کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قس بن ساعدہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16184
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَيُّكُمْ يَعْرِفُ الْقُسَّ بْنَ سَاعِدَةَ الْإِيَادِيَّ ؟ " . فَقَالُوا : كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعْرِفُهُ قَالَ : " فَمَا فَعَلَ ؟ " . قَالُوا : هَلَكَ قَالَ : " مَا أَنْسَاهُ بِعُكَاظٍ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ، وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اجْتَمِعُوا وَاسْمَعُوا وَعُوا ، مَنْ عَاشَ مَاتَ ، وَمَنْ مَاتَ فَاتَ ، وَكُلُّ مَا هُوَ آتٍ آتٍ ، إِنَّ فِي السَّمَاءِ لَخَبَرًا ، وَإِنَّ فِي الْأَرْضِ لَعِبَرًا ، مِهَادٌ مَوْضُوعٌ ، وَسَقْفٌ مَرْفُوعٌ ، وَنُجُومٌ تَمُورُ ، وَبِحَارٌ لَا تَغُورُ ، أَقْسَمَ قُسٌّ قَسَمًا حَقًّا ، لَئِنْ كَانَ فِي الْأَرْضِ رِضًا لَيَكُونَنَّ بَعْدَهُ سَخَطٌ ، إِنَّ لِلَّهِ دِينًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ دِينِكُمُ الَّذِي أَنْتُمْ عَلَيْهِ ، مَا لِي أَرَى النَّاسَ يَذْهَبُونَ فَلَا يَرْجِعُونَ ، أَرَضَوْا بِالْمُقَامِ فَأَقَامُوا ؟ أَمْ تُرِكُوا فَنَامُوا ؟ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَفِيكُمُ مَنْ يَرْوِي شِعْرَهُ ؟ . " . فَأَنْشَدَهُ بَعْضُهُمْ : ¤ فِي الذَّاهِبِينَ الْأَوَّلِينَ مِنَ الْقُرُونِ لَنَا بَصَائِرْ لَمَّا رَأَيْتُ مَوَارِدًا ¤ لِلْمَوْتِ لَيْسَ لَهَا مَصَادِرْ وَرَأَيْتُ قَوْمِي نَحْوَهَا ¤ يَسْعَى الْأَصَاغِرُ وَالْأَكَابِرْ لَا يَرْجِعُ الْمَاضِي إِلَيْكَ ¤ وَلَا مِنَ الْبَاقِينَ غَابِرْ أَيْقَنْتُ أَنِّي لَا مَحَالَةَ ¤ حَيْثُ صَارَ الْقَوْمُ صَائِرْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ اللَّخْمِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم میں سے کون قس بن ساعدہ ایادی کو جانتا ہے ؟ تو لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم سب ان کو جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا کیا حال ہے ؟ لوگوں نے بتایا : وہ فوت ہو گئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اسے بھولا نہیں ہوں ، میں حرمت والے مہینے میں اسے عکاظ کے میلے میں ملا تھا ، وہ سرخ اونٹ پر سوار تھا اور وہ لوگوں کو خطبہ دے رہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا :
” اے لوگو ! اکٹھے ہو جاؤ ، بات کو سنو اور اسے محفوظ رکھو ، جو شخص زندہ رہتا ہے ، وہ مر بھی جاتا ہے ، اور جو مر جاتا ہے ، وہ فوت ہو جاتا ہے ، جو چیز آنی ہے ، وہ آ کے رہنی ہے ، آسمان میں خبر ہے ، اور زمین میں عبرت کی چیزیں ہیں ، ایک بچھونا بچھا دیا گیا ہے اور ایک چھت بلند کر دی گئی ہے ، اور ستارے چمک رہے ہیں ، اور سمندر طغیانی میں ہیں ، قس سچی قسم اٹھاتا ہے کہ زمین میں اگر کسی کے ساتھ رضامندی ہو گی تو اس کے بعد ناراضگی بھی ہو گی ، اور اللہ تعالیٰ کا ایک مخصوص دین ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہارے دین سے زیادہ پسندیدہ ہے ، جس دین پر تم گامزن ہو ، کیا وجہ ہے کہ میں لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ چلے جاتے ہیں اور پھر واپس نہیں آتے ہیں ، کیا وہ اس مقام سے راضی ہو گئے ہیں اور وہاں ٹھہر گئے ہیں ؟ یا انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے اور وہ سو گئے ہیں ۔ “
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص موجود ہے ؟ جو اس کے اشعار سنائے ، تو ان لوگوں میں سے کسی نے ان کے یہ اشعار سنائے :
” پہلے کی صدیوں میں گزر جانے والے افراد میں ، ہمارے لیے بصیرت ہے ، جب میں نے موت کے گھاٹوں کو دیکھا ، تو میں نے موت سے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں پایا ، اور میں نے اپنی قوم کو دیکھا کہ چھوٹے بڑے ( سب ) اسی ( موت ) کی طرف دوڑے جا رہے ہیں ، گزرا ہوا ( وقت ، یا فرد ) تمہاری طرف واپس نہیں آئے گا ، اور باقی رہ جانے والوں میں سے کوئی ( ہمیشہ ، دنیا میں ) ٹھہرا نہیں رہے گا ، تو ( یہ سب دیکھ کر مجھے یقین آ گیا ) کہ میں نے بھی وہیں جانا ہے جہاں قوم ( یعنی باقی سب لوگ گئے ہیں ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجاج لخمی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16184
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12561)»