کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِئِ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ : عَاشَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ سَنَةٍ ، سِتِّينَ فِي الْإِسْلَامِ وَسِتِّينَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَ إِذَا اسْتَغْلَظَ فِي الْيَمِينِ قَالَ : لَا وَالَّذِي أَنْعَمَ عَلَى حَكِيمٍ أَنْ يَكُونَ قَتِيلًا يَوْمَ بَدْرٍ لَا أَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا ، فَلَا يَفْعَلُهُ [ وَيُكَنَّى أَبَا خَالِدٍ ] .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
یعقوب بن عبدالرحمن قاری بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ ایک سو بیس سال تک زندہ رہے تھے ، ساٹھ سال زمانہ اسلام میں رہے تھے اور ساٹھ کی زندگی زمانہ جاہلیت میں گزاری تھی ، جب وہ کسی قسم میں شدت کا مفہوم ظاہر کرنا چاہتے تھے تو یہ کہتے تھے : جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس نے حکیم کو یہ انعام عطا کیا کہ وہ غزوہ بدر کے دن مارا نہیں گیا ، میں ایسا نہیں کروں گا ، تو وہ ویسا نہیں کرتے تھے ، ان کی کنیت ” ابوخالد “ تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قول کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قول کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ بَلَغَنِي : أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ حَضَرَ يَوْمَ عَرَفَةَ مَعَهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ ، وَمِائَةُ بَدَنَةٍ ، وَمِائَةُ بَقَرَةٍ ، وَمِائَةُ شَاةٍ ، فَقَالَ : هَذَا كُلُّهُ لِلَّهِ ، فَأَعْتَقَ الرِّقَابَ وَأَمَرَ بِذَلِكَ فَنُحِرَ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ .
محمد محی الدین
مصعب بن ثابت بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ عرفہ کے دن موجود تھے ، ان کے ساتھ ایک سو غلام تھے ، ایک سو اونٹ تھے ، ایک سو گائیں تھیں اور ایک سو بکریاں تھیں ، انہوں نے فرمایا : یہ سب اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں ، تو انہوں نے غلاموں کو آزاد کر دیا اور جانوروں کے بارے میں حکم دیا تو انہیں قربان کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس روایت کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس روایت کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ : أَنَّهُ بَاعَ دَارًا لَهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - بِسِتِّينَ أَلْفًا ، فَقَالُوا : غَبَنَكَ وَاللَّهِ يَا مُعَاوِيَةُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا أَخَذْتُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا بِزِقِّ خَمْرٍ ، أُشْهِدُكُمْ أَنَّهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمَسَاكِينِ وَالرِّقَابِ ، فَأَيُّنَا الْمَغْبُونُ ؟ .
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا ایک گھر ساٹھ ہزار کے عوض میں فروخت کیا ، تو لوگوں نے کہا: اے معاویہ ! اللہ کی قسم ! انہوں نے آپ کے ساتھ غبن کیا ہے ، سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے زمانہ جاہلیت میں ( یہ گھر ) شراب کے ایک مشکیزے کے عوض میں لیا تھا اور میں تمہیں گواہ بنا کے یہ کہتا ہوں کہ یہ ( ساری رقم ) اللہ کی راہ میں مسکینوں کے لئے اور غلام آزاد کرنے کے لئے مخصوص ہے ، تو ہم میں سے کس کے ساتھ غبن ہوا ہے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : بِمِائَةِ أَلْفٍ . .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ أَحَدُهُمَا حَسَنٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ أَحَدُهُمَا حَسَنٌ .
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ ایک لاکھ کے عوض میں فروخت کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند حسن ہے ۔
وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : مَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ أَحَدٌ سَمِعْنَا بِهِ كَانَ أَكْثَرَ حَمْلًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ .
قَالَ : لَقَدْ قَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ الْمَدِينَةَ يَسْأَلَانِ مَنْ يَحْمِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَدُلَّا عَلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، فَأَتَيَاهُ فِي أَهْلِهِ ، فَسَأَلَهُمَا مَا يُرِيدَانِ فَأَخْبَرَاهُ ، فَقَالَ لَهُمَا : لَا تَعْجَلَا حَتَّى أَخْرُجَ إِلَيْكُمَا ، وَكَانَ حَكِيمٌ يَلْبَسُ ثِيَابًا يُؤْتَى بِهَا مِنْ مِصْرَ كَأَنَّهَا الشِّبَاكُ ، ثَمَنُهَا أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ ، وَيَأْخُذُ عَصًا فِي يَدِهِ وَيَخْرُجُ وَمَعَهُ غُلَامَانِ لَهُ ، وَكُلَّمَا مَرَّ بِكُنَاسَةٍ - أَوْ قُمَامَةٍ - فَرَأَى فِيهَا خِرْقَةً تَصْلُحُ فِي جِهَازِ الْإِبِلِ الَّتِي يَحْمِلُ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَخَذَهَا بِطَرَفِ عَصَاهُ فَنَفَضَهَا ، ثُمَّ قَالَ لِغُلَامَيْهِ : أَمْسِكَا فَاسْتَعِينَا فِي جِهَازِكُمَا ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيَّانِ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يَصْنَعُ ذَلِكَ : وَيْحَكَ ! انْجُ بِنَا ؛ فَوَاللَّهِ مَا عِنْدَ هَذَا إِلَّا لُقَطُ الْقَشْعِ ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ : وَيْحَكَ ! لَا تَعْجَلْ حَتَّى نَنْظُرَ ، فَخَرَجَ بِهِمَا إِلَى السُّوقِ فَنَظَرَ إِلَى نَاقَتَيْنِ جَلِيلَتَيْنِ سَمِينَتَيْنِ خَلِفَتَيْنِ ، فَابْتَاعَهُمَا وَابْتَاعَ جِهَازَهُمَا ، ثُمَّ قَالَ لِغُلَامَيْهِ : رُمَّا بِهَذِهِ الْخِرَقِ مَا يَنْبَغِي لَهُ الْمَرَمَّةُ مِنْ جِهَازِكُمَا ، ثُمَّ أَوْقَرَهُمَا طَعَامًا وَبُرًّا وَوَدَكًا ، ثُمَّ أَعْطَاهُمَا نَفَقَةً ، ثُمَّ أَعْطَاهُمَا النَّاقَتَيْنِ .
قَالَ : يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِنْ لَاقِطِ قَشْعٍ خَيْرًا مِنَ الْيَوْمِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .
قَالَ : لَقَدْ قَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ الْمَدِينَةَ يَسْأَلَانِ مَنْ يَحْمِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَدُلَّا عَلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، فَأَتَيَاهُ فِي أَهْلِهِ ، فَسَأَلَهُمَا مَا يُرِيدَانِ فَأَخْبَرَاهُ ، فَقَالَ لَهُمَا : لَا تَعْجَلَا حَتَّى أَخْرُجَ إِلَيْكُمَا ، وَكَانَ حَكِيمٌ يَلْبَسُ ثِيَابًا يُؤْتَى بِهَا مِنْ مِصْرَ كَأَنَّهَا الشِّبَاكُ ، ثَمَنُهَا أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ ، وَيَأْخُذُ عَصًا فِي يَدِهِ وَيَخْرُجُ وَمَعَهُ غُلَامَانِ لَهُ ، وَكُلَّمَا مَرَّ بِكُنَاسَةٍ - أَوْ قُمَامَةٍ - فَرَأَى فِيهَا خِرْقَةً تَصْلُحُ فِي جِهَازِ الْإِبِلِ الَّتِي يَحْمِلُ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَخَذَهَا بِطَرَفِ عَصَاهُ فَنَفَضَهَا ، ثُمَّ قَالَ لِغُلَامَيْهِ : أَمْسِكَا فَاسْتَعِينَا فِي جِهَازِكُمَا ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيَّانِ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يَصْنَعُ ذَلِكَ : وَيْحَكَ ! انْجُ بِنَا ؛ فَوَاللَّهِ مَا عِنْدَ هَذَا إِلَّا لُقَطُ الْقَشْعِ ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ : وَيْحَكَ ! لَا تَعْجَلْ حَتَّى نَنْظُرَ ، فَخَرَجَ بِهِمَا إِلَى السُّوقِ فَنَظَرَ إِلَى نَاقَتَيْنِ جَلِيلَتَيْنِ سَمِينَتَيْنِ خَلِفَتَيْنِ ، فَابْتَاعَهُمَا وَابْتَاعَ جِهَازَهُمَا ، ثُمَّ قَالَ لِغُلَامَيْهِ : رُمَّا بِهَذِهِ الْخِرَقِ مَا يَنْبَغِي لَهُ الْمَرَمَّةُ مِنْ جِهَازِكُمَا ، ثُمَّ أَوْقَرَهُمَا طَعَامًا وَبُرًّا وَوَدَكًا ، ثُمَّ أَعْطَاهُمَا نَفَقَةً ، ثُمَّ أَعْطَاهُمَا النَّاقَتَيْنِ .
قَالَ : يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِنْ لَاقِطِ قَشْعٍ خَيْرًا مِنَ الْيَوْمِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .
محمد محی الدین
ابوحازم بیان کرتے ہیں : مدینہ منورہ میں کوئی ایسا فرد نہیں تھا ، جس کے بارے میں ہم نے یہ سنا ہو کہ وہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ اس سے زیادہ اللہ کی راہ میں سواری کے لئے جانور دیتا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ دو دیہاتی مدینہ منورہ آئے ، انہوں نے دریافت کیا : کون شخص انہیں اللہ کی راہ میں سواری کے جانور فراہم کرے گا ؟ تو ان دونوں کی رہنمائی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی ، وہ دونوں سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں ؟ ان دونوں نے بتایا : تو سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے کہا: تم جلدی نہ کرو ، میں نکل کر تمہارے پاس آتا ہوں ، سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ ایسے کپڑے پہنتے تھے جو مصر سے ان کے پاس لائے جاتے تھے ، جو شباک کی مانند ہوتے تھے ، جن کی قیمت چار درہم ہوتی تھی ، وہ اپنے ہاتھ میں ایک عصا پکڑ لیتے تھے ، ان کے ساتھ ان کے دو غلام بھی ہوتے تھے ، جب بھی وہ کچرے کے پاس سے گزرتے تھے اور اس میں وہ کوئی کپڑا دیکھتے تھے ، جو اونٹ کے لئے استعمال ہو سکتا تھا ، جو انہوں نے اللہ کی راہ میں سواری کے لئے دینا ہوتا ، تو وہ اپنے عصا کے کنارے کے ذریعے اس کپڑے کو لیتے تھے اسے جھاڑتے تھے اور پھر اپنے غلاموں سے کہتے تھے کہ اس کو پکڑ لو اور اس کے ذریعے تم اپنے سامان میں مدد حاصل کرنا ، ان دونوں دیہاتیوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ، جبکہ وہ یہ کر رہے تھے : تمہارا ستیاناس ہو تم ہمیں لے کے چلو ، اللہ کی قسم ! ہمیں ان صاحب کے پاس سے صرف وہ چیز ہی ملے گی ، جو کہیں گری پڑی ہوئی ہی ملتی ہے ، تو اس کے ساتھی نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ، تم جلدبازی نہ کرو ، جب تک ہم جائزہ نہیں لے لیتے ، پھر سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ ان دونوں کو ساتھ لے کر بازار گئے ، وہاں انہوں نے دو بڑی موٹی تازی عمدہ قسم کی اونٹنیاں دیکھیں ، انہیں خریدا ، ان کا ساز و سامان خریدا ، پھر انہوں نے اپنے غلاموں سے کہا: ان کپڑوں کے ذریعے اپنے سامان میں سے اس چیز کی مرمت کر دو ، جس کی مرمت کی ضرورت ہے ، پھر سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو اناج اور گندم اور چربی بھی لے کر دی ، اور ان دونوں کو خرچ بھی فراہم کیا اور وہ اونٹنیاں بھی انہیں عطا کر دیں ۔ راوی کہتے ہیں : ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے آج کے دن اس کچرا اٹھانے والے شخص سے زیادہ بہتر شخص کوئی نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔