کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16170
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ : وُلِدْتُ فِي أَرْضِ الْحَبَشَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ ، وَلَهُ طَرِيقٌ فِي الْهِجْرَةِ إِلَى الْحَبَشَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حبشہ کی سرزمین پر پیدا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس کا ایک اور طریق حبشہ کی طرف ہجرت کرنے سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16170
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (239/19)»
حدیث نمبر: 16171
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ : لَمَّا قَدِمَتْ بِي أُمِّي مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حِينَ مَاتَ أَبِي حَاطِبٌ ، فَجَاءَتْ أُمِّي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ أَصَابَ إِحْدَى يَدَيْ حَرِيقٌ مِنْ نَارٍ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ ، ابْنُ أَخِيكَ ، وَقَدْ أَصَابَهُ هَذَا الْحَرْقُ مِنَ النَّارِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ : فَلَا أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا أَدْرِي أَنَفَثَ أَمْ مَسَحَ عَلَى رَأْسِي ، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ وَفِي ذَرِّيَّتِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری والدہ مجھے حبشہ کی سرزمین سے لے کر آئیں ، یہ اس وقت کی بات ہے جب میرے والد سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ انتقال کر چکے تھے ، تو میری والدہ مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھیں ، راستے میں میرا ہاتھ آگ کی وجہ سے جل گیا تھا ، میری والدہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ محمد بن حاطب ہے ، آپ کا بھتیجا ہے ، اسے آگ سے جلنے کی تکلیف لاحق ہوئی ہے ، سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جھوٹی بات منسوب نہیں کروں گا ، مجھے صحیح یاد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کیا تھا ، یا میرے سر پر ہاتھ پھیرا تھا ( ان میں سے کوئی ایک کام ہوا تھا ) اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے اور میری اولاد کے لئے برکت کی دعا کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، حارث بن محمد بن حاطب نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16171
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (239/19)»