کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16140
عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ حِذْيَمٍ قَالَ : وَفَدْتُ مَعَ جَدِّي حِذْيَمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي بَنِينَ ذَوِي لِحًى وَغَيْرَهُمْ ، وَهَذَا أَصْغَرُهُمْ ، فَأَدْنَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَسَحَ رَأْسِي ، وَقَالَ : " بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ " . قَالَ الذَّيَّالُ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ حَنْظَلَةَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْوَارِمِ وَجْهُهُ ، أَوِ الشَّاةِ الْوَارِمِ ضَرْعُهَا فَيَقُولُ : بِسْمِ اللَّهِ عَلَى مَوْضِعِ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَمْسَحُهُ فَيَذْهَبُ الْوَرَمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے دادا سیدنا حذیم رضی اللہ عنہ کے ہمراہ وفد کے ساتھ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میرے دادا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے بچے ہیں ، ان میں سے کچھ کی داڑھی آ چکی ہے اور کچھ کی نہیں آئی ہے ، یہ ان میں سے سب سے کمسن ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے قریب کیا ، آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور یہ دعا کی : اللہ تعالیٰ تم میں برکت رکھے ۔ ذیال نامی راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے پاس کسی ایسے شخص کو لایا جاتا تھا ، جس کا چہرہ ورم آلود ہو چکا ہوتا تھا ، یا کسی بکری کو لایا جاتا تھا ، جس کے تھن ورم آلود ہو چکے ہوتے تھے ، تو وہ یہ کہتے تھے : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، اس جگہ کے ساتھ ، جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تھیلی گئی تھی ، پھر وہ اس ورم والی جگہ پر ہاتھ پھیرتے تھے ، تو وہ ورم ختم ہو جاتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، امام أحمد نے اسے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے کہ جو کتاب الوصایا میں ، وصیت کرتے ہوئے زیادتی کرنے سے متعلق باب میں گزری ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، امام أحمد نے اسے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے کہ جو کتاب الوصایا میں ، وصیت کرتے ہوئے زیادتی کرنے سے متعلق باب میں گزری ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔