کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16119
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَى رَأْسِي ، فَقَالَ : " يَعِيشُ هَذَا الْغُلَامُ قَرْنًا " . فَعَاشَ مِائَةَ سَنَةٍ . ¤ وَكَانَ فِي وَجْهِهِ ثُؤْلُولٌ ، فَقَالَ : " لَا يَمُوتُ حَتَّى يَذْهَبَ الثُّؤْلُولُ مِنْ وَجْهِهِ " . فَلَمْ يَمُتْ حَتَّى ذَهَبَ الثُّؤْلُولُ مِنْ وَجْهِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارِ الثُّؤْلُولِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِيُدْرِكَنَّ قَرْنًا " . ¤ وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور ارشاد فرمایا : یہ لڑکا ایک صدی تک زندہ رہے گا ، راوی کہتے ہیں : تو وہ ایک سو سال تک زندہ رہے تھے ۔ اُن کے چہرے میں دانے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اس کے چہرے سے دانے ختم نہیں ہو جائیں گے ، راوی کہتے ہیں : تو ان کا انتقال اس وقت تک نہیں ہوا ، جب تک ان کے چہرے سے دانے رخصت نہیں ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ صرف دانوں والے حصے کے ہمراہ نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ایک صدی تک پہنچے گا ۔ “ امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ، صرف حسن بن ایوب حضرمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16119
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2737)»
حدیث نمبر: 16120
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ : أَرَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ شَامَةً فِي قَرْنِهِ ، وَقَالَ : وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَيْهَا ، وَقَالَ : " لَيُدْرِكَنَّ قَرْنًا " . وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُرَجِّلُ رَأْسَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حسن بن ایوب حضرمی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنی مانگ میں موجود ایک مسہ دکھایا اور بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا تھا اور یہ فرمایا تھا : یہ ایک صدی تک پہنچے گا ، راوی کہتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے سر میں کنگھی کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسن بن ایوب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16120
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (189/4)»
حدیث نمبر: 16121
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : لَمَّا بَعَثَتْنِي أُمِّي بِقُطَفٍ ، تَنَاوَلْتُ مِنْهُ قَبْلَ أَنْ أَبْلُغَهُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا جِئْتُ بِهِ مَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ : " أَيَا غُدَرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ الْحِيرَانِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میری والدہ نے مجھے گچھے دے کر بھیجا ، تو میں نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے سے پہلے ان میں سے کچھ کو کھا لیا ، جب میں وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا : اے ہیرا پھیری کرنے والے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن بسر حیرانی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16121
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح