کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت قیس بن عاصم منقری رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16115
عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ الْمِنْقَرِيُّ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآنِي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " هَذَا سَيِّدُ أَهْلِ الْوَبَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْجَصَّاصُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ فِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا قیس بن عاصم منقری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے : میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، جب آپ نے مجھے ملاحظہ کیا ، تو میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” یہ اونٹ والوں کا سردار ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی زیاد بن ابوزیاد جصاص ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام بزار کی سند میں ایک راوی قاسم بن مطیب ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی زیاد بن ابوزیاد جصاص ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام بزار کی سند میں ایک راوی قاسم بن مطیب ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 16116
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ : أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، فَاغْتَسَلَ ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَدَخَلَ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَامَ بَيْنَهُمَا ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ سَأَلَنِي قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ ثَلَاثِ كَلِمَاتٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُنَّ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ " . ¤ قُلْتُ : اغْتِسَالُهُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل کریں ، پھر نماز کھڑی ہوئی ، تو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان آ کر کھڑے ہو گئے ، جب نماز مکمل ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیس بن عاصم نے مجھ سے تین کلمات کے بارے میں دریافت کیا ہے ، اُن کلمات کے بارے میں اور کسی نے دریافت نہیں کیا ، البتہ ابوبکر کا معاملہ مختلف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے غسل کرنے کے واقعہ کو امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے غسل کرنے کے واقعہ کو امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔