کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت صفوان بن قدامہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15967
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ قُدَامَةَ قَالَ : هَاجَرَ أَبِي صَفْوَانُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ ، فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَمَدَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِ يَدَهُ فَمَسَحَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ : إِنِّي أُحِبُّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " . فَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ قَدَامَةَ حَيْثُ أَتَى دَارَ الْهِجْرَةِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ دَعَا قَوْمَهُ وَبَنِي أَخِيهِ لِيَخْرُجُوا مَعَهُ ، فَأَبَوْا عَلَيْهِ ، فَخَرَجَ وَتَرَكَهُمْ ، وَخَرَجَ مَعَهُ بِابْنَيْهِ : عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، وَكَانَتْ أَسْمَاؤُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ : عَبْدَ الْعُزَّى ، وَعَبْدَ نُهْمٍ ، فَغَيَّرَ أَسْمَاءَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ فِي ذَلِكَ ابْنُ أَخِيهِ نَصْرُ بْنُ فَلَانِ بْنِ قُدَامَةَ فِي خُرُوجِ صَفْوَانَ وَوَحْشَتِهِمْ لِفِرَاقِهِ : ¤ تَحَمَّلَ صَفْوَانُ وَأَصْبَحَ غَادِيًا بِأَبْنَائِهِ عَمْدًا وَخَلَّى الْمَوَالِيَا فَأَصْبَحْتُ مُخْتَارًا لِرَمْلٍ مُعَبَّدٍ ¤ وَأَصْبَحَ صَفْوَانُ بِيَثْرِبَ ثَاوِيًا طِلَابَ الَّذِي يَبْقَى وَآثَرَ غَيْرَهُ ¤ فَشَتَّانَ مَا يَفْنَى وَمَا كَانَ بَاقِيَا بِإِتْيَانِهِ دَارَ الرَّسُولِ مُحَمَّدٍ ¤ مُجِيبًا لَهُ إِذْ جَاءَ بِالْحَقِّ هَادِيَا فَيَا لَيْتَنِي يَوْمَ الْحُدَبَّا اتَّبَعْتُهُمْ ¤ قَضَى اللَّهُ فِي الْأَشْيَاءِ مَا كَانَ قَاضِيَا . ¤ فَأَجَابَهُ صَفْوَانُ فَقَالَ : ¤ مِنْ مُبَلِّغٍ نَصْرًا رِسَالَةَ عَاتِبٍ بِأَنَّكَ بِالتَّقْصِيرِ أَصْبَحْتَ رَاضِيَا ¤ مُقِيمًا عَلَى أَرْكَانِ هِدْلِقَ لِلْهَوَى وَأَنَّكَ مَغْرُورٌ تَمَنَّى الْأَمَانِيَا ¤ فَسَامَ قُسَيْمَاتِ الْأُمُورِ وَعَادَهَا قَضَى اللَّهُ فِي الْأَشْيَاءِ مَا كَانَ قَاضِيَا ¤ . ¤ وَأَقَامَ صَفْوَانُ بِالْمَدِينَةِ حَتَّى مَاتَ بِهَا ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي مَوْتِ أَبِيهِ صَفْوَانَ : ¤ وَأَنَا ابْنُ صَفْوَانَ الَّذِي سَبَقَتْ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ سَوَابِقُ الْإِسْلَامِ ¤ صَلَّى الْإِلَهُ عَلَى النَّبِيِّ وَآلِهِ وَثَنَى عَلَيْهِ بَعْدَهَا بِسَلَامِ ¤ وَالْخَلْقُ كُلُّهُمُ بِمِثْلِ صَلَاتِهِمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَأَرْضُهُ الْأَيَّامِ ¤ . ¤ وَأَقَامَ صَفْوَانُ بِالْمَدِينَةِ خِلَافَةَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بَعَثَ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ صَفْوَانَ فِي جَيْشٍ مَدَدًا لِلْمُثَنَّى بْنِ حَارِثَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مَيْمُونٍ وَكَانَ قَدَرِيًّا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن صفوان بن قدامہ بیان کرتے ہیں : سیدنا صفوان بن قدامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد ہجرت کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مدینہ منورہ میں موجود تھے ، میرے والد نے اسلام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان کی طرف بڑھایا اور ان پر ہاتھ پھیرا ، سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” آدمی اُس کے ساتھ ہو گا ، جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں سیدنا صفوان بن قدامہ رضی اللہ عنہ جب بھی مدینہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مدینہ منورہ میں موجود ہوتے تو سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ اپنی قوم کو اور اپنے بھتیجوں کو یہ کہتے تھے : کہ وہ لوگ بھی اُن کے ساتھ جائیں ، ان کے ساتھیوں نے ساتھ جانے سے انکار کیا ، تو سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ چلے گئے اور انہوں نے ان لوگوں کو چھوڑ دیا ، وہ اپنے ساتھ اپنے دو بیٹوں عبدالرحمن اور عبداللہ کو لے گئے تھے ، ان کے نام زمانہ جاہلیت میں عبدالعزیٰ اور عبدنہم تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اسماء تبدیل کئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ کے تشریف لے جانے اور باقی ساتھیوں کو وہیں چھوڑ جانے کے بارے میں سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ کے بھتیجے نصر بن فلاں بن فلاں بن قدامہ نے یہ اشعار کہے : سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے سامان لادا اور اپنے بیٹوں کو ساتھ لے کر ، جان بوجھ کر اپنے موالی ( شاید رشتہ دار مراد ہیں ) کو اکیلا چھوڑ دیا ، اور میں ریتلے واقف راستے میں مختار رہ گیا ، اور سیدنا صفوان یثرب کی مٹی ( سرزمین پر ) چلے گئے ، اس کی طلب میں جو باقی رہ جائے گا ، انہوں نے غیر کو ترجیح دی ، تو جو فنا ہو جائے اور جو باقی رہنے والا ہو ان کے درمیان فرق ہے ، ان کا رسول ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاقے میں جانا اور ان ( رسول ) کی دعوت کو قبول کر لینا ، جبکہ وہ ( رسول ) حق لے کر آئے ہیں اور ہدایت دینے والے ہیں ، کاش مشکل کے وقت میں ، میں بھی ان کی پیروی کر لیتا ، لیکن اللہ تعالیٰ چیزوں کے بارے میں جو فیصلہ کر دے ، ہوتا وہی ہے ۔ “ تو سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے اس کو جواب دیتے ہوئے یہ کہا: ” کون شخص نصر تک ناراض شخص کا ( یعنی میرا ) مکتوب پہنچائے گا کہ تم کوتاہی پر راضی رہ گئے اور اپنی خواہش کی پیروی میں کھلی جگہ پر مقیم رہے ، اس نے آرزو کی ، تم غلط فہمی کا شکار ہو ، تم آرزوئیں کر لو ، وہ امور کی تلاش کرتا ہے ، اور پھر ( ان امور ) کو ناپسند کرتا ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ چیزوں کے بارے میں جو فیصلہ کر دے ، ہوتا وہی ہے ۔ “ سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں ہی مقیم رہے اور وہیں ان کا انتقال ہوا ، ان کے صاحبزادے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ کے انتقال پر یہ اشعار کہے : ” میں اُن سیدنا صفوان کا بیٹا ہوں ، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اسلام قبول کرنے کے حوالے سے سبقت حاصل ہوئی ، معبود برحق ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر ، رحمت نازل کرے اور پھر اس کے بعد ان پر سلام بھی نازل کرے ، اور ساری مخلوق بھی ، جو آسمان میں ہے اور جو زمین میں ہے ، وہ ان پر ہمیشہ درود بھیجتی رہے ۔ “ سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت تک مدینہ منورہ میں مقیم رہے ، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ کو اس لشکر میں بھیجا ، جو سیدنا مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی امداد کے لئے تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن میمون ہے وہ قدریہ فرقے سے تعلق رکھتا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن میمون ہے وہ قدریہ فرقے سے تعلق رکھتا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔