کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15974
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا أُلْقِيَنَّ مَا نُوزِعْتُ أَحَدًا مِنْكُمْ عِنْدَ الْحَوْضِ ، فَأَقُولُ : هَذَا مِنْ أَصْحَابِي ، فَيَقُولُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ؟ " . قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . قَالَ : " لَسْتَ مِنْهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں ایسی صورت حال ہرگز نہ پاؤں کہ تم میں سے کسی ایک کو میرے حوض کے پاس آنے سے روکا جائے اور میں کہوں : یہ شخص میرے اصحاب میں سے ایک ہے ، تو فرشتہ کہے : کیا آپ نہیں جانتے ؟ کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نیا کام کیا تھا ؟ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا کیجئے کہ وہ مجھے اُن افراد میں شامل نہ کرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُن میں سے نہیں ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15975
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ : " إِنَّ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي سَيَكْفُرُونَ بَعْدَ إِيمَانِهِمْ " ؟ . قَالَ : " أَجَلْ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، وَلَسْتَ مِنْهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے ہیں : ” میری اُمت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ایمان لانے کے بعد عنقریب کفر اختیار کریں گے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اے ابودرداء ! ( یعنی ایسا ہو گا ) لیکن تم اُن میں سے نہیں ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوعبداللہ اشعری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے ہیں : ” میری اُمت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ایمان لانے کے بعد عنقریب کفر اختیار کریں گے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اے ابودرداء ! ( یعنی ایسا ہو گا ) لیکن تم اُن میں سے نہیں ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوعبداللہ اشعری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 15976
وَعَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : كُنْتُ تَاجِرًا قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَدْتُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَ التِّجَارَةِ وَالْعِبَادَةِ ، فَلَمْ يَسْتَقِمْ ، فَتَرَكْتُ التِّجَارَةَ وَأَقْبَلْتُ عَلَى الْعِبَادَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
خیثمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے میں تاجر تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو گئے تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں تجارت اور عبادت کو اکٹھا کر دوں ، لیکن یہ معاملہ درست نہ ہو سکا ، تو میں نے تجارت کو ترک کر دیا اور عبادت پر برقرار رہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔