حدیث نمبر: 16574
عَنْ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : اجْتَمَعَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ جَمَاعَةٌ مِنْ أَفْنَاءِ النَّاسِ فَقَالَ : لِيُحَدِّثْ كُلُّ رَجُلٍ بِمَكْرُمَةِ قَوْمِهِ ، وَمَا كَانَ فِيهِمْ مِنْ فَضْلٍ ، فَحَدَّثَ كُلُّ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى الْحَدِيثُ إِلَى فَتًى مِنْ جُهَيْنَةَ ، فَحَدَّثَ بِحَدِيثٍ عَجَزَ عَنْ تَمَامِهِ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَقَالَ : حَدِّثْ يَا أَخَا جُهَيْنَةَ ! بِفِيكَ كُلِّهِ ، فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " جُهَيْنَةُ مِنِّي ، وَأَنَا مِنْهُمْ ، غَضِبُوا لِغَضَبِي ، وَرَضُوا لِرِضَائِي ، أَغْضَبُ لِغَضَبِهِمْ ، وَأَرْضَى لِرِضَائِهِمْ ، مَنْ أَغْضَبَهُمْ فَقَدْ أَغْضَبَنِي ، وَمَنْ أَغْضَبَنِي فَقَدْ أَغْضَبَ اللَّهَ " . ¤ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ : كَذَبْتَ إِنَّمَا جَاءَ الْحَدِيثُ فِي قُرَيْشٍ ، فَقَالَ : ¤ يُكَذِّبُنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ حَرْبٍ وَيَشْتُمُنِي لِقَوْلِي فِي جُهَيْنَهْ وَلَوْ أَنِّي كَذَبْتُ لَكَانَ قَوْلِي وَلَمْ أَكْذِبْ لِقَوْمِي مِنْ مُزَيْنَهْ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ وَأَنْتَ مَيِّتٌ ¤ رَسُولَ اللَّهِ يَوْمَ لَوِ اسْتَبْيَنَهْ يَقُولُ : الْقَوْمُ مِنِّي ، وَأَنَا مِنْهُمْ جُهَيْنَةَ يَوْمَ خَاصَمَهُ عُيَيْنَهْ إِذَا غَضِبُوا غَضِبْتُ وَفِي رِضَاهُمْ ¤ رِضَائِي مِنْهُ لَيْسَتْ مُنَيْنَهْ وَمَا كَانُوا كَذَكْوَانَ وَرِعْلٍ وَلَا الْحَيَّيْنِ مِنْ سَلَفِي جُهَيْنَهْ ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ مَعْبَدٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مختلف قبائل کے لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھے ہوئے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” ہر شخص اپنی قوم کی عزت افزائی کے بارے میں بات چیت کرے کہ ان لوگوں میں کیا فضیلت پائی جاتی ہے ؟ تو ہر شخص نے گفتگو میں حصہ لیا یہاں تک کہ جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی باری آئی ، تو اس نے گفتگو کی ، لیکن وہ پوری طرح گفتگو نہیں کر سکا ، تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے فرمایا : اے جہینہ قبیلے کے فرد ! تم کھل کر گفتگو کرو ! کیونکہ میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جہینہ مجھ سے ہیں اور میں اُن سے ہوں ، وہ میرے غضب کی وجہ سے غضبناک ہوتے ہیں اور میری رضامندی کی وجہ سے راضی ہوتے ہیں اور میں اُن کے غضب ناک ہونے کی وجہ سے غضبناک ہوتا ہوں ، اور ان کے راضی ہونے کی وجہ سے راضی ہوتا ہوں ، جو شخص انہیں غضبناک کرے گا وہ مجھے غضب ناک کرے گا ، اور جو مجھے غضبناک کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کو غضبناک کرے گا ۔ “ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ غلط کہہ رہے ہیں ، یہ حدیث قریش کے بارے میں ہے ، تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: ” معاویہ بن حرب نے مجھے جھوٹا قرار دیا ہے اور جہینہ قبیلے کے بارے میں ، میری بیان کی ہوئی بات کے حوالے سے مجھے برا کہا: ہے ، میں نے جھوٹ نہیں بولا: ہے میں نے اگر جھوٹ بولنا ہوتا تو میری بات ، میری قوم مزینہ قبیلے کے بارے میں ہوتی ، لیکن میں نے ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا ، اگر میں تحقیق کروں ، تو تم اس وقت مردہ ہو گے ( یعنی مسلمان بھی نہیں ہوئے ہو گے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا : ” یہ یہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہینہ قبیلے کے بارے میں فرمائی تھی ، اور اس دن فرمائی تھی جب عیینہ نے آپ کے ساتھ بحث کی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا : ” جب وہ غضب ناک ہوں گے تو میں بھی غضب ناک ہوؤں گا ، اور ان کی رضامندی میں ، میری رضامندی ہے ، یہ مہربانی ہے اور چھوٹی مہربانی نہیں ہے اور نہ ہی یہ لوگ ذکوان اور رعل قبلے کی مانند ہیں ، اور نہ ہی وہ قبیلے ، جو جہینہ کے پہلے لوگوں میں سے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث بن معبد ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث بن معبد ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔