حدیث نمبر: 16179
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : خَرَجَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ وَزَيْدُ بْنُ عَمْرٍو يَطْلُبَانِ الدِّينَ ، حَتَّى مَرَّا بِالشَّامِ ، فَأَمَّا وَرَقَةُ فَتَنَصَّرَ ، وَأَمَّا زَيْدٌ فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى الْمَوْصِلَ ، فَإِذَا هُوَ بِرَاهِبٍ ، فَقَالَ : مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ صَاحِبُ الرَّاحِلَةِ ؟ قَالَ : مِنْ بَيْتِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : مَا تَطْلُبُ ؟ قَالَ : الدِّينَ ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ النَّصْرَانِيَّةَ ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ ، وَقَالَ : لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا . قَالَ : أَمَا إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ سَيَظْهَرُ بِأَرْضِكَ ، فَانْطَلَقَ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ لَبَّيْكَ حَقًّا حَقًّا تَعَبُّدًا وَرِقًّا الْبِرَّ أَبْغِي لَا الْحَالْ ¤ وَهَلْ مُهَاجِرٌ كَمَا قَالْ عُذْتُ بِمَا عَاذَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ [ وَهُوَ قَائِمٌ ، وَأَنْفَي لَكَ اللَّهُمَّ عَانَ ، رَاغِمْ بِهَا تَجَشَّمَنِي ، فَإِنِّي جَاشِمٌ ] . ¤ ثُمَّ يَنْحَنِي فَيَسْجُدُ لِلْكَعْبَةِ . ¤ قَالَ : فَمَرَّ زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ وَهُمَا يَأْكُلَانِ مِنْ سُفْرَةٍ [ لَهُمَا ] ، فَدَعَيَاهُ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، لَا آكُلُ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ قَالَ : فَمَا رُئِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْكُلُ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ حَتَّى بُعِثَ . ¤ قَالَ : وَجَاءَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ زَيْدًا كَانَ كَمَا رَأَيْتَ أَوْ كَمَا بَلَغَكَ ، فَاسْتَغْفِرْ لَهُ . قَالَ : " نَعَمْ ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ; فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ورقہ بن نوفل اور زید بن عمرو ، دین کی تلاش میں نکلے ، ان دونوں کا گزر شام سے ہوا ، وہاں ورقہ نے عیسائیت اختیار کر لی ، زید سے یہ کہا: گیا : آپ جو چیز تلاش کر رہے ہیں ، وہ آگے ہے ، وہ آگے روانہ ہو گئے ، یہاں تک کہ وہ موصل پہنچ گئے ، وہاں ایک راہب موجود تھا ، اس نے دریافت کیا : یہ سواری والا شخص کہاں سے آیا ہے ؟ زید نے بتایا : سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بنائے ہوئے گھر کے پاس سے ، اس راہب نے دریافت کیا : تم کیا تلاش کر رہے ہو ؟ زید نے جواب دیا : دین ، راہب نے انہیں عیسائیت کی پیش کش کی ، تو زید نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور یہ کہا: مجھے اس میں دلچسپی نہیں ہے ، راہب نے کہا: تم جو تلاش کر رہے ہو ، وہ عنقریب تمہاری سرزمین پر ظاہر ہو گا ، پھر وہ یہ کہتے ہوئے روانہ ہو گئے :
” میں حاضر ہوں ، حق کے لئے ، حق کے لئے ، عبادت گزاری کے لئے اور نرمی کے لئے ، میں نیکی تلاش کر رہا ہوں جو ابھی نہیں ملی ہے ، کیا کوئی مہاجر ہے ، جس طرح اس نے کہا: ہے ، میں اس ذات کی پناہ مانگتا ہوں ، جس کی پناہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مانگی تھی ، جبکہ وہ قیام کی حالت میں تھے ۔ “
پھر وہ جھک گئے اور انہوں نے خانہ کعبہ کے سامنے سجدہ کیا ۔
راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ زید بن عمرو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اپنے تھیلے میں سے کھانا نکال کر کھا رہے تھے ، ان دونوں نے اسے دعوت دی ، انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے ! میں اس جانور کو نہیں کھاتا ، جسے بت کے پاس ذبح کیا گیا ہو ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کوئی ایسی چیز کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ، جسے بت کے پاس ذبح کیا گیا ہو ، یہاں تک کہ آپ کو مبعوث کر دیا گیا ، راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ( میرے مرحوم والد ) زید ویسے ہی تھے ، جیسا کہ آپ نے انہیں خود ملاحظہ کیا ہے ، یا جس طرح آپ کو ان کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں ، تو آپ ان کے لئے دعائے مغفرت کیجئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، تم لوگ بھی اس کے لئے دعائے مغفرت کرو ! کیونکہ قیامت کے دن اُسے ایک امت کے طور پر زندہ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
” میں حاضر ہوں ، حق کے لئے ، حق کے لئے ، عبادت گزاری کے لئے اور نرمی کے لئے ، میں نیکی تلاش کر رہا ہوں جو ابھی نہیں ملی ہے ، کیا کوئی مہاجر ہے ، جس طرح اس نے کہا: ہے ، میں اس ذات کی پناہ مانگتا ہوں ، جس کی پناہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مانگی تھی ، جبکہ وہ قیام کی حالت میں تھے ۔ “
پھر وہ جھک گئے اور انہوں نے خانہ کعبہ کے سامنے سجدہ کیا ۔
راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ زید بن عمرو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اپنے تھیلے میں سے کھانا نکال کر کھا رہے تھے ، ان دونوں نے اسے دعوت دی ، انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے ! میں اس جانور کو نہیں کھاتا ، جسے بت کے پاس ذبح کیا گیا ہو ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کوئی ایسی چیز کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ، جسے بت کے پاس ذبح کیا گیا ہو ، یہاں تک کہ آپ کو مبعوث کر دیا گیا ، راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ( میرے مرحوم والد ) زید ویسے ہی تھے ، جیسا کہ آپ نے انہیں خود ملاحظہ کیا ہے ، یا جس طرح آپ کو ان کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں ، تو آپ ان کے لئے دعائے مغفرت کیجئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، تم لوگ بھی اس کے لئے دعائے مغفرت کرو ! کیونکہ قیامت کے دن اُسے ایک امت کے طور پر زندہ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16180
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ هُوَ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، فَمَرَّ بِهِمَا زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، فَدَعَوَاهُ إِلَى سُفْرَةٍ لَهُمَا ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِنِّي لَا آكُلُ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ . ¤ قَالَ : فَمَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ذَلِكَ يَأْكُلُ شَيْئًا مِمَّا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ . ¤ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبِي كَانَ كَمَا قَدْ رَأَيْتَ وَبَلَغَكَ ، وَلَوْ أَدْرَكَكَ آمَنَ بِكَ وَاتَّبَعَكَ ; فَاسْتَغْفِرْ لَهُ ، قَالَ : " نَعَمْ ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ; فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مکہ میں موجود تھے ، اسی دوران زید بن عمرو بن نفیل ، ان کے پاس سے گزرے ان دونوں نے انہیں کھانے کی دعوت دی ، تو زید نے کہا: اے میرے بھتیجے ! میں اس جانور کو نہیں کھاتا ، جسے بت کے پاس ذبح کیا گیا ہو ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایسی چیز کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ، جسے بت کے پاس ذبح کیا گیا ہو ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ میرے والد ( یعنی زید بن عمرو بن نفیل ) ویسے تھے جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا ، اور جیسا کہ آپ کو اس بارے میں اطلاع ملی ، اگر وہ آپ کا زمانہ پا لیتے ، تو آپ پر ایمان لے آتے اور آپ کی پیروی کرتے ، تو آپ اُن کے لئے دعائے مغفرت کیجئے ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، تم لوگ اس کے لئے دعائے مغفرت کرو ! کیونکہ اُسے قیامت کے دن ایک اُمت کے طور پر اٹھایا جائے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16181
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : سَأَلْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ زَيْدِ بْنِ عَمْرٍو ، فَقَالَ : " يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زید بن عمرو کے بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ قیامت کے دن ایک اُمت کی شکل میں آئے گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 16182
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا حَارًّا مِنْ أَيَّامِ مَكَّةَ وَهُوَ مُرْدِفِي إِلَى نُصُبٍ مِنَ الْأَنْصَابِ ، وَقَدْ ذَبَحْنَا لَهُ شَاةً فَأَنْضَجْنَاهَا . قَالَ : فَلَقِيَهُ زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، فَحَيَّا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ بِتَحِيَّةِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا زَيْدُ ، مَا لِي أَرَى قَوْمَكَ قَدْ شَنِفُوا لَكَ ؟ " . قَالَ : وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ ذَلِكَ لِغَيْرِ نَائِلَةٍ لِي مِنْهُمْ ، وَلَكِنِّي خَرَجْتُ أَبْتَغِي هَذَا الدِّينَ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَى أَحْبَارِ فَدَكٍ ، وَجَدْتُهُمْ يَعْبُدُونَ اللَّهَ وَيُشْرِكُونَ بِهِ . قَالَ : قُلْتُ : مَا هَذَا الدِّينُ الَّذِي أَبْتَغِي ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَى أَحْبَارِ الشَّامِ ، فَوَجَدْتُهُمْ يَعْبُدُونَ اللَّهَ وَيُشْرِكُونَ بِهِ ، قَلَّتُ : مَا هَذَا الدِّينُ الَّذِي أَبْتَغِي ، فَقَالَ شَيْخٌ مِنْهُمْ : إِنَّكَ لَتَسْأَلُ عَنْ دِينٍ مَا نَعْلَمُ أَحَدًا يَعْبُدُ اللَّهَ بِهِ إِلَّا شَيْخًا بِالْحِيرَةِ . قَالَ : فَخَرَجْتُ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنْ أَهْلِ بَيْتِ اللَّهِ مَنْ أَهْلِ الشَّوْكِ وَالْقَرْظِ ، فَقَالَ : إِنَّ الدِّينَ الَّذِي تُطْلُبُ قَدْ ظَهَرَ بِبِلَادِكَ ، قَدْ بُعِثَ نَبِيٌّ قَدْ ظَهَرَ نَجْمُهُ ، وَجَمِيعُ مَنْ رَأَيْتَهُمْ فِي ضَلَالٍ ، فَلَمْ أُحِسَّ بِشَيْءٍ بَعْدُ يَا مُحَمَّدُ . قَالَ : وَقَرَّبَ إِلَيْهِ السُّفْرَةَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا يَا مُحَمَّدُ ؟ فَقَالَ : " شَاةٌ ذَبَحْنَاهَا لِنُصُبٍ مِنَ الْأَنْصَابِ " . فَقَالَ : مَا كُنْتُ لِآكُلَ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ . ¤ قَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ : فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَيْتَ [ قَالَ : وَتَفَرَّقْنَا ] فَطَافَ بِهِ وَأَنَا مَعَهُ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ صَنَمَانِ مِنْ نُحَاسٍ ، أَحَدُهُمَا يُقَالُ لَهُ : يَسَافُ ، وَالْآخَرُ يُقَالُ لَهُ : نَائِلَةُ ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا طَافُوا تَمَسَّحُوا بِهِمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَمْسَحْهُمَا ; فَإِنَّهُمَا رِجْسٌ " . فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : لَأَمَسَّنَّهُمَا حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَقُولُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَسْتُهُمَا " يَا زَيْدُ ، أَلَمْ تُنْهَ ؟ " وَمَاتَ زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ يُبْعَثُ أُمَّةً وَحْدَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ : فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي خَرَجْتُ لَهُ ، فَقَالَ : كُلُّ مَنْ رَأَيْتَ فِي ضَلَالٍ ، وَإِنَّكَ لَتَسْأَلُ عَنْ دِينِ اللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ ، وَقَدْ خَرَجَ فِي أَرْضِكَ نَبِيٌّ أَوْ هُوَ خَارِجٌ ، فَارْجِعْ فَصَدِّقْهُ وَآمِنْ بِهِ . ¤ وَقَالَ أَيْضًا : فَقَالَ زَيْدٌ : إِنِّي لَا آكُلُ شَيْئًا ذُبِحَ لِغَيْرِ اللَّهِ . ¤ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ، وَالْبَزَّارِ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ ، رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک گرم دن میں ، مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر نکلا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا ، ہم ایک بت کی طرف گئے ، وہاں ہم نے ایک بکری ذبح کی اور پھر اسے پکایا ، راوی کہتے ہیں : زید بن عمرو بن نفیل کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، ان دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق سلام دعا کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے زید ! کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ کی قوم آپ سے ناپسندیدگی کے جذبات رکھتی ہے ، تو زید نے کہا: اللہ کی قسم ! اے محمد ! میں نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی ہے ، بلکہ میں دین حق کی تلاش میں نکلا تھا ، یہاں تک کہ میں فدک کے یہودی علماء کے پاس آیا ، تو میں نے ان لوگوں کو پایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور کسی کو اس کا شریک بھی قرار دیتے ہیں ، میں نے کہا: یہ دین کیا ہے ؟ جس کی تلاش میں نکلا ہوں ، پھر میں نکلا ، یہاں تک کہ میں شام کے علماء کے پاس آیا ، میں نے انہیں پایا کہ وہ اللہ کی عبادت بھی کرتے ہیں اور کسی کو اس کا شریک بھی ٹھہراتے ہیں ، میں نے کہا: یہ وہ دین نہیں ہے ، جس کی میں تلاش میں ہوں ، تو ان میں سے ایک بوڑھے نے کہا: تم جس دین کے بارے میں دریافت کر رہے ہو ، اس کے مطابق اللہ کی عبادت کرنے والا ہمارے علم کے مطابق صرف ایک شخص ہے ، جو حیرہ میں ہے ، میں وہاں سے نکلا اور اس شخص کے پاس آیا ، جب اس نے مجھے دیکھا ، تو اس نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ میں نے کہا: بیت اللہ کے پاس رہنے والوں سے ہے ، کانٹوں اور چمڑے میں رہنے والوں سے ہے ، تو اس نے کہا: وہ دین جو تم تلاش کر رہے ہو ، تمہارے علاقے میں ظاہر ہو جائے گا ، ایک نبی مبعوث ہوں گے ، جن کا ستارہ ظاہر ہو گا اور تم نے جتنے بھی لوگوں کو دیکھا ہے وہ سب گمراہ ہیں ، اے محمد ! اس کے بعد میں نے کوئی چیز محسوس نہیں کی ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کی چیز اس کے سامنے کی ، اس نے دریافت کیا : اے محمد ! یہ کیا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا : یہ ایک بکری ہے ، جسے ہم نے استھان پر ذبح کیا تھا ، تو اس نے کہا: میں ایسے جانور کا گوشت نہیں کھاتا ، جس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ۔
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس آئے ، ہم ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھ ، میں نے بیت اللہ کا طواف کیا ، صفا و مروہ کا چکر لگایا ، اس وقت صفا اور مروہ کے پاس پیتل کے بنے ہوئے دو بت تھے ، اُن میں سے ایک کا نام یساف تھا اور دوسرے کا نام نائلہ تھا ، مشرکین جب چکر لگاتے تھے ، تو ان دونوں پر ہاتھ پھیرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان دونوں پر ہاتھ نہ پھیرنا ، کیونکہ یہ دونوں ناپاک ہیں ، میں نے دل میں سوچا کہ میں ان دونوں پر ضرورت ہاتھ لگاؤں گا تاکہ میں اس بات کا جائزہ لوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہتے ہیں ؟ میں نے ان دونوں پر ہاتھ پھیر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے زید ! کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا ؟
پھر زید بن عمرو کا انتقال ہو گیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے ایک امت کے طور پر زندہ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : زید بن عمرو کہتے ہیں : میں نے اس راہب کو اس چیز کے بارے میں بتایا جس مقصد کے لئے میں نکلا تھا ، تو اس نے مجھ سے کہا: تم نے جتنے لوگوں کو دیکھا ہے ، وہ سب گمراہ ہیں ، تم اللہ کے دین اور فرشتوں کے دین کے بارے میں دریافت کر رہے ہو ، تمہارے علاقے میں ایک نبی کا ظہور ہو گا ، یا ظہور ہو چکا ہو گا ، تم واپس جاؤ اور ان کی تصدیق کرنا اور ان پر ایمان لانا ۔
اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : زید نے کہا: میں ایسی کوئی چیز نہیں کھاؤں گا ، جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ۔
امام ابویعلیٰ اور امام بزار کے رجال اور طبرانی کی اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس آئے ، ہم ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھ ، میں نے بیت اللہ کا طواف کیا ، صفا و مروہ کا چکر لگایا ، اس وقت صفا اور مروہ کے پاس پیتل کے بنے ہوئے دو بت تھے ، اُن میں سے ایک کا نام یساف تھا اور دوسرے کا نام نائلہ تھا ، مشرکین جب چکر لگاتے تھے ، تو ان دونوں پر ہاتھ پھیرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان دونوں پر ہاتھ نہ پھیرنا ، کیونکہ یہ دونوں ناپاک ہیں ، میں نے دل میں سوچا کہ میں ان دونوں پر ضرورت ہاتھ لگاؤں گا تاکہ میں اس بات کا جائزہ لوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہتے ہیں ؟ میں نے ان دونوں پر ہاتھ پھیر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے زید ! کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا ؟
پھر زید بن عمرو کا انتقال ہو گیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے ایک امت کے طور پر زندہ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : زید بن عمرو کہتے ہیں : میں نے اس راہب کو اس چیز کے بارے میں بتایا جس مقصد کے لئے میں نکلا تھا ، تو اس نے مجھ سے کہا: تم نے جتنے لوگوں کو دیکھا ہے ، وہ سب گمراہ ہیں ، تم اللہ کے دین اور فرشتوں کے دین کے بارے میں دریافت کر رہے ہو ، تمہارے علاقے میں ایک نبی کا ظہور ہو گا ، یا ظہور ہو چکا ہو گا ، تم واپس جاؤ اور ان کی تصدیق کرنا اور ان پر ایمان لانا ۔
اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : زید نے کہا: میں ایسی کوئی چیز نہیں کھاؤں گا ، جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ۔
امام ابویعلیٰ اور امام بزار کے رجال اور طبرانی کی اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 16183
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : كَانَ زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَقِفُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ ، وَيَلْزَقُ ظَهْرَهُ إِلَى صَفْحَتِهَا ، وَيَقُولُ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، مَا [ أَجِدُ ] عَلَى الْأَرْضِ عَلَى دِينِ إِبْرَاهِيمَ غَيْرِي [ وَكَانَ تَرَكَ عِبَادَةَ الْأَوْثَانِ ، وَأَكْلَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ ] ، وَكَانَ يَفْدِي الْمَوْءُودَةَ أَنْ تُقْتَلَ ، وَقَالَ عَمْرُو [ بْنُ زَيْدِ ] بْنِ نُفَيْلٍ : ¤ عُزِلَتِ الْجِنُّ وَالْجَنَانُ عَنِّي كَذَلِكَ يَفْعَلُ الْجَلِدُ الصَّبُورُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : زید بن عمرو بن نفیل ، زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ کے پاس کھڑے ہوتے تھے ، وہ اپنی پشت خانہ کعبہ کے ساتھ لگا دیتے تھے اور یہ کہتے تھے : اے قریش کے گروہ ! مجھے اپنے علاوہ روئے زمین پر دین ابراہیم کی پیروی کرنے والا اور کوئی فرد نہیں ملتا ، راوی کہتے ہیں : انہوں نے بتوں کی عبادت ترک کر دی تھی اور بتوں کے پاس جو جانور ذبح ہوتے تھے ، انہیں کھانا ترک کر دیا تھا ، جس بچی کو زندہ گاڑا جاتا تھا ، وہ فدیہ دے کر اسے قتل سے بچا لیتے تھے ، عمرو بن زید بن نفیل نے یہ اشعار کہے ہیں : ” میں نے جن اور جنان کو اپنے سے الگ کر دیا ، مضبوط اور صبر کرنے والا فرد ایسا ہی کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔