کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بنوتمیم کے بارے میں جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16565
عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا رَقَبَةٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، فَجَاءَ سَبْيٌ مِنْ خَوْلَانَ ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ ، فَنَهَاهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ جَاءَ سَبْيٌ مِنْ مُضَرَ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیده عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اُن کے ذمہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی کو آزاد کرنا لازم تھا ، ایک مرتبہ خولان قبیلے کے کچھ قیدی آئے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کسی کو آزاد کرنے کا ارادہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع کر دیا ، پھر مضر قبیلے سے تعلق رکھنے والے ، بنو عنبر سے تعلق رکھنے والے کچھ قیدی آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ ہدایت کی کہ وہ اُن میں سے کسی کو آزاد کر دیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16565
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2827)»
حدیث نمبر: 16566
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ عَلَى عَائِشَةَ مُحَرَّرٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، فَقَدِمَ سَبْيٌ بِالْعَنْبَرِ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ ، وَقَالَ : " مَنْ كَانَ عَلَيْهِ مُحَرَّرٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ فَلَا يُعْتِقُ مِنْ حِمْيَرَ أَحَدًا " . ¤ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ : فَقُلْتُ لِإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ : وَمَا كَانَ حِمْيَرُ ؟ قَالَ : هُوَ أَكْبَرُ مِنْ إِسْمَاعِيلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَفِيهِمَا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذمہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی غلام کو آزاد کرنا لازم تھا ” بلعنبر “ قبیلے کے کچھ قیدی آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے کسی کو آزاد کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” جس کے ذمہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی کو آزاد کرنا لازم ہو وہ حمیر میں سے کسی کو آزاد نہ کرے ۔ “
علی بن عابس کہتے ہیں : میں نے اسماعیل بن ابوخالد سے دریافت کیا : جمیر کون تھے ؟ تو انہوں نے بتایا : وہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام سے بڑے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اختصار کے ساتھ ان صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے اور ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی علی بن عابس کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16566
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2825) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10400)»
حدیث نمبر: 16567
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ عَلَى عَائِشَةَ مُحَرَّرٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، فَقَدِمَ سَبْيٌ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ ، أَوْ قَالَ هَذَا الْمَعْنَى . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ : أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذمہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے غلام آزاد کرنا لازم تھا ، بنو عنبر سے تعلق رکھنے والے کچھ قیدی آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان میں سے کسی کو آزاد کر دیں ۔ راوی کہتے ہیں : یا شاید اسی مفہوم کے الفاظ ہیں ،
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد أحمد بن عبداللہ بن ابوسفر کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16567
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2826)»
حدیث نمبر: 16568
وَعَنْ زُبَيْبِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَانَ عَلَيْهِ رَقَبَةٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ فَلْيَعْتِقْ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زُبَيْبٍ ، كَمَا وَقَعَ فِي الْأَصْلِ وَإِنَّمَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ مُكَبِّرًا كَمَا ذَكَرَهُ ابْنُ أَبَي حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ فِي ثِقَاتِ التَّابِعِينَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیب بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص کے ذمہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی غلام کو آزاد کرنا لازم ہو ، اسے بنو عنبر میں سے کسی کو آزاد کر دینا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زبیب ہے ، جیسا کہ اصل میں مذکور ہے ، لیکن وہ اصل میں عبداللہ مکبر ہے ، جیسا کہ ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، اور ابن حبان نے اس کا تذکرہ ثقہ تابعین میں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16568
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5298)»
حدیث نمبر: 16569
وَعَنْ ذُؤَيْبٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ عَتِيقًا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ قَصْدًا ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْتَظِرِي حَتَّى يَجِيءَ فَيْءُ الْعَنْبَرِ غَدًا " . فَجَاءَ فَيْءُ الْعَنْبَرِ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خُذِي مِنْهُمْ أَرْبَعَةً ، صِبَاحٌ مِلَاحٌ ، لَا تُخَبَّأُ مِنْهُمُ الرُّءُوسُ " . ¤ قَالَ عَطَاءٌ : فَأَخَذَتْ جَدِّي رُدَيْحًا ، وَأَخَذَتِ ابْنَ عَمِّي سَمُرَةَ ، وَأَخَذَتِ ابْنَ عَمِّي زُخَيًّا ، وَأَخَذَتْ خَالِي زُبَيْبًا . ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فَمَسَحَ بِهَا رُؤُوسَهُمْ ، وَبَرَّكَ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : " هَؤُلَاءِ يَا عَائِشَةُ ، مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ قَصْدًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ فِيهِ : " خُذِي أَرْبَعَةَ غِلْمَةٍ صِبَاحٍ " . وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
ذؤیب بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی کو آزاد کرنا چاہتی ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم انتظار کرو ! کل جب ہمارے پاس عنبر قبیلے کا مال فے آئے گا ( یعنی پھر تم ایسا کر لینا ) راوی بیان کرتے ہیں : پھر عنبر قبیلے کا مال فے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم ان میں سے چار افراد وصول کر لو ، جو صبیح و ملیح ہیں ، ان میں سے کسی فرد کو سنبھال کے نہیں رکھا جائے گا ۔
عطاء کہتے ہیں : تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے میرے دادا ” ردیح “ کو میرے چچازاد ” سمرہ “ کو میرے ایک اور چچازاد ” زخیا “ کو اور میرے ماموں ” زبیب “ کو حاصل کر لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اُٹھایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دست مبارک ان لوگوں کے سر پر پھیرا اور اُن کو برکت کی دعاء دی اور ارشاد فرمایا :
” اے عائشہ ! یہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ ہیں ، جنہیں کثرت کے ساتھ آزاد کیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :
” تم چار ایسے افراد حاصل کر لو جو صبیح لڑکے ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
اس روایت کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16569
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4216)»
حدیث نمبر: 16570
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَذَكَرَ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ : " هُمْ ضِخَامُ الْهَامِ ، ثَبَتُ الْأَقْدَامِ ، نُصَّارُ الْحَقِّ فِي آخِرِ الزَّمَانِ ، أَشَدُّ قَوْمًا عَلَى الدَّجَّالِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ سَلَامٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، وَقَالَ : سَلَامٌ هَذَا أَحْسَبُهُ سَلَامً الْمَدَائِنِيَّ ، وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو تمیم کا ذکر کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ” ان کے سر بڑے ہوتے ہیں ، یہ ثابت قدم ہوتے ہیں ، آخری زمانے میں یہ حق کے مددگار ہوں گے اور دجال کے خلاف سب سے زیادہ سخت قوم ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے سلام کے حوالے سے ، منصور بن زاذان سے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ کہا: ہے : سلام نامی اس راوی کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ یہ سلام مدائنی ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16570
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2823)»
حدیث نمبر: 16571
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : رُبَّمَا ضَرَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى كَتِفِي وَقَالَ : " أَحِبُّوا بَنِي تَمِيمٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَجْرَحْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بعض اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے کندھے پر ہاتھ مار کر یہ ارشاد فرماتے تھے : ” تم لوگ بنو تمیم سے محبت رکھو ! “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں :
یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اس سند کے حوالے سے منقول ہے ، اس سند میں ایک راوی عبیدہ بن عبدالرحمن ہے جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16571
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2824)»
حدیث نمبر: 16572
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رُكْبَانًا فَمَرَرْنَا بِهَجْمَةٍ فَقَالُوا : لِمَنْ هَذِهِ ؟ قَالُوا : لِبَنِي الْعَنْبَرِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُولَئِكَ قَوْمُنَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ فِي الْإِمَامِ : وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، ہمارا گزر 100 اونٹوں کے لگ بھگ کے پاس سے ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کن کے ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : بنو عنبر کے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ لوگ ہماری قوم ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن دقیق العید کہتے ہیں : اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16572
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7604)»
حدیث نمبر: 16573
وَعَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ : أَنَّ رَجُلًا نَالَ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَهُ ، فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى لِيَحْصِبَهُ بِهِ . ¤ وَقَالَ عِكْرِمَةُ : حَدَّثَنِي فُلَانٌ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ تَمِيمًا ذُكِرُوا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : فَقَالَ رَجُلٌ : أَبْطَأَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مُزَيْنَةَ فَقَالَ : " مَا أَبْطَأَ قَوْمٌ هَؤُلَاءِ مِنْهُمْ " . ¤ وَقَالَ رَجُلٌ يَوْمًا : أَبْطَأَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ بِصَدَقَاتِهِمْ ، فَأَقْبَلَتْ نَعَمٌ حُمْرٌ وَسُودٌ لِبَنِي تَمِيمٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَؤُلَاءِ نَعَمُ قَوْمِي " . ¤ وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقَالَ : " لَا تَقُلْ لِبَنِي تَمِيمٍ إِلَّا خَيْرًا ; فَإِنَّهُمْ أَطْوَلُ النَّاسِ رِمَاحًا عَلَى الدَّجَّالِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عکرمہ بن خالد بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص نے ان کی موجودگی میں بنو تمیم کو برا بھلا کہا: ، تو عکرمہ نے اپنے ہاتھ میں کنکریاں اُٹھا لیں ، تاکہ وہ اس شخص کو ماریں ، پھر عکرمہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمیم قبیلہ کا ذکر کیا گیا تو ایک شخص نے یہ کہا: بنو تمیم کا یہ قبیلہ اس معاملے میں تاخیر سے کام لے رہا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزینہ کی طرف دیکھا اور فرمایا : وہ قوم تاخیر کرنے والی نہیں ہو گی ، جن میں یہ لوگ شامل ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص نے یہ کہا: بنو تمیم کے لوگ صدقہ لانے میں تاخیر کر رہے ہیں ، اسی دوران بنو تمیم کے سرخ اور سیاہ اونٹ آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ میری قوم کے جانور ہیں ۔ ایک دن ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنو تمیم پر تنقید کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بنو تمیم کے بارے میں صرف بھلائی کی بات کہو ، کیونکہ دجال کے خلاف اُن کے نیزے سب سے زیادہ لمبے ہوں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16573
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (186/4)»