کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 16075
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : حَيْدَرَةُ بْنُ خَيْشَنَةَ : أَبُو قِرْصَافَةَ اللَّيْثِيُّ ، مَوْلَى بَنِي لَيْثِ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ مَنَاةَ بْنِ كِنَانَةَ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ سیدنا حیدرہ بن خیشنہ ابوقرصافہ لیثی ہیں ، جو بنو لیث بن بكر بن عبدمناة بن کنانہ سے نسبت ولاء رکھتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 16076
عَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَانَ بَدْءُ إِسْلَامِي أَنِّي كُنْتُ يَتِيمًا بَيْنَ أُمِّي وَخَالَتِي ، وَكَانَ أَكْثَرُ مَيْلِي إِلَى خَالَتِي ، وَكُنْتُ أَرْعَى شُوَيْهَاتٍ لِي ، فَكَانَتْ خَالَتِي كَثِيرًا مَا تَقُولُ لِي : يَا بُنَيَّ ، لَا تَمُرَّ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ - تَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُغْوِيَكَ وَيُضِلَّكَ ، فَكُنْتُ أَخْرُجُ حَتَّى آتِيَ الْمَرْعَى ، وَأَتْرُكَ شُوَيْهَاتِي وَآتِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا أَزَالُ أَسْمَعُ مِنْهُ ، ثُمَّ أُرَوِّحُ غَنَمِي ضُمَّرًا يَابِسَاتِ الضُّرُوعِ . وَقَالَتْ لِي خَالَتِي : مَا لِغَنَمِكَ يَابِسَاتِ الضُّرُوعِ ؟ قُلْتُ : مَا أَدْرِي . ¤ ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ الْيَوْمَ الثَّانِيَ ، فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، هَاجِرُوا وَتَمَسَّكُوا بِالْإِسْلَامِ ؛ فَإِنَّ الْهِجْرَةَ لَا تَنْقَطِعُ مَا دَامَ الْجِهَادُ " . ثُمَّ إِنِّي رُحْتُ بِغَنَمِي كَمَا رُحْتُ فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ . ¤ ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ ، فَلَمْ أَزَلْ عِنْدَهُ أَسْمَعُ مِنْهُ حَتَّى أَسْلَمْتُ وَبَايَعْتُهُ وَصَافَحْتُهُ ، وَشَكَوْتُ إِلَيْهِ أَمْرَ خَالَتِي وَأَمْرَ غَنَمِي ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " جِئْنِي بِالشِّيَاهِ " . فَجِئْتُهُ بِهِنَّ ، فَمَسَحَ ظُهُورَهُنَّ وَضُرُوعَهُنَّ ، وَدَعَا فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ ، فَامْتَلَأْنَ شَحْمًا وَلَبَنًا ، فَلَمَّا دَخَلْتُ عَلَى خَالَتِي بِهِنَّ قَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، هَكَذَا فَارْعَ ، قُلْتُ : يَا خَالَةُ ، مَا رَعَيْتُ إِلَّا حَيْثُ أَرْعَى كُلَّ يَوْمٍ ، وَلَكِنْ أُخْبِرُكِ بِقِصَّتِي ، وَأَخْبَرْتُهَا بِالْقِصَّةِ وَإِتْيَانِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْبَرْتُهَا بِسِيرَتِهِ وَبِكَلَامِهِ ، فَقَالَتْ [ لِي ] أُمِّي وَخَالَتِي : اذْهَبْ بِنَا إِلَيْهِ ، فَذَهَبْتُ أَنَا وَأُمِّي وَخَالَتِي فَأَسْلَمْنَ ، وَبَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ وَمَا ]صَافَحَهُنَّ . ¤ فَهَذَا مَا كَانَ مِنْ أَمْرِ إِسْلَامِ أَبِي قِرْصَافَةَ ، وَهِجْرَتِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ وَكَانَ أَبُو قِرْصَافَةَ يَسْكُنُ أَرْضَ تِهَامَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میرے اسلام کا آغاز یوں ہوا کہ میں یتیم بچہ تھا ، میں اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ رہتا تھا ، میں زیادہ تر اپنی خالہ کے ساتھ رہتا تھا ، اور میں کچھ بکریاں چرایا کرتا تھا ، میری خالہ اکثر مجھ سے یہ کہتی تھیں : کہ تم اُن صاحب کے پاس سے نہ گزرنا ، اُن کی مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، ورنہ وہ تمہیں گمراہ کر دیں گے اور تمہیں بھٹکا دیں گے ، راوی کہتے ہیں : میں نکلتا تھا یہاں تک کہ اپنی چراگاہ تک آتا تھا ، اپنی بکریاں وہاں چھوڑتا تھا اور پھر ( ایک مرتبہ ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا ، میں مسلسل آپ کی بات چیت سنتا رہا ، پھر میں شام کو اپنی بکریاں لے کر واپس آیا ، تو ان کے تھن خشک تھے ، میری خالہ نے مجھ سے کہا: کیا وجہ ہے تمہاری بکریوں کے تھن خشک کیوں ہیں ؟ میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم ، پھر میں دوسرے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ویسا ہی کیا ، جس طرح میں نے پہلے دن کیا تھا ، البتہ میں نے اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا :
” اے لوگو ! ہجرت کرو اور اسلام کو مضبوطی سے تھام لو ، کیونکہ ہجرت اس وقت تک ختم نہیں ہو گی ، جب تک اسلام باقی ہے ۔ “
پھر میں شام کو اپنی بکریاں لے کر واپس گیا ، جس طرح میں پہلے دن واپس لے کر گیا تھا ، پھر میں تیسرے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کی بات چیت سنتا رہا ، آپ کے پاس موجود رہا ، یہاں تک کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ، آپ کے دست اقدس پر بیعت کر لی ، میں نے آپ کے ساتھ مصافحہ کیا ، پھر میں نے اپنی خالہ کا معاملہ آپ کے سامنے شکایت کے طور پر ذکر کیا اور اپنی بکریوں کا معاملہ ذکر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم وہ بکریاں میرے پاس لے کر آؤ ، میں انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پشت اور تھنوں پر ہاتھ پھیرا اور اُن میں برکت کی دعا کی ، تو وہ بکریاں چربی اور دودھ سے بھر گئیں ، جب میں اُن بکریوں کو لے کر اپنی خالہ کے پاس آیا ، تو انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے ! اسی طرح تم ان کو چرایا کرو ، میں نے کہا: اے خالہ جان ! میں نے انہیں اسی طرح چرایا ہے جس طرح میں انہیں روزانہ چراتا ہوں ، لیکن اب میں آپ کو اپنا واقعہ بتاتا ہوں ، پھر میں نے انہیں پوری صورت حال بتائی اور یہ بتایا کہ کس طرح میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور گفتگو کے بارے میں انہیں بتایا ، تو میری ماں اور میری خالہ نے مجھ سے کہا: تم ہمیں بھی اُن کے پاس لے جاؤ ، تو میں ، میری والدہ اور میری خالہ گئے ، اُن خواتین نے اسلام قبول کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کیا ۔
راوی کہتے ہیں : تو یہ سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے اور اُن کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرنے کا معاملہ ہے ، سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ تہامہ کی سرزمین پر رہتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
” اے لوگو ! ہجرت کرو اور اسلام کو مضبوطی سے تھام لو ، کیونکہ ہجرت اس وقت تک ختم نہیں ہو گی ، جب تک اسلام باقی ہے ۔ “
پھر میں شام کو اپنی بکریاں لے کر واپس گیا ، جس طرح میں پہلے دن واپس لے کر گیا تھا ، پھر میں تیسرے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کی بات چیت سنتا رہا ، آپ کے پاس موجود رہا ، یہاں تک کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ، آپ کے دست اقدس پر بیعت کر لی ، میں نے آپ کے ساتھ مصافحہ کیا ، پھر میں نے اپنی خالہ کا معاملہ آپ کے سامنے شکایت کے طور پر ذکر کیا اور اپنی بکریوں کا معاملہ ذکر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم وہ بکریاں میرے پاس لے کر آؤ ، میں انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پشت اور تھنوں پر ہاتھ پھیرا اور اُن میں برکت کی دعا کی ، تو وہ بکریاں چربی اور دودھ سے بھر گئیں ، جب میں اُن بکریوں کو لے کر اپنی خالہ کے پاس آیا ، تو انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے ! اسی طرح تم ان کو چرایا کرو ، میں نے کہا: اے خالہ جان ! میں نے انہیں اسی طرح چرایا ہے جس طرح میں انہیں روزانہ چراتا ہوں ، لیکن اب میں آپ کو اپنا واقعہ بتاتا ہوں ، پھر میں نے انہیں پوری صورت حال بتائی اور یہ بتایا کہ کس طرح میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور گفتگو کے بارے میں انہیں بتایا ، تو میری ماں اور میری خالہ نے مجھ سے کہا: تم ہمیں بھی اُن کے پاس لے جاؤ ، تو میں ، میری والدہ اور میری خالہ گئے ، اُن خواتین نے اسلام قبول کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کیا ۔
راوی کہتے ہیں : تو یہ سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے اور اُن کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرنے کا معاملہ ہے ، سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ تہامہ کی سرزمین پر رہتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16077
وَعَنْ عَزَّةَ بِنْتِ عِيَاضِ بْنِ أَبِي قِرْصَافَةَ قَالَ : أَسَرَتِ الرُّومُ ابْنًا لِأَبِي قِرْصَافَةَ ، فَكَانَ أَبُو قِرْصَافَةَ إِذَا حَضَرَ وَقْتُ كُلِّ صَلَاةٍ صَعِدَ سُورَ عَسْقَلَانَ ، وَنَادَى : يَا فُلَانُ الصَّلَاةَ ، فَيَسْمَعُهُ وَهُوَ فِي بَلَدِ الرُّومِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده عزه بنت عیاض بن ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : رومیوں نے سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے کو قیدی بنا لیا تو سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ ہر نماز کے وقت عسقلان شہر کی دیواروں پر کھڑے ہو کر بلند آواز میں پکار کر یہ کہتے تھے : اے فلاں ! نماز کا وقت ہو گیا ہے ، تو اُن کا بیٹا ان کی آواز سن لیتا تھا ، حالانکہ وہ رومیوں کے شہر میں موجود ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔