کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: احمس قبیلے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 16575
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : قَدِمَ وَفْدُ بَجِيلَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اكْتُبُوا الْبَجَلِيِّينَ وَابْدَءُوا بِالْأَحْمُسِيِّينَ " . قَالَ : فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ ، قَالَ : حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَقُولُ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَدَعَا لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَ مَرَّاتٍ : " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ ، - أَوِ اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِمْ - " . مُخَارِقٌ الَّذِي شَكَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ” بجیلہ “ قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بجیلہ قبیلے کے لوگوں کا نام نوٹ کرو اور احمس قبیلے کے لوگوں سے آغاز کرو ! راوی بیان کرتے ہیں : اس قبیلے کا ایک فرد پیچھے رہ گیا ، راوی کہتے ہیں : میں اس بات کا جائزہ لے رہا تھا کہ اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے کیا کہتے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لئے پانچ مرتبہ دعا کی : ” اے اللہ ! ان پر رحمت نازل فرما ! “ ۔ یا شاید یہی الفاظ تھے : ” اے اللہ ! ان میں برکت رکھ دے ۔ “ یہ شک مخارق نامی راوی کو ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16575
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (315/4)»
حدیث نمبر: 16576
وَفِي رِوَايَةٍ : قَدِمَ وَفْدُ أَحْمُسَ وَوَفْدُ قَيْسٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ابْدَءُوا بِالْأَحْمُسِيِّينَ قَبْلَ الْقَيْسِيِّينَ " . ثُمَّ دَعَا لِأَحْمُسَ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي أَحْمُسَ وَخَيْلِهَا وَرِجَالِهَا " . سَبْعَ مَرَّاتٍ . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " ابْدَءُوا بِالْأَحْمُسِيِّينَ قَبْلَ الْقَيْسِيِّينَ " . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” احمس قبیلے کے اور قیس قبیلے کے لوگوں کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیس قبیلے سے پہلے احمس قبیلے کے لوگوں کو آنے دو ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احمس قبیلے کے لوگوں کے لئے دعا کرتے ہوئے یہ کہا: ” اے اللہ ! تو احمس قبیلے کے لوگوں ، اُن کے گھڑ سواروں اور ان کے پیادہ افراد میں برکت رکھ دے ! “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مرتبہ ارشاد فرمائے ۔
یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، امام طبرانی نے ان کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں قبیلے سے پہلے احمس قبیلے کے لوگوں کو آنے دو ! “ ۔ ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16576
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8211) اخرجه احمد فى المسند (315/4)»
حدیث نمبر: 16577
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَافِعًا يَدَيْهِ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى خَيْلِ أَحْمُسَ وَرِجَالِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن عرفطہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں ہاتھ بلند کر کے یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا ہے : ” اے اللہ ! تو احمس قبیلے کے گھڑ سواروں اور ان کے پیادہ افراد پر برکت نازل فرما ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16577
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4110)»