کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15994
عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ قَالَ : بَيْنَمَا عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ يُكَلِّمُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَكَانَ عَامِلًا ، فَأَغْضَبُهُ فَأَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَبْضَةً مِنَ الْبَطْحَاءِ فَرَجَمَهُ بِهَا ، فَأَصَابَ حَجْرٌ مِنْهَا جَبِينَهُ فَشَجَّهُ ، فَسَالَ الدَّمُ عَلَى لِحْيَتِهِ ، فَكَأَنَّهُ نَدِمَ فَقَالَ : امْسَحِ الدَّمَ عَنْ لِحْيَتِكَ ، فَقَالَ : لَا يَهُولَنَّكَ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَوَاللَّهِ لَمَا انْتَهَكْتُ مِمَّنْ وَلَّيْتَنِي أَمْرَهُ أَشَدُّ مِمَّا انْتَهَكْتَ مِنِّي . قَالَ : فَكَأَنَّهُ أَعْجَبَ عُمَرَ ذَلِكَ مِنْهُ وَزَادَهُ خَيْرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
نوفل بن مساحق بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ سرکاری اہلکار تھے ان کی کسی بات پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زمین سے مٹھی بھر کنکریاں اُٹھائیں اور وہ ان کو ماریں تو ان میں سے ایک پتھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی پیشانی پر لگا اور وہاں سے خون نکل آیا اور نکل کر ان کی داڑھی پر بہہ گیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس پر ندامت ہوئی ، انہوں نے کہا: تم اپنی داڑھی سے خون پونچھ لو ! تو سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین ! یہ چیز آپ کو پریشانی کا شکار نہ کرے ، اللہ کی قسم ! آپ نے مجھے جن لوگوں کے امور کا نگران بنایا تھا ، میں نے ان کے ساتھ اس سے زیادہ سختی کی تھی ، جتنی آپ نے میرے ساتھ کی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی یہ بات پسند آئی اور ان کی بھلائی میں اضافہ ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نوفل بن مساحق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15994
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8308)»