کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت عکرمہ بن ابوجہل رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 16047
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ ، أُمُّهُ : أُمُّ مُجَالِدٍ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي هِلَالٍ . أَسْلَمَ عَامَ الْفَتْحِ ، وَاسْتُشْهِدَ [ يَوْمَ الْيَرْمُوكَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَقِيلَ : اسْتُشْهِدَ ] يَوْمَ أَجْنَادِينَ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابوجہل بن ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمرو بن مخزوم ہیں ، ان کی والدہ ام مجالد تھیں ، جو بنو ہلال سے تعلق رکھنے والی خاتون ہیں ۔ انہوں نے فتح مکہ کے سال اسلام قبول کیا تھا ، انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جنگ یرموک میں جام شہادت نوش کیا تھا ، ایک قول کے مطابق یہ ” جنگ اجنادین “ میں شہید ہوئے تھے ۔
حدیث نمبر: 16048
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيِّ قَالَ : عِكْرَمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ ، لَيْسَ لَهُ عَقِبٌ ، وَكَانَ خَرَجَ هَارِبًا يَوْمَ الْفَتْحِ حَتَّى اسْتَأْمَنَتْ لَهُ زَوْجَتُهُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ هِشَامٍ ، فَأَمَّنَهُ . أَدْرَكَتْهُ بِالْيَمَنِ فَرَدَّتْهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ إِلَيْهِ فَاعْتَنَقَهُ ، وَقَالَ : " مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
معصب بن عبداللہ زبیری بیان کرتے ہیں : سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابوجہل بن ہشام کی اولاد کوئی نہیں ہوئی تھی ، یہ فتح مکہ کے موقع پر بھاگ گئے تھے ، یہاں تک کہ ان کی اہلیہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے لئے امان حاصل کی تھی ، وہ خاتون ام حکیم بنت ہشام ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے امان دیدی ، وہ خاتون یمن میں ان کے پاس گئیں ، اور انہیں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ کیا ، تو آپ اُٹھ کر ان کی طرف گئے اور انہیں گلے لگایا اور فرمایا : ہجرت کرنے والے سوار کو خوش آمدید ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 16049
وَعَنْ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : كَانَ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ قَالَ : وَالَّذِي نَجَّانِي يَوْمَ بَدْرٍ . ¤ وَكَانَ يَأْخُذُ الْمُصْحَفَ ، فَيَضَعُهُ عَلَى وَجْهِهِ وَيَقُولُ : كَلَامُ رَبِّي . كَلَامُ رَبِّي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ جب کسی قسم میں شدت کا مفہوم ظاہر کرنا چاہتے تھے تو وہ یہ کہتے تھے کہ اس ذات کی قسم ! جس نے جنگ بدر کے دن مجھے نجات عطا کی ، اسی طرح وہ قرآن مجید لیتے تھے ، اُسے اپنے چہرے پر رکھتے تھے اور یہ کہتے تھے : یہ میرے پروردگار کا کلام ہے ، یہ میرے پروردگار کا کلام ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16050
وَعَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ جِئْتُهُ : " مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ ، مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَدَعُ نَفَقَةً عَلَيْكَ إِلَّا أَنْفَقْتُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قُلْتُ : عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ : مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ . فَقَطْ مَرَّةً وَاحِدَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عِكْرِمَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : جس دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہجرت کرنے والے سوار کو خوش آمدید ، ہجرت کرنے والے سوار کو خوش آمدید “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جتنا کچھ خرچ کیا ہے ، اب اتنی ہی رقم میں اللہ کی راہ میں بھی خرچ کروں گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے صرف ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ہجرت کرنے والے سوار کو خوش آمدید ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ مصعب بن سعد نے سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ مصعب بن سعد نے سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 16051
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ لِأَبِي جَهْلٍ عُنُقًا فِي الْجَنَّةِ " . فَلَمَّا أَسْلَمَ عِكْرِمَةُ قَالَ : " هُوَ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے جنت میں ابوجہل کی گردن دیکھی ، راوی کہتے ہیں ، جب سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک یعقوب بن محمد زہری ہے جس کی توثیق کی گئی ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک یعقوب بن محمد زہری ہے جس کی توثیق کی گئی ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔