کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : لَا شومة بْنُ جُرْثُومٍ أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي اسْمِهِ ؛ فَقِيلَ لَاسرُ بْنُ حِمْيَرَ ، وَقِيلَ : لَاشَرُ بْنُ جَاهِمٍ ، وَقِيلَ : جُرْهُمُ ، وَقِيلَ : غُرْنُوفُ بْنُ نَاسِمٍ ، وَيُقَالَ : نَاشِرٌ وَيُقَالُ : نَاشِبُ بْنُ عَمْرٍو ، وَيُقَالُ : خُرَيْمُ بْنُ نَاشِبٍ . . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ سیدنا لاشومہ بن جرثوم ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ ہیں ، ان کے نام کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، ایک قول کے مطابق ان کا نام لاسر بن حمیر ہے ایک قول کے مطابق لاشر بن جاہم ہے ، ایک قول کے مطابق جرہم ہے ایک قول کے مطابق غرنوف بن ناسم ہے ، ایک قول کے مطابق ناشر ہے ، ایک قول کے مطابق ناشب بن عمرو ہے ، ایک قول کے مطابق خریم بن ناشب ہے ۔
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِمَا يَحِلُّ لِي مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيَّ قَالَ : فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ وَصَوَّبَ ، ثُمَّ قَالَ : " نُوَيْبِتَةٌ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ أَوْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ ؟ قَالَ : " بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ " . قُلْتُ : ......... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ مُسْلِمِ بْنِ مِشْكَمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے یہ بتائیے کہ کون سی چیز میرے لئے حلال ہے ؟ اور کون سی چیز حرام ہے ؟ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر سے لے کر پاؤں تک بغور جائزہ لیا اور پھر ارشاد فرمایا : چھوٹا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بھلائی کا چھوٹا ، یا برائی کا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ بھلائی کا چھوٹا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے امام أحمد کی اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مسلم بن مشکم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے امام أحمد کی اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مسلم بن مشکم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالِ قَالَ : مَاتَ أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ سَنَةَ خَمْسٍ وَسَبْعِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
ہارون بن عبدالله حمال بیان کرتے ہیں سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ ان کا انتقال 75 ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔