حدیث نمبر: 16185
عَنْ جَرِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارا بھائی نجاشی فوت ہو گیا ہے ، تم لوگ اس کے لئے دعائے مغفرت کرو ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16186
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : لَمَّا أَتَيْنَا النَّجَاشِيَّ فَأَرَدْنَا الْخُرُوجَ مِنْ عِنْدِهِ ، حَمَلَنَا وَزَوَّدَنَا وَأَعْطَانَا ، ثُمَّ قَالَ : أَخْبِرُوا صَاحِبَكُمْ بِمَا صَنَعْتُ بِكُمْ ، وَهَذِهِ رُسُلِي مَعَكُمْ ، وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرُ لِي . ¤ قَالَ جَعْفَرٌ : فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ ، فَتَلَقَّانِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاعْتَنَقَنِي ، وَقَالَ : " مَا أَدْرِي أَنَا بِفَتْحِ خَيْبَرَ أَفْرَحُ ، أَمْ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ " . ثُمَّ جَلَسَ ، فَقَامَ رَسُولُ النَّجَاشِيِّ فَقَالَ : هَذَا جَعْفَرٌ فَسَلْهُ عَمَّا صَنَعَ بِهِ صَاحِبُنَا ، فَقَالَ جَعْفَرٌ : قَدْ فَعَلَ بِنَا ، وَحَمَلَنَا ، وَزَوَّدَنَا ، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَقَالَ لَنَا : قُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرُ لِي ، فَدَعَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلنَّجَاشِيِّ " . فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : آمِينَ قَالَ : فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ : انْطَلِقْ فَأَبْلِغْ صَاحِبَكَ مَا رَأَيْتَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَسَدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَثَّقَهُمَا غَيْرُ وَاحِدٍ وَضَعَّفَهُمَا جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم لوگ نجاشی کے پاس آئے ، پھر ہم نے واپسی کا ارادہ کیا ، تو اس نے ہمیں سواریاں فراہم کیں اور ہمیں زادراہ دیا اور ہمیں دوسری چیزیں دیں اور پھر بولا: میں نے تم لوگوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے ، تم اس کے بارے میں اپنے آقا کو بتا دینا ، یہ نمائندے تمہارے ساتھ ہیں ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور وہ اللہ کے رسول ہیں ، تم اُن سے یہ کہنا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ۔
سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم اس کے پاس سے روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ مدینہ منورہ آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب مجھ سے ملاقات ہوئی ، تو آپ نے مجھے گلے سے لگا لیا اور فرمایا : مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ مجھے خیبر کے فتح ہونے کی زیادہ خوشی ہو رہی ہے یا جعفر کے آنے کی ؟ پھر آپ تشریف فرما ہوئے ، نجاشی کا قاصد کھڑا ہوا ، اس نے کہا: یہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ موجود ہیں ، آپ ان سے پوچھ لیں کہ ہمارے آقا نے ان کے ساتھ کیا طرز سلوک اختیار کیا ہے ؟ تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے بتایا : اُس نے ہمارے ساتھ یہ ، یہ کیا ہے ، اس نے ہمیں سواریوں کے جانور دیے ، ہمیں زاد سفر دیا اور اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، اور اس نے یہ کہا: کہ آپ ان سے یہ کہہ دیجئے گا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ دعا کی : اے اللہ ! نجاشی کی مغفرت کر دے ! اور مسلمانوں نے اس پر آمین کہا: ، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے قاصد سے کہا: اب تم جاؤ اور اپنے آقا کو وہ چیز بتا دینا ، جو تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے دیکھی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسد بن عمرو اور ایک راوی مجالد بن سعید ہیں ، ایک سے زیادہ افراد نے ان دونوں کو ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے ان دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم اس کے پاس سے روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ مدینہ منورہ آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب مجھ سے ملاقات ہوئی ، تو آپ نے مجھے گلے سے لگا لیا اور فرمایا : مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ مجھے خیبر کے فتح ہونے کی زیادہ خوشی ہو رہی ہے یا جعفر کے آنے کی ؟ پھر آپ تشریف فرما ہوئے ، نجاشی کا قاصد کھڑا ہوا ، اس نے کہا: یہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ موجود ہیں ، آپ ان سے پوچھ لیں کہ ہمارے آقا نے ان کے ساتھ کیا طرز سلوک اختیار کیا ہے ؟ تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے بتایا : اُس نے ہمارے ساتھ یہ ، یہ کیا ہے ، اس نے ہمیں سواریوں کے جانور دیے ، ہمیں زاد سفر دیا اور اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، اور اس نے یہ کہا: کہ آپ ان سے یہ کہہ دیجئے گا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ دعا کی : اے اللہ ! نجاشی کی مغفرت کر دے ! اور مسلمانوں نے اس پر آمین کہا: ، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے قاصد سے کہا: اب تم جاؤ اور اپنے آقا کو وہ چیز بتا دینا ، جو تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے دیکھی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسد بن عمرو اور ایک راوی مجالد بن سعید ہیں ، ایک سے زیادہ افراد نے ان دونوں کو ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے ان دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16187
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : " وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ " . قَالَ : نَزَلَتْ فِي النَّجَاشِيِّ وَأَصْحَابِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ بَحْرٍ الْعُقَيْلِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت نازل ہوئی :
” جب ان لوگوں نے وہ چیز سنی ، جو رسول کی طرف نازل کی گئی تھی ، تو تم ان کی آنکھوں کو دیکھو گے کہ اُن سے آنسو جاری ہو گئے ۔ “
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ آیت نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عثمان بن بحر عقیلی کا عامل مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
” جب ان لوگوں نے وہ چیز سنی ، جو رسول کی طرف نازل کی گئی تھی ، تو تم ان کی آنکھوں کو دیکھو گے کہ اُن سے آنسو جاری ہو گئے ۔ “
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ آیت نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عثمان بن بحر عقیلی کا عامل مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 16188
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ " . فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ : يَأْمُرُنَا أَنْ نَسْتَغْفِرَ لَهُ وَقَدْ مَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ ، فَنَزَلَتْ : " وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ " الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، أَحَدُهُمَا قَالَ فِيهِ : " صَلُّوا عَلَيْهِ " . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ فِي الْجَنَائِزِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْغَائِبِ ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ ، وَفِي هَذِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْجَنَائِزِ . وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نجاشی کا انتقال ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے بھائی کے لئے دعائے مغفرت کرو ! بعض لوگوں نے کہا: یہ ہمیں اس کے لئے دعائے مغفرت کرنے کا کہہ رہے ہیں حالانکہ وہ حبشہ کی سرزمین پر فوت ہوا ہے ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :
” اہل کتاب میں سے کچھ لوگ وہ ہیں ، جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس چیز پر ایمان لاتے ہیں ، جو تمہاری طرف نازل کی گئی اور اس پر بھی جو ان کی طرف نازل کی گئی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دو اسناد میں سے ایک میں انہوں نے یہ کہا: ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کے لئے دعائے رحمت کرو ۔
اس سے پہلے کتاب الجنائز میں ، غائبہ نماز سے متعلق باب میں ، روایت گزر چکی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
اس سے پہلے کتاب الجنائز میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، باقی اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے ۔
” اہل کتاب میں سے کچھ لوگ وہ ہیں ، جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس چیز پر ایمان لاتے ہیں ، جو تمہاری طرف نازل کی گئی اور اس پر بھی جو ان کی طرف نازل کی گئی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دو اسناد میں سے ایک میں انہوں نے یہ کہا: ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کے لئے دعائے رحمت کرو ۔
اس سے پہلے کتاب الجنائز میں ، غائبہ نماز سے متعلق باب میں ، روایت گزر چکی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
اس سے پہلے کتاب الجنائز میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، باقی اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے ۔