کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: صحابہ کرام کے بارے میں ، جو منقول ہے اور اُنہیں برا کہنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 16423
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَأَصْحَابِي يَقِلُّونَ ، فَلَا تَسُبُّوهُمْ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
” دوسرے لوگ زیادہ ہو جائیں گے اور میرے اصحاب کم ہو جائیں گے ، تو تم انہیں برا نہ کہو ، اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ، جو انہیں برا کہتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
” دوسرے لوگ زیادہ ہو جائیں گے اور میرے اصحاب کم ہو جائیں گے ، تو تم انہیں برا نہ کہو ، اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ، جو انہیں برا کہتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 16424
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَلَفْظُهُ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي " . وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ سَيْفُ بْنُ عُمَرَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَفِي إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَيْفٍ الْخَوَارِزْمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” جو شخص میرے اصحاب کو برا کہے ، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں :
” اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ، جو میرے اصحاب کو برا کہتا ہے ۔ “
امام بزار کی سند میں ایک راوی سیف بن عمر ہے اور وہ متروک ہے اور امام طبرانی کی دو اسناد میں ایک راوی عبداللہ بن سیف خوارزمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
” جو شخص میرے اصحاب کو برا کہے ، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں :
” اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ، جو میرے اصحاب کو برا کہتا ہے ۔ “
امام بزار کی سند میں ایک راوی سیف بن عمر ہے اور وہ متروک ہے اور امام طبرانی کی دو اسناد میں ایک راوی عبداللہ بن سیف خوارزمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 16425
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : ذُكِرَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَقَعُوا فِيهِ ، يُقَالُ لَهُ : رَأْسُ الْمُنَافِقِينَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعُوا أَصْحَابِي لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مالک بن دخشن کا ذکر کیا گیا ، لوگوں نے اس پر تنقید کی ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا : وہ منافقین کا سردار ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میرے اصحاب کو رہنے دو ، تم میرے اصحاب کو برا نہ کہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16426
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي لَعَنَهُ اللَّهُ ، وَالْمَلَائِكَةُ ، وَالنَّاسُ أَجْمَعُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي فَضْلِ الصَّحَابَةِ بَعْضُ هَذَا فِي ضِمْنِ أَحَادِيثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” جو شخص میرے اصحاب کو برا کہے گا ، اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور انسانوں ، سب کی اس پر لعنت ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے صحابہ کرام کی فضیلت سے متعلق باب میں ، اس نوعیت کی کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔
” جو شخص میرے اصحاب کو برا کہے گا ، اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور انسانوں ، سب کی اس پر لعنت ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے صحابہ کرام کی فضیلت سے متعلق باب میں ، اس نوعیت کی کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 16427
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَالَ : تَأْمُرُونِي بِسَبِّ أَصْحَابِي ، بَلْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ ، وَغَفَرَ لَهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگ مجھے یہ کہہ رہے ہوں کہ میں اپنے ساتھیوں کو برا کہوں ، بلکہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نازل کرے اور ان کی مغفرت کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16428
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أُمِرْتُمْ بِالِاسْتِغْفَارِ لِسَلَفِكُمْ فَشَتَمْتُمُوهُمْ ، أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَفْنَى هَذِهِ الْأُمَّةُ حَتَّى يَلْعَنَ آخِرُهَا أَوَّلُهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تمہیں اپنے اسلاف کے لئے دعائے مغفرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور تم لوگ انہیں برا کہتے ہو ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” یہ امت اس وقت تک فنا نہیں ہو گی ، جب تک اس کے آخری زمانے کے لوگ ، پہلے والوں پر لعنت نہیں کریں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم بن مہاجر ہے اور وہ شخص ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم بن مہاجر ہے اور وہ شخص ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16429
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ سَهْلٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ میرے اصحاب کو برا نہ کہو ، اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے ، جو میرے اصحاب کو برا کہتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن سہل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن سہل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 16430
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَبَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ ، وَقَدْ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میرے اصحاب میں سے کسی ایک کو برا کہے گا ، اُس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اُن صحابی کے حوالے سے ایک روایت منقول ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں ، جن کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں ، جن کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 16431
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَتْ لَيْلَتِي ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدِي ، فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ فَسَبَقَهَا عَلِيٌّ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَلِيُّ ، أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ فِي الْجَنَّةِ ، إِلَّا أَنَّهُ مِمَّنْ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُحِبُّكَ أَقْوَامٌ يَرْفُضُونَ الْإِسْلَامَ ، ثُمَّ يَلْفِظُونَهُ ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيهِمْ ، لَهُمْ نَبَزٌ يُقَالُ لَهُمْ : الرَّافِضَةُ ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُمْ فَجَاهِدْهُمْ ; فَإِنَّهُمْ مُشْرِكُونَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْعَلَامَةُ فِيهِمْ ؟ قَالَ : " لَا يَشْهَدُونَ جُمُعَةً وَلَا جَمَاعَةً ، وَيَطْعَنُونَ عَلَى السَّلَفِ الْأَوَّلِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ غَانِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میری باری کی مخصوص رات تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس موجود تھے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان سے سبقت لے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے علی ! تم اور تمہارے ساتھی جنت میں ہوں گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو یہ کہتا ہے ، وہ تم سے محبت رکھتا ہے ، کچھ لوگ ہیں ، جو اسلام کو پرے کر دیں گے اور اسے ایک طرف پھینک دیں گے ، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ اُن کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ، ان کا ایک مخصوص نام ہو گا انہیں ” رافضہ “ کہا: جائے گا ، جب تم اُن کا زمانہ پاؤ ، تو ان کے ساتھ جہاد کرنا ، کیونکہ وہ لوگ مشرک ہوں گے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اُن کے درمیان موجود مخصوص نشانی کیا ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ جمعہ اور جماعت میں شریک نہیں ہوں گے اور پہلے کے اسلاف پر طعن کریں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن غانم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن غانم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16432
وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ قَالَتْ : نَظَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَلِيٍّ فَقَالَ : " هَذَا فِي الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ يَلْفِظُونَ الْإِسْلَامَ يَرْفُضُونَهُ ، لَهُمْ نَبَزٌ يُسَمُّونَ الرَّافِضَةَ ، مَنْ لَقِيَهُمْ فَلْيَقْتُلْهُمْ ; فَإِنَّهُمْ مُشْرِكُونَ " . رَوَاهُ أَبْو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ عَلِيٍّ لَمْ تَسْمَعْ مِنْ فَاطِمَةَ فِيمَا أَحْسِبُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کی طرف دیکھا اور فرمایا : یہ جنت میں جائے گا اور اس کے گروہ میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اسلام کو پھینک دیں گے اور وہ اسے پرے کر دیں گے ، اُن کا مخصوص نام ہو گا انہیں رافضہ کہا: جائے گا ، جو شخص ان سے ملے وہ اُن سے لڑے ، کیونکہ وہ لوگ مشرک ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ میرے خیال میں سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ میرے خیال میں سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 16433
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يُنْبَزُونَ الرَّافِضَةُ يَرْفُضُونَ الْإِسْلَامَ وَيَلْفِظُونَهُ ، قَاتِلُوهُمْ فَإِنَّهُمْ مُشْرِكُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آخری زمانے میں کچھ لوگ آئیں گے جن کا نام رافضہ ہو گا ، وہ اسلام کو پرے کر دیں گے اور اسے پھینک دیں گے ، تم اُن کے ساتھ لڑائی کرنا ، کیونکہ وہ لوگ مشرک ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 16434
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ عَلِيٌّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَلِيُّ ، سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي قَوْمٌ يَنْتَحِلُونَ حُبَّ أَهْلِ الْبَيْتِ ، لَهُمْ نَبَزٌ يُسَمَّوْنَ الرَّافِضَةَ ، قَاتِلُوهُمْ فَإِنَّهُمْ مُشْرِكُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پاس موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے علی ! عنقریب میری امت میں ایسے لوگ آئیں گے ، جو اہل بیت کے ساتھ محبت کا دعویٰ کریں گے ، اُن کا مخصوص نام ہو گا ، انہیں رافضہ کہا: جائے گا ، تم اُن کے ساتھ لڑائی کرنا ، کیونکہ وہ لوگ مشرک ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 16435
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَظْهَرُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ ، قَوْمٌ يُسَمَّوْنَ الرَّافِضَةَ يَرْفُضُونَ الْإِسْلَامَ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كَبِيرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّوَّاءُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” آخری زمانے میں ایسے لوگ ظاہر ہوں گے ، جن کا نام رافضہ ہو گا وہ اسلام کو پرے کر دیں گے ۔ “
یہ روایت عبداللہ اور بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کبیر بن اسماعیل النواء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
” آخری زمانے میں ایسے لوگ ظاہر ہوں گے ، جن کا نام رافضہ ہو گا وہ اسلام کو پرے کر دیں گے ۔ “
یہ روایت عبداللہ اور بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کبیر بن اسماعیل النواء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16436
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ : أَوْصِنِي . فَقَالَ : أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَإِيَّاكَ وَذِكْرُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا سَبَقَ لَهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور بولا: مجھے کوئی تلقین کیجئے ، تو انہوں نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہوں ، اور تم اللہ کے رسول کے اصحاب کا ذکر کرتے ہوئے احتیاط سے کام لینا ، کیونکہ تم یہ بات نہیں جانتے کہ اُن کے لئے کیا چیز سبقت لے جا چکی ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16437
وَعَنْ كُرَيْبٍ [ أَنَّ ] ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ : يَا غُلَامُ إِيَّاكَ وَسَبَّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّهَا مَعِيبَةٌ . ¤
محمد محی الدین
کریب بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اُن سے فرمایا : اے لڑکے ! تم اللہ کے رسول کے اصحاب کو برا کہنے سے بچنا ، کیونکہ یہ ایک معیوب بات ہے ۔
حدیث نمبر: 16438
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : الشِّيعَةُ يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا يَرْجِعُ ؟ قَالَ : كَذَبَ أُولَئِكَ الْكَذَّابُونَ ، لَوْ عَلِمْنَا ذَلِكَ مَا تَزَوَّجَ نِسَاؤُهُ ، وَلَا قَسَمْنَا مِيرَاثَهُ . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
عاصم بن ضمرہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہا: شیعہ یہ گمان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ( دنیا میں ) واپس آ جائیں گے ، تو انہوں نے فرمایا : یہ لوگ جھوٹے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں ، اگر ہمیں اس بات کا پتہ ہوتا ، تو آپ رضی اللہ عنہ کی ازواج نے دوسری شادی نہیں کرنی تھی ، اور نہ ہی ہم نے اُن کی وارثت تقسیم کرنی تھی ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔