کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بنوناجیہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16587
عَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِبَنِي نَاجِيَةَ : " ، أَنَا مِنْهُمْ ، وَهُمْ مِنِّي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ مُتَّصِلًا وَمُرْسَلًا بِاخْتِصَارٍ عَنِ ابْنِ أَخٍ لِسَعْدٍ ، وَلَمْ يَسِمِّهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارے میں یہ ارشاد فرمایا تھا : ” میں اُن سے ہوں اور یہ مجھ سے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے متصل اور مرسل ، دونوں طرح سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، انہوں نے اسے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بھتیجے کے حوالے سے نقل کیا ہے ، لیکن اس کا نام بیان نہیں کیا ہے ، ان دونوں کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16587
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1448) و (1447)»
حدیث نمبر: 16588
وَعَنْ شُعْبَةَ قَالَ : سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ عَنْ بَنِي نَاجِيَةَ فَقَالَ : هُمْ مِنَّا . ¤ قَالَ شُعْبَةُ : يَرْوُونَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُمْ حَيٌّ مِنِّي " . وَأَحْسَبُهُ قَالَ : " وَأَنَا مِنْهُمْ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ . ¤
محمد محی الدین
شعبہ بیان کرتے ہیں : میں نے سعد بن ابراہیم سے بنو ناجیہ کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے بتایا : وہ ہم میں سے ہیں ۔ شعبہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے
یہ روایت نقل کی ہے : ” وہ ایسا قبیلہ ہے ، جو مجھ سے ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” اور میں اُن سے ہوں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ سعد بن ابراہیم نامی راوی نے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16588
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (958)»