حدیث نمبر: 16072
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِمَا يَحِلُّ لِي مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيَّ قَالَ : فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ وَصَوَّبَ ، ثُمَّ قَالَ : " نُوَيْبِتَةٌ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ أَوْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ ؟ قَالَ : " بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ " . قُلْتُ : ......... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ مُسْلِمِ بْنِ مِشْكَمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے یہ بتائیے کہ کون سی چیز میرے لئے حلال ہے ؟ اور کون سی چیز حرام ہے ؟ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر سے لے کر پاؤں تک بغور جائزہ لیا اور پھر ارشاد فرمایا : چھوٹا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بھلائی کا چھوٹا ، یا برائی کا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ بھلائی کا چھوٹا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے امام أحمد کی اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مسلم بن مشکم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16072
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (213/22) اخرجه احمد فى المسند (194/4)»