کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15970
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ أَنَّهُ : لَقِيَ سَفِينَةَ بِبَطْنِ نَخْلَةَ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ قَالَ : فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ ثَمَانِ لَيَالٍ أَسْأَلُهُ عَنْ أَحَادِيثِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قُلْتُ لَهُ : مَا اسْمُكَ ؟ قَالَ : مَا أَنَا بِمُخْبِرِكَ ! سَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَفِينَةَ . قُلْتُ : وَلِمَ سَمَّاكَ سَفِينَةَ ؟ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ ، فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ مَتَاعُهُمْ ، فَقَالَ لِي : " ابْسُطْ كِسَاءَكَ " . فَبَسَطْتُهُ ، فَجَعَلُوا فِيهِ مَتَاعَهُمْ ثُمَّ حَمَلُوهُ عَلَيَّ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " احْمِلْ ؛ فَإِنَّمَا أَنْتِ سَفِينَةٌ " . فَلَوْ حَمَلْتُ يَوْمَئِذٍ وِقْرَ بَعِيرٍ أَوْ بَعِيرَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ أَوْ أَرْبَعَةٍ أَوْ خَمْسَةٍ أَوْ سِتَّةٍ أَوْ سَبْعَةٍ مَا ثَقُلَ عَلَيَّ إِلَّا أَنْ يَحْفُوا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن جمہان بیان کرتے ہیں : حجاج کے زمانے میں ” بطن نخلہ “ کے مقام پر ان کی ملاقات سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، راوی کہتے ہیں : میں آٹھ دن ان کے پاس ٹھہرا رہا تاکہ ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے بارے میں سوالات کرتا رہوں ، راوی کہتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : آپ کا نام کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میں تمہیں یہ نہیں بتاؤں گا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ” سفینہ “ کا نام دیا ہے ، میں نے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ” سفینہ “ کا نام کیوں دیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی تھے ، ان لوگوں کا ساز و سامان وزنی تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم اپنی چادر کو پھیلاؤ ! میں نے اسے پھیلا دیا ، ان لوگوں نے اپنا سامان اس چادر میں رکھ لیا ، پھر ان لوگوں نے وہ سامان مجھ پر لاد دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ” تم یہ وزن اٹھا لو ! کیونکہ تم سفینہ ہو ۔ “ سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اگر اس وقت میں ایک اونٹ یا دو اونٹوں یا تین اونٹوں یا چار یا پانچ یا چھ یا سات اونٹوں کا وزن بھی اُٹھا لیتا ، تو وہ بھی میرے لئے بوجھ کا سبب نہ بنتا ، البتہ اگر وہ پیدل ہوتے تو معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15970
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2732) اخرجه احمد فى المسند (221/5)»
حدیث نمبر: 15971
وَعَنْ عِمْرَانَ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى وَادٍ . قَالَ : فَجَعَلْتُ أَعْبُرُ النَّاسَ أَوْ أَحْمِلُهُمْ قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا كُنْتَ الْيَوْمَ إِلَّا سَفِينَةً ، أَوْ مَا أَنْتَ إِلَّا سَفِينَةٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عمران بجلی نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، ہم ایک وادی کے پاس پہنچے ، تو میں لوگوں کو عبور کروانے لگا ( یا لوگوں کا وزن اٹھوانے لگا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم آج سفینہ ہو “ ( یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، لیکن مفہوم یہی ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15971
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (221/5)»
حدیث نمبر: 15972
وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ : كُنْتُ فِي الْبَحْرِ ، فَانْكَسَرَتْ سَفِينَتُنَا فَلَمْ نَعْرِفِ الطَّرِيقَ ، فَإِذَا أَنَا بِالْأَسَدِ قَدْ عَرَضَ لَنَا ، فَتَأَخَّرَ أَصْحَابِي فَدَنَوْتُ مِنْهُ ، فَقُلْتُ : أَنَا سَفِينَةُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ أَضْلَلْنَا الطَّرِيقَ ، فَمَشَى بَيْنَ يَدَيَّ حَتَّى أَوْقَفَنَا عَلَى الطَّرِيقِ ، ثُمَّ تَنَحَّى وَدَفَعَنِي كَأَنَّهُ يُرِينِي الطَّرِيقَ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوَدِّعُنَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَانْكَسَرَتْ سَفِينَتِي الَّتِي كُنْتُ فِيهَا ، فَرَكِبْتُ لَوْحًا مِنْ أَلْوَاحِهَا فَطَرَحَنِي اللَّوْحُ فِي أَجَمَةٍ فِيهَا الْأَسَدُ ، فَأَقْبَلَ إِلَيَّ يُرِيدُنِي ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا الْحَارِثِ ، أَنَا سَفِينَةُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَطَأْطَأَ رَأْسَهُ وَأَقْبَلَ إِلَيَّ فَدَفَعَنِي بِمِنْكَبِهِ . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سمندر میں تھا ، ہماری کشتی ٹوٹ گئی ، ہمیں راستے کا پتہ نہیں تھا ، اسی دوران ایک شیر ہمارے سامنے آیا ، میرے ساتھی پیچھے ہٹ گئے ، میں اس کے قریب ہوا ، میں نے کہا: میں ” سفینہ “ ہوں ، جو اللہ کے رسول کا صحابی ہے ، ہم راستے سے بھٹک گئے ہیں ، تو وہ شیر ہمارے سامنے چلتا ہوا گیا ، یہاں تک کہ اس نے ہمیں راستے تک پہنچا دیا ، پھر وہ ایک طرف ہٹا اور اس نے مجھے آگے ہونے کا موقع دیا ، یوں جیسے وہ مجھے راستہ دکھا رہا ہو ، تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ ہم سے رخصت ہونے لگا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میری وہ کشتی ٹوٹ گئی جس میں ، میں موجود تھا ، پھر میں ایک تختے پر سوار ہوا ، اس تختے نے مجھے ایک جنگل میں پہنچا دیا ، جس میں شیر موجود تھا ، وہ میری طرف آیا ، وہ مجھ پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ، میں نے کہا: اے ابوالحارث ! میں ” سفینہ “ ہوں ، جو اللہ کے رسول کا غلام ہے ، تو اس نے اپنے سر کو جھکا لیا اور پھر وہ میری طرف آیا اور اس نے اپنے کندھے کے ذریعے مجھے آگے کیا ، باقی روایت حسب سابق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15972
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2733) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6432)»
حدیث نمبر: 15973
عَنْ سَفِينَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ نَحْوَهُ . وَلَا أَدْرِي مَا مَعْنَى قَوْلِهِ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! ، وَرِجَالُهُمَا وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ۔
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ روایت کے ان الفاظ کا کیا مطلب بنتا ہے ؟ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ، ان دونوں روایات کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15973
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6433)»