حدیث نمبر: 16583
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نِعْمَ الْقَوْمُ الْأَزْدُ ، طَيِّبَةٌ أَفْوَاهُهُمْ ، بَرَّةٌ أَيْمَانُهُمْ ، نَقِيَّةٌ قُلُوبُهُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ازد “ قبیلے کے لوگ اچھے لوگ ہیں ، ان کے منہ پاکیزہ ہیں ، ان کی قسمیں سچی ہیں اور ان کے دل پاک و صاف ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 16584
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ دَاوُدَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نِعْمَ الْمُرْضِعُونَ أَهْلُ عُمَانَ " . يَعْنِي الْأَزْدَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَنْبَسَةُ مَوْلَى طَلْحَةَ بْنِ دَاوُدَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن داؤد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دودھ پلانے والے اچھے لوگ اہل عمان ہیں “ راوی کہتے ہیں : یعنی ” ازد “ قبیلے کے لوگ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ ہے جو سیدنا طلحہ بن داؤد رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ ہے جو سیدنا طلحہ بن داؤد رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16585
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَلَمْ يَقْبَلُوا الْكِتَابَ ، وَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنِّي لَوْ بَعَثْتُ بِهِ إِلَى قَوْمٍ بِشَطِّ عُمَانَ مِنْ أَزِدْ شَنُوءَةَ ، وَأَسْلَمَ لَقَبِلُوهُ " . ¤ ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْجَلَنْدِ يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَقَبِلَهُ وَأَسْلَمَ ، وَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَدِيَّةٍ فَقَدِمَتْ ، وَقَدْ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ الْهَدِيَّةَ مُوَرَّثًا ، وَقَسَمَهَا بَيْنَ فَاطِمَةَ وَالْعَبَّاسِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عربوں کے ایک قبیلے کو خط لکھ کر انہیں اسلام کی دعوت دی ، ان لوگوں نے اس مکتوب کو قبول نہیں کیا ، مکتوب لے جانے والے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس آئے ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر میں نے یہ مکتوب ” عمان “ کے کنارے موجود ” ازدشنوہ “ اور ” اسلم “ قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھیجا ہوتا ، تو انہوں نے اسے قبول کر لینا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” جلند “ کو خط بھیجا اور انہیں اسلام کی دعوت دی ، تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور اس مکتوب کو قبول کر لیا ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ بھی بھجوایا ، جب وہ تحفہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا تھا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس تحفے کو وراثت میں منتقل کر دیا اور اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے درمیان تقسیم کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صالح ازدی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صالح ازدی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 16586
وَعَنْ بِشْرِ بْنِ عِصْمَةَ صَاحِبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَزْدِ مِنِّي ، وَأَنَا مِنْهُمْ ، أَغْضَبُ لَهُمْ إِذَا غَضِبُوا ، وَأَرْضَى لَهُمْ إِذَا رَضُوا " . ¤ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ رَحِمَهُ اللَّهُ : إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِقُرَيْشٍ ، فَقَالَ بِشْرٌ : أَفَأَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ لَوْ كَذَبْتُ عَلَيْهِ جَعَلْتُهَا لِقَوْمِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي فَضْلِ الْقَبَائِلِ فَضْلُ الْأَزْدِ وَغَيْرِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بشر بن عصمہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ازد ، مجھ سے ہیں اور میں اُن سے ہوں ، جب وہ غضب ناک ہوں گے تو ان کی وجہ سے میں بھی غضب ناک ہوؤں گا اور جب وہ راضی ہوں گے تو ان کی وجہ سے میں بھی راضی ہوؤں گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات قریش کے بارے میں ارشاد فرمائی تھی ، تو سیدنا بشر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کروں گا ؟ اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرنی ہوتی ، تو میں اُسے اپنی قوم کے لیے منسوب کرتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : اس سے پہلے مختلف قبائل کی فضیلت کے بارے میں روایات میں ” ازد “ اور دیگر قبائل کی فضیلت کا بیان گزر چکا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : اس سے پہلے مختلف قبائل کی فضیلت کے بارے میں روایات میں ” ازد “ اور دیگر قبائل کی فضیلت کا بیان گزر چکا ہے ۔