرتے ہوئے یہ کہا: ” اے اللہ ! ان میں سے جو شخص ایسی حالت میں تیری بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ تیرے بارے میں اعتراف کرتا ہو ، تو اس کی پوری زندگی کی مغفرت کر دینا “ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی بھی یہی دعا تھی ، اور قیامت کے دن لواء الحمد میرے ہاتھ میں ہو گا ، اور اُس دن مخلوق میں سے میرے جھنڈے کے سب سے زیادہ قریب عرب ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے : ” اے اللہ ! ان میں سے جو ایسی حالت میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں کہ وہ تیری تصدیق کرتا ہو اور تجھ پر یقین رکھتا ہو ، تو اس کی مغفرت کر دینا ۔ “ ان دونوں روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16601
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2833)»
حدیث نمبر: 16602
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا عَرَبِيٌّ ، وَالْقُرْآنُ عَرَبِيٌّ ، وَلِسَانُ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَرَبِيٌّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں عربی ہوں ، قرآن عربی ہے اور اہل جنت کی زبان عربی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16602
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 16603
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَحْيًا قَطُّ عَلَى نَبِيٍّ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ إِلَّا بِالْعَرَبِيَّةِ ، ثُمَّ يَكُونُ هُوَ بَعْدُ يُبَلِّغُهُ قَوْمَهُ بِلِسَانِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی پر جو بھی وحی نازل کی ، تو اللہ تعالیٰ اور اس نبی کے درمیان ، وہ وحی ، عربی زبان میں ہوتی تھی ، اور پھر اس کے بعد وہ نبی اُس وحی کو اپنی قوم کی زبان میں قوم تک پہنچاتا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16603
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16604
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حُبُّ قُرَيْشٍ إِيمَانٌ ، وَبُغْضُهُمْ كُفْرٌ ، وَحُبُّ الْعَرَبِ إِيمَانٌ ، وَبُغْضُهُمْ كُفْرٌ . مَنْ أَحَبَّ الْعَرَبَ فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْعَرَبَ فَقَدْ أَبْغَضَنِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ جَمَّازٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قریش سے محبت رکھنا ایمان ہے اور اُن سے بغض رکھنا کفر ہے ، عربوں سے محبت رکھنا ایمان ہے اور اُن سے بغض رکھنا کفر ہے ، جو شخص عربوں سے محبت رکھتا ہے وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے اور جو عربوں سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن جماز ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16604
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2558)»
حدیث نمبر: 16605
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يُبْغِضُ الْعَرَبَ إِلَّا مُنَافِقٌ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ جَبِيرَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عربوں سے بغض کوئی منافق ہی رکھے گا ۔ “
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زید بن جبیرہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16605
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 16606
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يُبْغِضُ الْعَرَبَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يُحِبُّ ثَقِيفًا مُؤْمِنٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ عَامِرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کوئی مومن ، عربوں سے بغض نہیں رکھے گا اور کوئی مومن ، ثقیف سے محبت نہیں رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سہل بن عامر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16606
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16607
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا ذَلَّتِ الْعَرَبُ ذَلَّ الْإِسْلَامُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ الْبَصْرِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب عرب ذلت کا شکار ہو جائیں گے تو اسلام کمزور ہو جائے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خطاب بصری ہے جسے ازدی اور دیگر لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16607
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1881)»