کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 16041
عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عُمَيْرَ بْنَ سَعْدٍ عَامِلًا عَلَى حِمْصَ ، فَمَكَثَ حَوْلًا لَا يَأْتِيهِ . فَقَالَ عُمَرُ لِكَاتِبِهِ : اكْتُبْ إِلَى عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ ، فَوَاللَّهِ مَا أَرَاهُ إِلَّا [ قَدْ ] خَانَنَا ، فَإِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَأَقْبِلْ ، وَأَقْبِلْ بِمَا جِئْتَ مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حِينَ تَنْظُرُ فِي كِتَابِي هَذَا ، فَأَخْذَ عُمَيْرٌ جِرَابَهُ فَجَعَلَ فِيهِ زَادَهُ وَقَصْعَتَهُ ، وَعَلَّقَ إِدَاوَتَهُ وَأَخَذَ عَنَزَتَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَمْشِي مِنْ حِمْصَ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ . ¤ قَالَ : فَقَدِمَ وَقَدْ شَحُبَ لَوْنُهُ ، وَاغْبَرَّ وَجْهُهُ ، وَطَالَتْ شَعْرَتُهُ ، فَدَخَلَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَقَالَ عُمَيْرُ : مَا تَرَى مِنْ شَأْنِي ؟ أَلَسْتَ تَرَانِي صَحِيحَ الْبَدَنِ ، طَاهِرَ الدَّمِ ، مَعِي الدُّنْيَا أَجُرُّهَا بِقُرُونِهَا ! قَالَ : وَمَا مَعَكَ ؟ قَالَ : فَظَنَّ عُمَرُ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ بِمَالٍ ، فَقَالَ : مَعِي جِرَابِي أَجْعَلُ فِيهِ زَادِي ، وَقَصْعَتِي آكُلُ فِيهَا وَأَغْسِلُ فِيهَا رَأْسِي وَثِيَابِي ، وَإِدَاوَتِي أَحْمِلُ فِيهَا وَضُوئِي وَشَرَابِي وَعَنَزَتِي أَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا وَأُجَاهِدُ بِهَا عَدُوِّي إِنْ عَارَضَنِي ، فَوَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا إِلَّا تَبَعٌ لِمَتَاعِي . قَالَ : فَجِئْتَ تَمْشِي ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : أَمَا كَانَ لَكَ أَحَدٌ يَتَبَرَّعُ لَكَ بِدَابَّةٍ تَرْكَبُهَا ؟ ! قَالَ : مَا فَعَلُوا وَمَا سَأَلْتُهُمْ ذَلِكَ قَالَ : بِئْسَ الْمُسْلِمُونَ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِهِمْ ، فَقَالَ لَهُ عُمَيْرُ : اتَّقِ اللَّهَ يَا عُمَرُ ، فَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ عَنِ الْغِيبَةِ ، وَقَدْ رَأَيْتُهُمْ يُصَلُّونَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ . قَالَ : فَأَيْنَ مَا بَعَثْتُكَ لَهُ وَأَيَّ شَيْءٍ صَنَعْتَ ؟ قَالَ : وَمَا سُؤَالُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ فَقَالَ عُمْرُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! فَقَالَ عُمَيْرُ : أَمَا لَوْ لَمْ أَخْشَ أَنْ أَغُمَّكَ مَا أَخْبَرْتُكَ ، بَعَثْتَنِي حَتَّى أَتَيْتُ الْبَلَدَ ، فَجَمَعْتُ صُلَحَاءَ أَهْلِهَا فَوَلَّيْتُهُمْ جِبَايَةَ فَيْئِهِمْ ، حَتَّى إِذَا جَمَعُوهُ وَضَعْتُهُ مَوَاضِعَهُ ، وَلَوْ نَالَكَ مِنْهُ شَيْءٌ لَأَتَيْتُكَ بِهِ قَالَ : فَمَا جِئْتَنَا بِشَيْءٍ ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : جَدِّدُوا لِعُمَيْرٍ عَهْدًا . قَالَ : إِنَّ ذَلِكَ لَسَيِّئٌ لَا عَمِلْتُ لَكَ وَلَا لِأَحَدٍ بَعْدَكَ ، وَاللَّهِ مَا سَلِمْتُ بَلْ لَمْ أَسْلَمْ وَلَوْ قُلْتُ لِنَصْرَانِيٍّ : أَخْزَاكَ اللَّهُ ، فَهَذَا مَا عَرَّضْتَنِي لَهُ يَا عُمَرُ ، وَإِنَّ أَشْقَى أَيَّامِي يَوْمًا خَلَفْتُ مَعَكَ يَا عُمَرُ ، فَاسْتَأْذَنَهُ فَأَذِنَ لَهُ ، فَرَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ . ¤ قَالَ : وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ أَمْيَالٌ ، فَقَالَ عُمَرُ حِينَ انْصَرَفَ عُمَيْرٌ : مَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ خَانَنَا ، فَبَعَثَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ : الْحَارِثُ ، فَقَالَ : انْطَلِقْ حَتَّى تَنْزِلَ بِهِ كَأَنْ ضَيْفٌ [ فَإِنْ رَأَيْتَ أَثَرَ شَيْءٍ فَأَقْبِلْ ] ، وَإِنْ رَأَيْتَ حَالًا شَدِيدَةً فَادْفَعْ هَذِهِ الْمِائَةَ الدِّينَارِ . فَانْطَلَقَ الْحَارِثُ ، فَإِذَا بِعُمَيْرٍ جَالِسٌ يُفَلِّي قَمِيصَهُ إِلَى جَنْبِ الْحَائِطِ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَيْرٌ : انْزِلْ رَحِمَكَ اللَّهُ ، فَنَزَلَ ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ : مِنْ أَيْنَ جِئْتَ ؟ قَالَ : مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَرَكْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : صَالِحًا . قَالَ : كَيْفَ تَرَكْتَ الْمُسْلِمِينَ ؟ قَالَ : صَالِحِينَ قَالَ : أَلَيْسَ يُقِيمُونَ الْحُدُودَ ؟ قَالَ : بَلَى ؛ لَقَدْ ضَرَبَ ابْنًا لَهُ أَتَى فَاحِشَةً فَمَاتَ مِنْ ضَرْبِهِ ، فَقَالَ عُمَيْرُ : اللَّهُمَّ أَعِزَّ عُمَرَ ؛ فَإِنِّي لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا شَدِيدًا حُبُّهُ لَكَ . ¤ قَالَ : فَنَزَلَ بِهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، وَلَيْسَ لَهُمْ إِلَّا قُرْصَةٌ مِنْ شَعِيرٍ كَانُوا يَخُصُّونَهُ بِهَا وَيَطْوُونَ حَتَّى أَتَاهُمُ الْجَهْدُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَيْرٌ : يَا هَذَا ، إِنَّكَ قَدْ أَجَعْتَنَا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَتَحَوَّلَ عَنَّا فَافْعَلْ قَالَ : فَأَخْرَجَ الدَّنَانِيرَ فَوَضَعَهَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : بَعَثَ بِهَا إِلَيْكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فَاسْتَعِنْ بِهَا ، فَصَاحَ قَالَ : لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا ، رُدَّهَا ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : إِنِ احْتَجْتَ إِلَيْهَا وَإِلَّا فَضَعْهَا مَوَاضِعَهَا ، فَقَالَ عُمَيْرٌ : وَاللَّهِ مَا لِي شَيْءٌ أَجْعَلُهَا فِيهِ ، فَشَقَّتِ امْرَأَتُهُ أَسْفَلَ دِرْعِهَا فَأَعْطَتْهُ خِرْقَةً فَجَعَلَهَا فِيهَا ، ثُمَّ خَرَجَ فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَبْنَاءِ الشُّهَدَاءِ وَالْفُقَرَاءِ . ثُمَّ رَجَعَ وَالرَّسُولُ يَظُنُّ أَنَّهُ يُعْطِيهِ مِنْهَا شَيْئًا ، فَقَالَ لَهُ : أَقْرِئْ مِنِّي أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ السَّلَامَ . ¤ فَرَجَعَ الْحَارِثُ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : مَا رَأَيْتَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حَالًا شَدِيدَةً . قَالَ : فَمَا صَنَعَ بِالدَّنَانِيرِ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي . ¤ قَالَ : وَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ : إِذَا جَاءَكَ كِتَابِي فَلَا تَضَعْهُ مِنْ يَدِكَ حَتَّى تُقْبِلَ ، فَأَقْبَلَ عَلَى عُمَرَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : مَا صَنَعْتَ بِالدَّنَانِيرِ ؟ قَالَ : صَنَعْتُ مَا صَنَعْتُ ، وَمَا سُؤَالُكَ عَنْهَا ؟ قَالَ : أَنْشُدُ عَلَيْكَ لَتُخْبِرَنِّي بِمَا صَنَعْتَ بِهَا قَالَ : قَدَّمْتُهَا لِنَفْسِي ، فَقَالَ : رَحِمَكَ اللَّهُ . فَأَمَرَ لَهُ عُمَرُ بِوَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ وَثَوْبَيْنِ ، فَقَالَ : أَمَّا الطَّعَامُ فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ؛ قَدْ تَرَكْتُ فِي الْمَنْزِلِ صَاعَيْنِ مِنْ شَعِيرٍ إِلَى أَنْ آكُلَ ذَلِكَ ، قَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالرِّزْقِ ، فَلَمْ يَأْخُذِ الطَّعَامَ . وَأَمَّا الثَّوْبَانِ : فَقَالَ : إِنَّ فُلَانَةً عَارِيَةٌ . فَأَخَذَهُمَا وَرَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ هَلَكَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ فَشَقَّ عَلَيْهِ وَتَرَحَّمَ عَلَيْهِ . فَخَرَجَ يَمْشِي وَمَعَهُ الْمَشَّاءُونَ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : لِيَتَمَنَّ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ أُمْنِيَّتَهُ . ¤ فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي مَالًا ؛ فَأُعْتِقُ لِوَجْهِ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا . وَقَالَ آخَرُ : وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي مَالًا ؛ فَأَعْتِقُ لِوَجْهِ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا ، وَقَالَ آخَرُ : وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي مَالًا ؛ فَأُنْفِقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . وَقَالَ آخَرُ : وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي قُوَّةً ؛ فَأَمْتَحَ بِدَلْوٍ مَاءَ زَمْزَمَ لِحَاجِّ بَيْتِ اللَّهِ . فَقَالَ عُمَرُ : وَدِدْتُ أَنَّ لِي رَجُلًا مِثْلَ عُمَيْرٍ ، وَدِدْتُ أَنَّ لِي رِجَالًا مِثْلَ عُمَيْرٍ ؛ أَسْتَعِينُ بِهِمْ فِي أَعْمَالِ الْمُسْلِمِينَ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کو حمص کا گورنر مقرر کر کے بھیجا تھا ، وہ ایک سال وہاں مقیم رہے وہ اس دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نہیں آئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے نائب سے کہا: کہ تم سیدنا عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کو خط لکھو ، اللہ کی قسم ! اس کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اس نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے ، اسے یہ لکھو کہ جب میرا یہ مکتوب تمہارے پاس آئے ، تو تم آ جاؤ اور جب تم میرا یہ مکتوب دیکھو تو اس وقت تمہارے پاس جو مسلمان آئے ہوئے ہوں ، ان کو بھی لے آنا ، سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنا تھیلا پکڑا ، اس میں زاد سفر رکھا اور پیالہ رکھا اور اس کو ساتھ لٹکایا اور اپنا نیزہ پکڑا اور وہ حمص سے پیدل چل کر روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ پہنچے ، راوی کہتے ہیں : جب وہ مدینہ منورہ آئے تو ان کا رنگ متغیر ہو چکا تھا ، ان کا چہرہ غبار آلود تھا ، ان کے بال بڑھ چکے تھے ، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! آپ پر سلامتی نازل ہو اور اللہ کی رحمت نازل ہو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ کو میرا معاملہ کیا لگتا ہے ؟ کیا آپ مجھے دیکھ نہیں رہے کہ میرا جسم ٹھیک ہے ، خون پاک ہے ، میرے ساتھ دنیا موجود ہے ، جسے میں سینگ سے پکڑ کر کھینچ کر لایا ہوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہارے پاس کیا ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ سمجھے تھے کہ شاید وہ مال لے کر آئے ہیں ، انہوں نے کہا: میرے پاس میرا یہ تھیلا ہے جس میں ، میں نے اپنا زاد سفر اور پیالہ رکھا ہے ، جس میں میں کھاتا ہوں اور اس کے ذریعے میں اپنے سر اور کپڑے کو بھی دھو لیتا ہوں ، اور ایک میرا برتن ہے ، جس میں وضو کے لئے پانی لے لیتا ہوں اور پینے کے لئے لے لیتا ہوں ، اور میرا ایک نیزہ بھی ہے ، جس کے ساتھ میں ٹیک بھی لگا لیتا ہوں اور اس کے ذریعے میں اپنے دشمن کے ساتھ جنگ بھی کر لیتا ہوں ، اگر وہ میرے مقابل آ جائے ، اللہ کی قسم ! دنیا میرے اسی ساز و سامان کی پیروکار ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم پیدل چل کر آئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا کوئی ایسا شخص نہیں تھا ، جو تمہیں ایک سواری تحفے کے طور پر دے دیتا ، تاکہ تم اس پر سوار ہو جاتے ، انہوں نے کہا: ان لوگوں نے ایسا نہیں کیا ، اور میں نے ان سے یہ چیز مانگی بھی نہیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ مسلمان برے ہیں جن کے پاس سے نکل کر تم آئے ہو ، تو سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمر ! آپ اللہ سے ڈریں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیبت کرنے سے منع کیا ہے ، میں نے ان لوگوں کو صبح کی نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیا معاملہ ہے جس کی خاطر میں نے تمہیں بھیجا تھا ، تم نے کیا کیا ؟ سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے امیر المؤمنین ! آپ کس چیز کے بارے میں پوچھنا چاہ رہے ہیں ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سبحان اللہ ! سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں آپ کو غمگین کر دوں گا ، تو میں نے آپ کو یہ بات نہیں بتائی تھی ، جب آپ نے مجھے پیغام بھیجا اور آپ کا پیغام مجھ تک پہنچا ، تو میں شہر میں آیا میں نے شہر کے نیک لوگوں کو جمع کیا اور میں نے ان کے مال غنیمت کا ان کو نگران مقرر کیا اور جب ان لوگوں نے اس کو اکٹھا کر لیا اور میں نے اس کے خرچ کا تعین کر دیا ، تو میں آیا اگر اس میں سے آپ کا بھی کوئی حصہ ہوتا ، تو وہ میں آپ کے پاس لے آتا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم ہمارے لئے کچھ نہیں لے کے آئے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمیر کے لئے نئے سرے سے حکم نامہ جاری کرو ، تو سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ ٹھیک نہیں ہے ، میں آپ کے لئے کام نہیں کروں گا ، اور نہ ہی آپ کے بعد کسی اور کے لئے کام کروں گا ، اللہ کی قسم ! میں سلامت میں ہی رہوں گا ، بلکہ میں نے اسلام ہی قبول نہیں کیا ہو گا کہ اگر میں نے کسی عیسائی کو بھی یہ کہا: ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں رسوا کرے ، تو اے سیدنا عمر ! آپ مجھے اس کام کے لئے دوبارہ بھیجنا چاہ رہے ہیں ، میری زندگی کا سب سے زیادہ بدنصیب دن وہ ہو گا ، جب میں آپ سے پیچھے رہ جاؤں ، اے عمر ! پھر انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دی ، تو وہ اپنے گھر واپس چلے گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اُن کے گھر اور مدینہ منورہ کے درمیان کچھ میل کا فاصلہ تھا ، جب سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اس نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے ، پھر انہوں نے ایک شخص کو بھیجا ، جس کا نام حارث تھا ، انہوں نے کہا: کہ تم جاؤ اور اس کے ہاں یوں ٹھہرنا ، جیسے مہمان ہو ، اگر تمہیں کوئی اس طرح کا نشان نظر آئے ( جس سے خیانت ظاہر ہو رہی ہو ) تو آ جانا اور اگر تم مشکل صورت حال دیکھو ( یعنی ان کے گھر میں غربت ہو ) تو تم ایک سو دینار اسے دیدینا ۔ حارث نامی وہ شخص گیا ، سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ اس وقت اپنی دیوار کے سائے میں بیٹھے ہوئے اپنی قمیص کو سی رہے تھے ، اس شخص نے انہیں سلام کیا سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، تم یہاں ٹھہر جاؤ ! وہ شخص وہاں ٹھہر گیا ، پھر سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : تم کہاں سے آئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : مدینہ منورہ سے ، سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے امیر المؤمنین کو کیسی حالت میں چھوڑا ہے ؟ اس نے بتایا : ٹھیک ہیں ، سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے مسلمانوں کو کیسی حالت میں چھوڑا ہے ؟ اس نے بتایا : وہ بھی ٹھیک ہیں ، سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا وہ لوگ حدود قائم نہیں کرتے ہیں ؟ تو اس شخص نے بتایا : جی ہاں ! ( یعنی قائم کرتے ہیں ) انہوں نے اپنے بیٹے کو سزا دی تھی ، جس نے ایک برائی کا ارتکاب کیا تھا اور اس سزا کی وجہ سے اس بچے کا انتقال ہو گیا تھا ، تو سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مدد فرمانا ، کیونکہ میرے علم کے مطابق وہ تیرے ساتھ محبت رکھنے کی وجہ سے اتنے سخت ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : وہ شخص اُن کے ہاں تین دن ٹھہرا رہا ، ان لوگوں کو کھانے کے لئے صرف جو کی روٹی ملتی تھی ، وہ لوگ جو کی اس روٹی کا کچھ حصہ توڑ کر کھا لیتے تھے اور باقی رکھ دیتے تھے ، یہاں تک کہ انہیں بھوک لاحق ہو گئی ، تو سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا: اے فرد ! تم نے ہمیں بھوک کا شکار کر دیا ہے ، اگر تم مناسب سمجھو تو ہمارے پاس سے روانہ ہو جاؤ ، راوی کہتے ہیں : تو اس شخص نے دینار نکالے اور وہ ان کے حوالے کیے اور یہ کہا: یہ امیر المؤمنین نے آپ کو بھجوائے ہیں ، آپ ان کے ذریعے مدد حاصل کریں ، تو انہوں نے چیخ ماری اور کہا: مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے تم انہیں واپس لے جاؤ ، ان کی اہلیہ نے ان سے کہا: اگر آپ کو ان کی ضرورت ہے ، تو لے لیں اور اگر نہیں ہے تو پھر اسے صحیح جگہ پر خرچ کر دیں ، سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے کہ جس میں اُس کو خرچ کروں ، تو اس عورت نے اپنی چادر کا نیچے والا حصہ چیرا اور وہ ٹکڑا انہیں دیا ، انہوں نے اس میں وہ دینار رکھ دیے پھر وہ باہر تشریف لے گئے انہوں نے وہ دینار شہداء اور غریبوں کے بچوں میں تقسیم کر دیے ، پھر وہ واپس آ گئے ، قاصد یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید وہ اسے بھی اُن میں سے کچھ دیں گے ، انہوں نے قاصد سے کہا: تم امیر المؤمنین کو میری طرف سے سلام کہہ دینا ۔ جب حارث نامی شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے کیا دیکھا ؟ تو اس نے کہا: اے امیر المؤمنین ! میں نے مشکل صورت حال دیکھی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اس نے دیناروں کا کیا کیا ؟ قاصد نے کہا: مجھے نہیں معلوم ، راوی کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خط لکھا کہ جب میرا مکتوب تمہارے پاس آئے تو تم اسے ہاتھ میں رکھنے سے پہلے میری طرف روانہ ہو جانا ، پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے دیناروں کا کیا کیا ؟ انہوں نے کہا: میں نے ان کا جو بھی کیا ہو ، آپ اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہیں ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے ان کا کیا کیا ؟ تو سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے اپنی ذات کے لئے وہ آگے بھجوا دیے ہیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ انہیں اناج کا ایک وسق اور دو کپڑے دیے جائیں ، تو سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا: جہاں تک اناج کا تعلق ہے تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ میں اپنے گھر میں جو کے دو صاع چھوڑ کے آیا ہوں ، وہ آگے میرے کام آتے رہیں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مزید عطا کر دے گا ، تو انہوں نے اناج نہیں لیا ، پھر انہوں نے فرمایا : جہاں تک دو کپڑوں کا تعلق ہے ، تو فلاں خاتون کو کپڑوں کی ضرورت ہے ، انہوں نے وہ دو کپڑے لئے اور اس کو لے کر اپنے گھر آ گئے ، پھر وہ اپنے گھر میں ہی مقیم رہے ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ، اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے ۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو یہ خبر اُن پر بہت گراں گزری ، انہوں نے سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ کے لئے رحمت کے کلمات پڑھے ، وہ پیدل چلتے ہوئے نکلے ، ان کے ساتھ دوسرے پیدل لوگ بھی تھے ، یہاں تک کہ وہ بقیع غرقد کے پاس آئے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : تم میں سے ہر ایک شخص اپنی اپنی خواہش بیان کرے ، تو ایک شخص نے کہا: اے امیر المؤمنین ! میری یہ خواہش تھی کہ میرے پاس مال موجود ہوتا اور میں اس کے ذریعے اللہ کی ذات کی خاطر اتنے اتنے لوگوں کو آزاد کر دیتا ، ایک اور شخص نے کہا: میری یہ خواہش تھی کہ میرے پاس مال موجود ہوتا ، اُسے میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ، ایک اور شخص نے کہا: میری یہ خواہش تھی کہ میرے پاس قوت موجود ہوتی اور میں اس قوت کے ذریعے آب زمزم نکال کر بیت اللہ کے حاجیوں کو دیتا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری یہ خواہش ہے کہ میرے پاس عمیر جیسا کوئی فرد ہوتا ، اور میری یہ خواہش ہے کہ میرے پاس عمیر جیسے کئی افراد ہوتے ، جن کے ذریعے میں مسلمانوں کے کاموں میں مدد حاصل کر سکتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن ابراہیم بن عثرہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن ابراہیم بن عثرہ ہے اور وہ متروک ہے ۔