مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَنَزَةَ . باب: ’’ عنزہ “ قبیلے کے بارے میں جو منقول ہے
وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ نُعَيْمٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ عِصَامٍ جَاءَهُ فَقَالَ : يَا أَبَا رَبَاحٍ ، مَا الَّذِي ذَكَرَ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرُ حِينَ قَدِمْتَ عَلَيْهِ فِي قَوْمِكَ عَنْزَةٌ ؟ قَالَ : مَرَرْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ لِي : مَنْ أَنْتَ ؟ وَمِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَنَزِيُّ ، فَقَالَ : عَنَزَةُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . فَقَالَ : أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ قَوْمَكَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا عَنَزَةُ ؟ فَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَقَالَ : " حَيٌّ مِنْ هَاهُنَا ، مَبْغِيٌّ عَلَيْهِمْ ، مَنْصُورُونَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنِ الْغَضْبَانِ بْنِ حَنْظَلَةَ : أَنَّ أَبَاهُ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ وَلَمْ يَذْكُرْ حَنْظَلَةَ . وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَبِي يَعْلَى رِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ . ¤حنظلہ بن نعیم بیان کرتے ہیں : عمر بن ہشام اُن کے پاس آئے اور بولے : اے ابورباح ! وہ واقعہ کیا ہے ؟ کہ جب آپ اپنی قوم عنزہ قبیلے کے ہمراہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے سامنے وہ بات کی تھی ، تو انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تم کون ہو اور تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! میں حنظلہ بن نعیم عنزی ہوں ، انہوں نے دریافت کیا : عنزہ قبیلے سے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن تمہاری قوم کا ذکر کرتے ہوئے سنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! عنزہ قبیلے کے لوگ کون ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ فرمایا : ” وہ اس طرف کا ایک قبیلہ ہے ، جب ان کے خلاف لڑائی کی جائے تو ان کی مدد کی جاتی ہے ۔ “
یہ روایت ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت اس صحابی کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام أحمد نے بھی یہ روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” غضبان بن حنظلہ بیان کرتے ہیں : ان کے والد وفد کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے حنظلہ کا ذکر نہیں کیا ، امام ابویعلیٰ کی دو اسناد میں سے ایک کے تمام رجال ” ثقہ “ ہیں ۔