کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت جریر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15995
عَنْ جَرِيرٍ قَالَ : لَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي ، ثُمَّ حَلَلْتُ عَيْبَتِي ، ثُمَّ لَبِسْتُ حُلَّتِي ، ثُمَّ دَخَلْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ ، فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ ، فَقُلْتُ لِجَلِيسِي : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، ذَكَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ذَكَرَكَ [ آنِفًا ] بِأَحْسَنِ ذِكْرٍ ، فَبَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ وَقَالَ : " يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ - أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ - رَجُلٌ مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ ، أَلَا إِنَّ عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةَ مَلَكٍ " . ¤ قَالَ جَرِيرٌ : فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَلَى مَا أَبْلَانِي ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُمَا ، رِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب میں مدینہ منورہ کے قریب پہنچا ، تو میں نے اپنی سواری کو باندھ دیا ، پھر میں نے اپنا تھیلا کھولا اور اپنا عمدہ لباس پہنا ، پھر میں ( مسجد میں ) داخل ہوا ، تو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، لوگ غور سے میری طرف دیکھنے لگے ، میں نے اپنے ساتھ بیٹھے شخص سے دریافت کیا : اے اللہ کے بندے ! کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ذکر کیا ہے ؟ اس نے بتایا : جی ہاں ! ابھی تھوڑی دیر پہلے عمدہ طریقے سے آپ کا ذکر کیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، آپ نے خطبے کے دوران ارشاد فرمایا : ” اس دروازے سے تمہارے سامنے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس راستے سے تمہارے سامنے ایک ایسا شخص آئے گا ، جو یمن کے لوگوں میں سب سے بہتر ہو گا ، یاد رکھنا ! اُس کے چہرے پر فرشتے کے ہاتھ پھیرنے کا اثر ہو گا ۔ “ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو میں نے اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی کہ اس نے مجھے یہ چیز عطا کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ ، ان دونوں کے حوالے سے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مغیرہ بن شبل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15995
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (359/4)»
حدیث نمبر: 15996
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَطْلَعُ عَلَيْكُمْ خَيْرُ ذِي يَمَنٍ ، عَلَيْهِ مَسْحَةُ مَلَكٍ " . فَطَلَعَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے سامنے یمن کا بہترین فرد آئے گا ، جس پر فرشتے کے ہاتھ پھیرنے کا اثر ہو گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سامنے آئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15996
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2210)»
حدیث نمبر: 15997
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا يَوْمًا قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ أَكْثَرُهُمْ مِنَ الْيَمَنِ ، إِذْ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذِهِ الثَّنِيَّةِ خَيْرُ ذِي يَمَنٍ " . فَبَقِيَ الْقَوْمُ كُلُّ رَجُلٍ يَرْجُو أَنْ يَكُونَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ، فَإِذَا هُمْ بِجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَقَدْ طَلَعَ مِنَ الثَّنِيَّةِ ، فَجَاءَ حَتَّى سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى أَصْحَابِهِ ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ بِأَجْمَعِهِمُ السَّلَامَ ، ثُمَّ بَسَطَ عَرْضَ رِدَائِهِ وَقَالَ لَهُ : " عَلَى هَذَا يَا جَرِيرُ فَاقْعُدْ " . فَقَعَدَ مَعَهُمْ مَلِيًّا ثُمَّ قَامَ فَانْصَرَفَ ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَقَدْ رَأَيْنَا الْيَوْمَ مِنْكَ مَنْظَرًا لِجَرِيرٍ مَا رَأَيْنَاهُ لِأَحَدٍ قَالَ : " نَعَمْ ؛ هَذَا كِرِيمُ قَوْمِهِ ، فَإِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ضمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا ، ان میں سے زیادہ تر لوگوں کا تعلق یمن سے تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے ارشاد فرمایا : تمہارے سامنے اس گھاٹی سے یمن کا بہترین فرد آئے گا ، تو تمام لوگ یہ توقع رکھنے لگے کہ شاید اس کے گھرانے کا کوئی فرد آ جائے ، تو اسی دوران گھاٹی سے سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سامنے آئے ، وہ آگے آئے ، یہاں تک کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو سلام کیا ، ان سب لوگوں نے سلام کا جواب دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کو بچھایا اور ان سے فرمایا : اے جریر ! اس پر بیٹھ جاؤ ، تو وہ ان لوگوں کے ساتھ کچھ دیر بیٹھے رہے ، پھر وہ اُٹھے اور واپس چلے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی : ہم نے جریر کے لئے آپ کی طرف سے ایک ایسی صورت حال دیکھی ہے ، جو ہم نے کسی کے لئے نہیں دیکھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جی ہاں ! یہ اپنی قوم کا معزز فرد ہے اور جب تمہارے پاس کسی قوم کا کوئی معزز فرد آئے ، تو تم اُس کی عزت افزائی کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15997
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2739)»
حدیث نمبر: 15998
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَأْتِيكُمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ خَيْرُ ذِي يَمَنٍ ، عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةُ مَلَكٍ " . قَالَ : فَمَا مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ إِلَّا يَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مِنْهُ ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَاكِبٌ ، فَانْتَهَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، وَبَايَعَهُ وَهَاجَرَ . قَالَ : " مَنْ أَنْتَ ؟ " . قَالَ : أَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ ، فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جَنْبِهِ ، وَمَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَصَدْرِهِ وَبَطْنِهِ ، حَتَّى انْحَنَى جَرِيرٌ حَيَاءً أَنْ يُدْخِلَ يَدَهُ تَحْتَ إِزَارِهِ وَهُوَ يَدْعُو لَهُ بِالْبَرَكَةِ وَلِذُرِّيَّتِهِ ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ وَظَهْرَهُ وَهُوَ يَدْعُو لَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اس راستے سے تمہارے سامنے یمن کا بہترین فرد آئے گا ، اس کے چہرے پر فرشتے کے ہاتھ پھیرنے کا اثر ہو گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : حاضرین میں سے ہر فرد یہ آرزو کرنے لگا کہ آنے والا شخص اس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہو ، اسی دوران ایک سوار ان کے پاس آیا جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو وہ اپنی سواری سے اترا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اس کے ساتھ مصافحہ کیا ، اس سے بیعت لی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے بتایا : میں جریر بن عبداللہ بجلی ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پہلو میں بٹھا لیا ، پھر آپ نے اپنا دست مبارک ان کے سر ، ان کے چہرے اور ان کے سینے اور ان کے پیٹ پر پھیرا ، یہاں تک کہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ شرم کی وجہ سے آگے کی طرف جھک گئے ، انہیں یہ لگا کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہبند کے نیچے اپنا ہاتھ داخل کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران ان کے لئے اور ان کی اولاد کے لئے برکت کی دعا کرتے رہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر اور پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لئے دعا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب بجلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15998
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15999
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ ، فَبَايَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاشْتَرَطَ عَلَيَّ : " وَالنُّصْحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " . فَبَايَعْتُهُ عَلَى هَذَا . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ : فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ : " وَالنُّصْحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِطُرُقٍ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہجرت پر آپ کی بیعت کروں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیعت لی اور مجھ پر یہ شرط لی کہ ہر مسلمان کی خیرخواہی بھی کرنی ہے ، تو میں نے اس بات پر بھی آپ کی بیعت کر لی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ شرط عائد کی کہ ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف طرق کے حوالے سے نقل کی ہے ، جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15999
درجۂ حدیث محدثین: إسنادُ بَعضِ طُرُقِہٖ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2464)»
حدیث نمبر: 16000
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " جَرِيرٌ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ ظَهْرًا لِبَطْنٍ " . قَالَهَا ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جریر ، ہم اہل بیت میں سے ہے ، جیسے باطن کے لئے ظاہر ہوتا ہے ( یا پیٹ کے لئے پشت ہوتی ہے ) ۔ “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابوبکر بن حفص نامی راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، سلیمان بن ابراہیم بن جریر نامی راوی کو ثقہ قرار دیتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16000
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2211)»
حدیث نمبر: 16001
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : كَانَتْ إِذَا قَدِمَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوُفُودُ دَعَانِي ، فَبَاهَاهُمْ بِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ عَمْرٍو الْأُمَوِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب وفود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلاتے تھے اور میرے حوالے سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے سامنے فخر کا اظہار کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن عمرو اموی ہے اور وہ متروک ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16001
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2420)»
حدیث نمبر: 16002
وَعَنِ ابْنٍ لِجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ نَعْلُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ طُولُهَا ذِرَاعٌ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَابْنُ جَرِيرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں : سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے جوتے کا سائز ایک ” ذراع “ تھا ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اور سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سے میں واقف نہیں ہوں اور اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16002
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16003
وَعَنْ سُلَيْمٍ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ : كُنْتُ رَفَّاءً عَلَى بَابِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَكَانَ يَخْرُجُ فَيَرْكَبُ بَغْلَةً لَهُ وَيَحْمِلُ غُلَامَهُ خَلْفَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَسُلَيْمٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سلیم ابوہذیل بیان کرتے ہیں : میں سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے دروازے پر دربان تھا ، وہ نکلے ، اپنے خچر پر سوار ہوئے اور انہوں نے اپنے غلام کو اپنے پیچھے سوار کروا لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے سلیم نامی راوی اور محمد بن منصور کلبی نامی راوی ، ان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16003
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2214)»