عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالِ قَالَ : أَبُو شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيُّ : كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو ، وَيُقَالُ : خُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَيُقَالُ : عَمْرُو بْنُ خُوَيْلِدٍ . .
محمد محی الدین
ہارون بن عبدالله حمال بیان کرتے ہیں : یہ سیدنا ابوشریح خزاعی کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں ، ایک قول کے مطابق ان کا نام خویلد بن عمرو ہے اور ایک قول کے مطابق عمرو بن خویلد ہے ۔
عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ : قَالَ أَبُو شُرَيْحٍ : مَنْ رَآنِي أُلَاحِي خَتَنًا لِي ، أَفْرَشَنِي كَرِيمَتَهُ ، وَأَفْرَشْتُهُ كَرِيمَتِي ؛ فَأَنَا يَوْمَئِذٍ مَجْنُونٌ ؛ فَاكْوُوا رَأْسِي . وَمَنْ رَأَى لِأَبِي شُرَيْحٍ جَدْيًا أَوْ لَبَنًا يُبَاعُ ؛ فَهُوَ نَهْبٌ . وَمَنْ رَآنِي أُحَادُّ جَارًا فِي لَبِنَةٍ ؛ فَأَنَا مَجْنُونٌ ؛ فَاكْوُوا رَأْسِي .
قَالَ : فَاخْتَبَرَهُ جَارٌ لَهُ - يُقَالُ لَهُ : عَرْفَجَةُ - فَأَخَذَ مِنْ دَارِهِ عَشَرَةَ أَذْرُعٍ ، فَقَالُوا لَهُ : يَا أَبَا شُرَيْحٍ ، إِنَّهُ أَخَذَ مِنْ دَارِكَ عَشَرَةَ أَذْرُعٍ قَالَ : هُوَ أَعْلَمُ ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ جَارُهُ بَعْدُ ، وَرَجَعَ إِلَى حَقِّهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
قَالَ : فَاخْتَبَرَهُ جَارٌ لَهُ - يُقَالُ لَهُ : عَرْفَجَةُ - فَأَخَذَ مِنْ دَارِهِ عَشَرَةَ أَذْرُعٍ ، فَقَالُوا لَهُ : يَا أَبَا شُرَيْحٍ ، إِنَّهُ أَخَذَ مِنْ دَارِكَ عَشَرَةَ أَذْرُعٍ قَالَ : هُوَ أَعْلَمُ ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ جَارُهُ بَعْدُ ، وَرَجَعَ إِلَى حَقِّهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
محمد محی الدین
سعید مقبری بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوشریح رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو شخص مجھے یہ دیکھے کہ میں اپنے سسرالی عزیز کے ساتھ لڑائی کر رہا ہوں ، خواہ وہ میرا سسر بنتا ہو ، یا میں اس کا سسر بنتا ہوؤں ، تو اس وقت میں پاگل ہو گیا ہوؤں گا ، تم میرے سر میں داغ لگانا اور جو شخص ابوشریح کی بکری کا بچہ یا دودھ فروخت ہوتے ہوئے دیکھے ، تو وہ اسے لے سکتا ہے اور جو شخص مجھے دیکھے کہ میں کسی اینٹ کی وجہ سے اپنے پڑوسی کے ساتھ جھگڑا کر رہا ہوں تو میں پاگل ہو گیا ہوؤں گا ، تم میرے سر میں داغ لگانا ۔
راوی کہتے ہیں : اُن کے ایک پڑوسی نے ، جن کا نام عرفجہ تھا ، ان کو آزمایا اور ان کے گھر میں سے دس ہاتھ کا حصہ لے لیا ، تو لوگوں نے ان سے کہا: اے ابوشریح ! اس نے آپ کے گھر میں سے دس ہاتھ کا حصہ لے لیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : وہ زیادہ بہتر جانتا ہے ، بعد میں اُن کے پڑوسی نے وہ جگہ ان کو واپس کر دی اور ان کے حق کی طرف رجوع کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
راوی کہتے ہیں : اُن کے ایک پڑوسی نے ، جن کا نام عرفجہ تھا ، ان کو آزمایا اور ان کے گھر میں سے دس ہاتھ کا حصہ لے لیا ، تو لوگوں نے ان سے کہا: اے ابوشریح ! اس نے آپ کے گھر میں سے دس ہاتھ کا حصہ لے لیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : وہ زیادہ بہتر جانتا ہے ، بعد میں اُن کے پڑوسی نے وہ جگہ ان کو واپس کر دی اور ان کے حق کی طرف رجوع کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ أَبُو شُرَيْحٍ - وَاسْمُهُ خُوَيْلِدٌ - سَنَةَ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ بِالْمَدِينَةِ ، وَاخْتُلِفَ فِي وَفَاتِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ .
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوشریح رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، ان کا نام خویلد تھا ان کا انتقال 68 ہجری میں ہوا ، ان کی وفات کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ : مَاتَ أَبُو شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيُّ : كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو سَنَةَ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ .
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوشریح خزاعی کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ کا انتقال 58 ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔