کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15987
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ بْنِ وَهَبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ ، وَأُمُّهُ عَمْرَةُ بِنْتُ الْأَرْقَمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ . كَانَ قَدْ عَمِيَ قَبْلَ وَفَاتِهِ . وَكَانَ كَاتِبًا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ بن ارقم بن عبدیغوث بن وہب بن عبدمناف بن زہرہ ہیں ، ان کی والدہ عمرہ بنت ارقم بن ہاشم بن عبدمناف ہیں ، یہ وفات سے پہلے نابینا ہو گئے تھے ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لئے کتابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15987
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15988
- (کتاب میں موجود نہیں ہے)
محمد محی الدین
(کتاب میں موجود نہیں ہے)
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15988
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 15989
وَعَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِتَابُ رَجُلٌ ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ : " أَجِبْ عَنِّي " . فَكَتَبَ جَوَابَهُ ثُمَّ قَرَأَهُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ ، اللَّهُمَّ وَفِّقْهُ " . فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ كَانَ يُشَاوِرُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُعْضَلًا ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالواحد بن ابوعون بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی شخص کا مکتوب آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم میری طرف سے جواب لکھو ! انہوں نے جواب لکھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کے سنایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے ٹھیک لکھا ہے ، اور اچھا کام کیا ہے ، اے اللہ ! تو اسے توفیق عطا فرما ! “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تھے ، تو وہ اُن سے مشورہ لیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” معضل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15989
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن