کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15968
عَنْ أَبِي مِسْكِينٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مِسْكِينٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ الْبَرَاءِ أَنَّهُ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ابْسُطْ - يَعْنِي يَدَكَ - أُبَايِعْكَ . قَالَ : " وَإِنْ أَمَرْتُكَ بِقَطِيعَةِ وَالِدَيْكَ ؟ " . قُلْتُ : لَا . ثُمَّ عُدْتُ لَهُ فَقُلْتُ : ابْسُطْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ قَالَ : " عَلَامَ " . قُلْتُ : عَلَى الْإِسْلَامِ قَالَ : " وَإِنْ أَمَرْتُكَ بِقَطِيعَةِ وَالِدَيْكَ ؟ " . قُلْتُ : لَا . ¤ ثُمَّ عُدْتُ الثَّالِثَةَ ، وَكَانَتْ لَهُ وَالِدَةٌ وَكَانَ مِنْ أَبَرِّ النَّاسِ بِهَا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا طَلْحَةُ ، إِنَّهُ لَيْسَ فِي دِينِنَا قَطِيعَةُ الرَّحِمِ ، وَلَكِنْ أَحْبَبْتُ أَنْ لَا يَكُونَ فِي دِينِكَ رِيبَةٌ " . فَأَسْلَمَ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ . ثُمَّ مَرِضَ فَعَادَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَهُ مُغْمًى عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَظُنُّ طَلْحَةَ إِلَّا مَقْبُوضًا مِنْ لَيْلَتِهِ ، فَإِنْ أَفَاقَ فَأَرْسِلُوا إِلَيَّ " . فَأَفَاقَ طَلْحَةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : مَا عَادَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالُوا : بَلَى ، فَأَخْبَرُوهُ بِمَا قَالَ قَالَ : فَقَالَ : لَا تُرْسِلُوا إِلَيْهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ فَتَلْسَعَهُ دَابَّةٌ أَوْ يُصِيبُهُ شَيْءٌ ، وَلَكِنْ إِذَا فُقِدْتُ فَأَقْرِءُوهُ مِنِّي السَّلَامَ ، وَقُولُوا لَهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ لِي . فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصُّبْحَ سَأَلَ عَنْهُ ، فَأَخْبَرُوهُ بِمَوْتِهِ وَبِمَا قَالَ قَالَ : فَرَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ وَقَالَ : " اللَّهُمَّ الْقَهُ يَضْحَكُ إِلَيْكَ وَأَنْتَ تَضْحَكُ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَعَبَدُ رَبِّهِ بْنُ صَالِحٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
ابومسکین نے طلحہ بن مسکین کے حوالے سے سیدنا طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : آپ بڑھائیے ! اُن کی مراد یہ تھی کہ آپ اپنا دست مبارک بڑھائیے ، تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ میں تمہیں اپنے والدین سے لاتعلقی کا حکم دوں ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! پھر میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : آپ اپنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں آپ کی بیعت کر لوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس چیز پر ؟ میں نے عرض کی : اسلام پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ میں تمہیں تمہارے والدین کے ساتھ لاتعلقی اختیار کرنے کا حکم دوں ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! پھر میں نے تیسری مرتبہ عرض کی ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اُن صحابی کی ایک والدہ تھیں اور وہ اُس خاتون کے ساتھ سب سے زیادہ اچھا سلوک کیا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : اے طلحہ ! ہمارے دین میں رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا نہیں ہے ، لیکن میں نے اس بات کو پسند کیا کہ تمہیں تمہارے دین کے بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے ، تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور اُن کا اسلام عمدہ ہوا ۔ پھر وہ بیمار ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پایا کہ ان پر بے ہوشی طاری تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : طلحہ کے بارے میں مجھے یہ توقع ہے کہ یہ آج رات انتقال کر جائے گا ، اگر اسے ہوش آ جائے تو مجھے پیغام بھیج کے بلوانا ، نصف رات کے وقت سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو ہوش آ گیا ، انہوں نے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت نہیں کی ؟ لوگوں نے بتایا : جی ہاں ( یعنی کی ہے ) پھر لوگوں نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے بارے میں بتایا ، تو انہوں نے کہا: تم اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی کو نہ بھیجو ! ہو سکتا ہے ، جانے والے شخص کو کوئی جانور ڈنک مار دے ، یا اسے کوئی اور نقصان پہنچ جائے ، البتہ جب صبح ہو جائے ، تو تم میری طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام پیش کر دینا ، اور آپ کو یہ درخواست کر دینا کہ آپ میرے لئے دعائے مغفرت کر دیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی اور ان صاحب کے بارے میں دریافت کیا : تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان صاحب کے انتقال اور ان کے بیان کے بارے میں بتایا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اٹھایا اور یہ دعا کی : ” اے اللہ ! تو اس کے ساتھ ایسی حالت میں ملاقات کرنا کہ وہ تیری طرف دیکھ کے مسکرا رہا ہو ، اور تو اُس کی طرف دیکھ کے مسکرا رہا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل“ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور عبدربہ بن صالح نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15968
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8163)»
حدیث نمبر: 15969
وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ : أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ لَمَّا لَقِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مُرْنِي بِمَا أَحْبَبْتَ فَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا . فَعَجِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِذَلِكَ وَهُوَ غُلَامٌ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَاقْتُلْ أَبَاكَ " . ¤ قَالَ : فَخَرَجَ مُوَلِّيًا لِيَفْعَلَ ، فَدَعَاهُ ، فَقَالَ لَهُ : " أَقْبِلْ ; فَإِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِقَطِيعَةِ رَحِمٍ " . ¤ فَمَرِضَ طَلْحَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُهُ فِي الْمَسَاءِ فِي غَيْمٍ وَبَرْدٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِأَهْلِهِ : " إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا حَدَثَ فِيهِ الْمَوْتُ ، فَآذِنُونِي حَتَّى أَشْهَدَهُ وَأُصَلِّيَ عَلَيْهِ " . وَأَعْجَلُوا فَلَمْ يَبْلُغِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ حَتَّى تُوُفِّيَ ، وَجَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ ، وَكَانَ فِيمَا قَالَ طَلْحَةُ : ادْفِنُونِي وَأَلْحِقُونِي بِرَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَلَا تَدْعُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؛ فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْهِ مِنَ الْيَهُودَ ، وَلَا يُصَابُ فِي سَبَبِي . فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَصْبَحَ ، فَجَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى قَبْرِهِ وَصَفَّ النَّاسَ مَعَهُ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ الْقَ طَلْحَةَ تَضْحَكُ إِلَيْهِ وَيَضْحَكُ إِلَيْكَ " . قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْ آخِرِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَدْ رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ وَسَكَتَ عَلَيْهِ ؛ فَهُوَ حَسَنٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
حصین بن وحوح بیان کرتے ہیں : سیدنا طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ جو مناسب سمجھیں مجھے حکم دیں ، میں آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات اچھی لگی ، وہ صاحب اس وقت کم عمر تھے ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : تم جاؤ اور اپنے باپ کو قتل کر دو ، راوی کہتے ہیں : تو وہ مڑ گئے تاکہ ایسا کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور ان سے فرمایا : ادھر آؤ ! مجھے رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے کے احکام کے ہمراہ مبعوث نہیں کیا گیا ۔ اس کے بعد سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت اُن کی عیادت کرنے کے لئے ان کے ہاں آئے ، اس وقت بادل بھی تھا اور سردی بھی تھی ، جب آپ واپس تشریف لے جانے لگے تو آپ نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر والوں سے کہا: طلحہ کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اس کی موت کا وقت قریب آ چکا ہے ، تو تم لوگ مجھے اس بارے میں بتا دینا تاکہ میں اس کے کفن دفن میں شریک ہو جاؤں ، اور اس کی نماز جنازہ ادا کروں ، اور تم اس بارے میں جلدی کرنا ، ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو سالم بن عوف کے محلے تک نہیں پہنچے تھے کہ ان صاحب کا انتقال ہو گیا ، اس وقت رات تاریک ہو چکی تھی ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: تھا : تم لوگ مجھے دفن کر دینا اور مجھے میرے پروردگار کے سپرد کر دینا ، تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ بلانا ، کیونکہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہودیوں کی طرف سے اندیشہ ہے ، تو میں یہ نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان پہنچے ، اگلے دن صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان صاحب کی قبر کے پاس کھڑے ہوئے ، لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بنا لی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : ” اے اللہ ! تو طلحہ کے ساتھ ایسی حالت میں ملاقات کرنا کہ تو اس کی طرف دیکھ کے مسکرا رہا ہو ، اور یہ تیری طرف دیکھ کے مسکرا رہا ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور اس کے حوالے سے خاموشی اختیار کی ہے ، اور اگر اللہ نے چاہا تو
یہ روایت حسن ہو گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15969
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حدیث