کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 16021
عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ : أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ حُلَّتَانِ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " يَا ضَمْرَةُ ، أَتُرَى ثَوْبَيْكَ هَذَيْنِ مُدْخِلَيْكَ الْجَنَّةَ ؟ " . فَقَالَ : لَئِنِ اسْتَغْفَرْتَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَقْعُدُ حَتَّى أَنْزِعَهُمَا عَنِّي . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ " . فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى نَزْعَهُمَا عَنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے جسم پر یمن کے بنے ہوئے دو حلے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ضمرہ ! کیا تم اپنے ان دو کپڑوں کے بارے میں یہ سمجھتے ہو کہ یہ تمہیں جنت میں داخل کروا دیں گے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ، تو میں بیٹھنے سے پہلے انہیں اُتار دوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو ضمرہ کی مغفرت کر دے ، تو وہ تیزی سے گئے اور انہوں نے وہ لباس تبدیل کر لیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 16022
وَعَنْهُ : أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ حَرِّمْ دَمَ ابْنِ ثَعْلَبَةَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ وَالْكُفَّارِ " . ¤ قَالَ : فَكُنْتُ أَحْمِلُ فِي عُرْضِ الْقَوْمِ فَيَتَرَاءَى لِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلْفَهُمْ ، فَقَالُوا : يَا ابْنَ ثَعْلَبَةَ ، إِنَّكَ لَتُغَرَّرُ وَتَحْمِلُ عَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَرَاءَى لِي خَلْفَهُمْ ، فَأَحْمِلُ عَلَيْهِمْ حَتَّى أَقِفَ عِنْدَهُ ، ثُمَّ يَتَرَاءَى لِي أَصْحَابِي فَأَحْمِلُ حَتَّى أَكُونَ مَعَ أَصْحَابِي . قَالَ : فَعُمِّرَ زَمَانًا طَوِيلًا مِنْ دَهْرِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے شہادت کی دعا کیجئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! ابن ثعلبہ کے خون کو مشرکین اور کفار پر حرام قرار دیدے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میں دشمن پر حملہ کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملاحظہ فرماتے کہ میں ان کے پیچھے ہوں ، تو لوگ کہتے : اے ابن ثعلبہ ! تم ان کے پیچھے ہو ؟ تم انجام کی طرف توجہ دیے بغیر دشمن پر حملہ کر رہے ہو ، تو وہ کہتے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کے پیچھے ملاحظہ کیا ہوا ہے ، تو میں ان پر حملہ کرتا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ٹھہر جاتا ، پھر میں اپنے ساتھیوں کی طرف جاتا اور ان کے ساتھ مل کر حملہ آور ہو جاتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ( ان صحابی نے ) لمبی عمر پائی تھی ۔