کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عبدالقیس قبیلے کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16579
عَنِ ابْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ أَهْلِ الْمَشْرِقِ عَبْدُ الْقَيْسِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ وَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل مشرق میں سب سے بہتر عبدالقیس ( یعنی اس قبیلے کے لوگ ) ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی وہب بن یحیی بن زمام ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16579
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2829)»
حدیث نمبر: 16580
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَيْرُ أَهْلِ الْمَشْرِقِ عَبْدُ الْقَيْسِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اہل مشرق میں سب سے بہتر عبدالقیس ( یعنی اس قبیلے کے لوگ ) ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16580
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6062) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1638)»
حدیث نمبر: 16581
وَعَنْ نُوحِ بْنِ مَخْلَدٍ : أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِمَكَّةَ فَسَأَلَهُ : " مِمَّنْ أَنْتَ ؟ " . فَقَالَ : أَنَا مِنْ ضُبَيْعَةَ مِنْ رَبِيعَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ رَبِيعَةَ عَبْدُ الْقَيْسِ ، ثُمَّ الْحَيُّ الَّذِي أَنْتَ مِنْهُمْ " . قَالَ : وَأَبْضَعَ مَعَهُ فِي جُلْبَتَيْنِ إِلَى الْيَمَنِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَأَبْضَعَ مَعَهُ فِي جَيْشٍ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نوح بن مخلد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مکہ میں تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : میں ضبیعہ بن ربیعہ سے تعلق رکھتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ربیعہ میں سب سے بہتر عبدالقیس قبیلہ ہے ، اور پھر وہ قبیلہ ہے جس سے تم تعلق رکھتے ہو ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہمراہ کچھ ساز و سامان بھی یمن بھیجا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہمراہ ایک لشکر میں سامان بھیجا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16581
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16582
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا حَجِيجُ مَنْ ظَلَمَ عَبْدَ الْقَيْسِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اُس شخص کا مقابل فریق ہوؤں گا جو عبدالقیس ( یعنی اس قبیلے کے افراد ) کے ساتھ زیادتی کرے گا“ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16582
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2822) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12971)»