کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15990
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ : قَدِمْتُ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ حِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَبِسْنَا حُلَلَنَا بِبَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : مَنْ يُمْسِكُ لَنَا رَوَاحِلَنَا ؟ فَكُلُّ الْقَوْمِ أَحَبَّ الدُّخُولَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَرِهَ التَّخَلُّفَ عَنْهُ ، قَالَ عُثْمَانُ : وَكُنْتُ أَصْغَرَهُمْ ، فَقُلْتُ : إِنْ شِئْتُمْ أَمْسَكْتُ لَكُمْ عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمْ عَهْدَ اللَّهِ لَتُمْسِكُنَّ لِي إِذَا خَرَجْتُمْ قَالُوا : فَذَلِكَ لَكَ ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجُوا ، فَقَالُوا : انْطَلَقَ بِنَا ، قُلْتُ : أَيْنَ ؟ قَالُوا : إِلَى أَهْلِكَ ، فَقُلْتُ : خَرَجْتُ مِنْ أَهْلِي حَتَّى إِذَا حَلَلْتُ بِبَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْجِعُ وَلَا أَدْخُلُ عَلَيْهِ وَقَدْ أَعْطَيْتُمُونِي مَا قَدْ عَلِمْتُمْ [ مِنَ الْعَهْدِ ] ؟ قَالُوا : فَاعْجَلْ لَنَا ؛ فَإِنَّا قَدْ كَفَيْنَاكَ الْمَسْأَلَةَ فَلَمْ نَدَعْ شَيْئًا إِلَّا سَأَلْنَاهُ ، فَدَخَلْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُفَقِّهَنِي فِي الدِّينِ وَيُعَلِّمَنِي قَالَ : " مَاذَا قُلْتَ ؟ " . فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ الْقَوْلَ ، فَقَالَ : " لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ ، اذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرٌ عَلَيْهِمْ وَعَلَى مَنْ تَقْدُمُ عَلَيْهِ مَنْ قَوْمِكَ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَيَّادٍ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ” ثقیف “ قبیلے کے وفد میں شامل ہو کر آیا ، جب وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ، ہم نے اپنے لباس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس پہنے ، پھر ان لوگوں نے دریافت کیا : کون ہماری سواریوں کی دیکھ بھال کرے گا ؟ سب لوگوں کو یہ بات پسند تھی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں ، اور کسی کو بھی پیچھے رہنا پسند نہیں تھا ، تو میں ان لوگوں میں سب سے کمسن تھا ، میں نے کہا: اگر تم لوگ چاہو ، تو میں تمہاری خاطر ان سواریوں کو روک کے رکھتا ہوں ، اس شرط پر کہ تم مجھے اللہ کے نام کا یہ عہد دو ، کہ جب تم باہر آ جاؤ گے ، تو تم مجھے بھی موقع دو گے ، ان لوگوں نے کہا: تمہیں یہ چیز مل گئی ، پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر وہ لوگ واپس آئے ، تو انہوں نے کہا: چلو ! چلیں ، میں نے دریافت کیا : کہاں ؟ انہوں نے کہا: اپنے گھر ، میں نے کہا: اپنے گھر سے تو نکل کے میں آیا ہوں ، اب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر پہنچا ہوں ، تو آپ سے ملے بغیر واپس چلا جاؤں ؟ تم لوگوں نے مجھے عہد دیا تھا ، جو تم جانتے ہو ان لوگوں نے کہا: اچھا پھر جلدی آ جانا ، کیونکہ ہم نے تمہاری جگہ تمام سوالات دریافت کر لیے ہیں ، کوئی چیز نہیں چھوڑی ، ہر چیز کے بارے میں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر لیا ہے ، راوی کہتے ہیں : پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے دین کی سمجھ بوجھ اور دین کا فہم عطا کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے کیا کہا: ہے ؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بات دہرا دی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ تمہارے ساتھیوں میں سے کسی نے اس چیز کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا ، تم جاؤ ! تم اُن لوگوں کے امیر ہو اور تمہاری قوم سے تعلق رکھنے والا جو بھی فرد ہو گا ، تم اُس کے امیر ہو گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حکیم بن حکیم بن عباد کا معاملہ مختلف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حکیم بن حکیم بن عباد کا معاملہ مختلف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 15991
وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى مُخْتَصَرَةٍ قَالَ فِيهَا : فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ مُصْحَفًا كَانَ عِنْدَهُ فَأَعْطَانِيهِ . ¤
محمد محی الدین
ایک اور مختصر روایت میں یہ الفاظ منقول ہیں : راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ سے ایک مصحف مانگ لیا ، جو آپ کے پاس موجود تھا ، تو وہ آپ نے مجھے عطا کر دیا ۔
حدیث نمبر: 15992
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ وَمَعَهُ كِتَابٌ قَالَ : " لَأُعْطِيَنَّ هَذَا الْكِتَابَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قُمْ يَا عُثْمَانُ بْنَ أَبِي الْعَاصِ " . فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَعْلَى أَبُو أُمَيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے ، آپ کے دست مبارک میں ایک تحریر تھی ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہ تحریر میں اس شخص کو عطا کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اُس سے محبت رکھتے ہیں ، اے عثمان بن ابوالعاص ! تم کھڑے ہو جاؤ ، تو سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تحریر اُن کے حوالے کر دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یعلیٰ ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یعلیٰ ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15993
وَعَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ : أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ ، وَكَانَ لَهُ بَيْتٌ قَدْ أَخْلَاهُ لِلْحَدِيثِ ، فَمُرَّ عَلَيْهِ بِكَبْشٍ ، فَقَالَ لِصَاحِبِهِ : بِكَمْ أَخَذْتَهُ ؟ فَقَالَ : بِاثْنَيْ عَشَرَ دِرْهَمًا ، فَقُلْتُ : لَوْ كَانَ مَعِي اثْنَا عَشَرَ دِرْهَمًا اشْتَرَيْتُ بِهَا كَبْشًا ، فَضَحَّيْتُ وَأَطْعَمْتُ عِيَالِي ، فَلَمَّا قُمْتُ اتَّبَعَنِي رَسُولُ عُثْمَانَ بِصُرَّةٍ فِيهَا خَمْسُونَ دِرْهَمًا ، فَمَا رَأَيْتُ دَرَاهِمَ قَطُّ كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهَا ، أَعْطَانِي وَهُوَ لَهَا مُحْتَسِبٌ وَأَنَا إِلَيْهَا مُحْتَاجٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابونضرہ بیان کرتے ہیں : میں ، سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ، دس دنوں میں حاضر ہوا ( شاید اس سے مراد یہ ہے کہ ذوالحج کے پہلے عشرے میں حاضر ہوا ) اُن کا ایک کمرہ تھا ، جسے انہوں نے بات چیت کے لئے مخصوص کیا ہوا تھا ، ایک دنبہ ان کے پاس سے گزرا ، انہوں نے دنبے کے مالک سے دریافت کیا : تم نے یہ کتنے کے عوض میں خریدا ہے ؟ اس نے بتایا : بارہ درہم کے عوض میں ، راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اگر میرے پاس بارہ درہم ہوتے ، تو میں نے اس کے عوض میں دنبہ خرید لینا تھا اور قربانی کر لینی تھی ، اور اپنے گھر والوں کو کھانا کھلانا تھا ، جب میں ان کے پاس سے اٹھا تو میرے پیچھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا قاصد ایک تھیلی لے کے آیا جس میں پچاس درہم موجود تھے میں نے ان سے زیادہ برکت والے درہم کبھی نہیں دیکھے ، انہوں نے وہ مجھے دیدیے اور وہ اس کے ذریعے ثواب کی امید رکھتے تھے اور مجھے ان کی ضرورت تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔