کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ’’ عنزہ “ قبیلے کے بارے میں جو منقول ہے
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هُوَ وَجَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَوَلَدِهِ ، فَاسْتَأْذَنُوا عَلَيْهِ ، فَدَخَلُوا فَقَالَ : " مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ " . فَقِيلَ لَهُ : هَذَا وَفْدُ عَنَزَةَ ، فَقَالَ : " بَخٍ بَخٍ بَخٍ بَخٍ ، نِعْمَ الْحَيُّ عَنَزَةُ ، مَبْغِيٌّ عَلَيْهِمْ مَنْصُورُونَ ، مَرْحَبًا بِقَوْمِ شُعَيْبٍ ، وَأُخْتَانِ مُوسَى ، سَلْ يَا سَلَمَةُ ، عَنْ حَاجَتِكَ " . فَقَالَ : جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَمَّا افْتَرَضْتَ عَلَيَّ فِي الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْعَنْزِ . فَأَخْبَرَهُ ثُمَّ جَلَسَ عِنْدَهُ قَرِيبًا ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَهُ فِي الِانْصِرَافِ ، فَقَالَ : " انْصَرِفْ " . فَمَا عَدَا أَنْ قَامَ لِيَنْصَرِفَ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ ارْزُقْ عَنَزَةَ كَفَافًا لَا فُوتًا ، وَلَا إِسْرَافًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ ارْزُقْ عَنَزَةَ قُوتًا لَا سَرَفَ فِيهِ " . وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ اپنے گھر والوں اور اولاد کے ایک گروہ کے ہمراہ وفد کی شکل میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، جب وہ اندر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ تو آپ کو بتایا گیا : یہ عنزہ قبیلے کے وفد کے افراد ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بہت خوب ، بہت خوب ، عنزہ ، اچھا قبیلہ ہے ، جب ان کے خلاف کوشش کی گئی تو ان کی مدد کی گئی ، سیدنا شعیب علیہ السلام کی قوم کو خوش آمدید ! اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ والی دو بہنوں کی قوم کو خوش آمدید ! اے سلمہ ! تم اپنی حاجت کے بارے میں پوچھو ! تو سیدنا سلمہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں آپ کے پاس یہ دریافت کرنے کے لئے آیا ہوں کہ اونٹوں اور بکریوں وغیرہ میں مجھ پر کیا زکوۃ فرض ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بارے میں بتایا ، پھر وہ کچھ دیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے رہے ، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے واپسی کی اجازت مانگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم واپس چلے جاؤ ! جب وہ واپس جانے کے لیے اُٹھنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! تو عنزہ قبیلے کے لوگوں کو ایسا رزق عطا فرما جو بنیادی ضروریات پوری کرتا ہو ، نہ وہ اس سے کم ہو اور نہ فضول خرچی والا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے ان صحابی کے حوالے سے اختصار کے ساتھ یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اے اللہ ! تو عنزہ قبیلے کو ایسی خوراک عطا فرما ، جس میں اسراف نہ ہو ۔ “ اس روایت کی سند میں ایسے لوگ ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16590
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2828) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6364)»
وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ نُعَيْمٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ عِصَامٍ جَاءَهُ فَقَالَ : يَا أَبَا رَبَاحٍ ، مَا الَّذِي ذَكَرَ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرُ حِينَ قَدِمْتَ عَلَيْهِ فِي قَوْمِكَ عَنْزَةٌ ؟ قَالَ : مَرَرْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ لِي : مَنْ أَنْتَ ؟ وَمِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَنَزِيُّ ، فَقَالَ : عَنَزَةُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . فَقَالَ : أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ قَوْمَكَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا عَنَزَةُ ؟ فَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَقَالَ : " حَيٌّ مِنْ هَاهُنَا ، مَبْغِيٌّ عَلَيْهِمْ ، مَنْصُورُونَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنِ الْغَضْبَانِ بْنِ حَنْظَلَةَ : أَنَّ أَبَاهُ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ وَلَمْ يَذْكُرْ حَنْظَلَةَ . وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَبِي يَعْلَى رِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ . ¤
محمد محی الدین
حنظلہ بن نعیم بیان کرتے ہیں : عمر بن ہشام اُن کے پاس آئے اور بولے : اے ابورباح ! وہ واقعہ کیا ہے ؟ کہ جب آپ اپنی قوم عنزہ قبیلے کے ہمراہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے سامنے وہ بات کی تھی ، تو انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تم کون ہو اور تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! میں حنظلہ بن نعیم عنزی ہوں ، انہوں نے دریافت کیا : عنزہ قبیلے سے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن تمہاری قوم کا ذکر کرتے ہوئے سنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! عنزہ قبیلے کے لوگ کون ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ فرمایا : ” وہ اس طرف کا ایک قبیلہ ہے ، جب ان کے خلاف لڑائی کی جائے تو ان کی مدد کی جاتی ہے ۔ “
یہ روایت ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت اس صحابی کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام أحمد نے بھی یہ روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” غضبان بن حنظلہ بیان کرتے ہیں : ان کے والد وفد کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے حنظلہ کا ذکر نہیں کیا ، امام ابویعلیٰ کی دو اسناد میں سے ایک کے تمام رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16591
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «المجد البار فى المسندة (2829) آخر جما حد فى المسند (141)»