کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15947
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ : الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ بْنِ أَبِي عَامِرِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ مُعَتِّبِ بْنِ مَالِكِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ عَوْفِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، يُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، أُمُّهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ . وَلِيَ الْبَصْرَةَ نَحْوَ سَنَتَيْنِ ، ثُمَّ وَلِيَ الْكُوفَةَ وَمَاتَ بِهَا سَنَةَ خَمْسِينَ . وَأَوَّلُ مَشَاهِدِهِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحُدَيْبِيَةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں : یہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بن شعبہ بن ابوعامر بن مسعود بن معتب بن مالک بن کعب بن عمرو بن سعد بن عوف بن قیس بن منبہ ہیں ، ان کی کنیت ” ابوعبداللہ “ ہے ۔ ان کی والدہ بنونصر بن معاویہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون تھیں ، یہ تقریباً دو سال بصرہ کے گورنر رہے تھے ، پھر یہ کوفہ کے گورنر بن گئے اور وہیں سن 50 ہجری میں اُن کا انتقال ہوا ۔ یہ سب سے پہلے غزوہ حدیبیہ میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15947
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (366/20)»
حدیث نمبر: 15948
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ سَنَةَ خَمْسِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال 50 ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15948
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (367/20)»
حدیث نمبر: 15949
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : كُنْتُ فِيمَنْ حَفَرَ قَبْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَلَحَدْنَا لَحْدًا . قَالَ : فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَبْرَ طَرَحْتُ الْفَأْسَ ، ثُمَّ قُلْتُ : الْفَأْسَ الْفَأْسَ ، ثُمَّ نَزَلْتُ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى اللَّحْدِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اُن افراد میں سے ایک تھا ، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو کھودا تھا ، راوی کہتے ہیں : ہم نے لحد تیار کی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر مبارک میں اتار دیا گیا ، تو میں نے پھاؤڑا نیچے گرا دیا ، پھر میں نیچے اترا اور میں نے لحد پر ہاتھ رکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15949
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (414/20)»
حدیث نمبر: 15950
وَعَنِ ابْنِ مَرْحَبٍ قَالَ : نَزَلَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْبَعَةٌ ، أَحَدُهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَكَانَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ يُدْعَى أَحْدَثَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَقُولُ : أَخَذْتُ خَاتَمِي فَأَلْقَيْتُهُ وَقُلْتُ : إِنَّ خَاتَمِي سَقَطَ مِنْ يَدِي ; لِأَمَسَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَكُونَ آخِرَ النَّاسِ عَهْدًا بِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن مرحب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک میں چار افراد اُترے تھے ، ان میں سے ایک سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا ہے کہ وہ سب سے آخر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک سے باہر نکلے تھے ، وہ کہتے ہیں : میں نے اپنی انگوٹھی پکڑی اور اسے اُس میں گرا دیا اور میں نے یہ کہا: میری یہ انگوٹھی میرے ہاتھ سے گر گئی ہے ، میرا مقصد یہ تھا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مس کر لوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخری نسبت میری ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15950
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (37/20)»
حدیث نمبر: 15951
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَعُرِضَ عَلَيْهِ فَرَسٌ ، فَقَالَ رَجُلٌ : احْمِلْنِي عَلَى هَذَا ، فَقَالَ : لَأَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِ غُلَامًا قَدْ رَكِبَ الْخَيْلَ عَلَى عُزْلَتِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْمِلَكَ عَلَيْهِ ، فَغَضِبَ الرَّجُلُ وَقَالَ : أَنَا وَاللَّهِ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْ أَبِيكَ فَارِسًا ، فَغَضِبْتُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ لِخَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذْتُ بِرَأْسِهِ فَسَحَبْتُهُ عَلَى أَنْفِهِ ، فَكَأَنَّمَا كَانَ عَلَى أَنْفِهِ عَزْلَاءُ مَزَادَةٌ ، فَأَرَادَتِ الْأَنْصَارُ أَنْ يَسْتَقْيِدُوا مِنِّي ، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنِّي مُقَيِّدُهُمْ مِنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، وَلَأَنْ أُخْرِجَهُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ أَقْرَبُ مِنْ أَنْ أُقِيدَهُمْ مِنْ وَزَعَةِ اللَّهِ الَّذِينَ يَزَعُونَ عِبَادَ اللَّهِ . قُلْتُ : هَذَا الْكَلَامُ الْأَخِيرُ لَمْ أَعْرِفْ مَعْنَاهُ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، ایک گھوڑا ان کے سامنے آیا ، ایک شخص نے کہا: مجھے یہ سواری کے لئے دے دیں ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ اس لڑکے کو سواری کے لئے دے دوں جو عزلت کے ہمراہ گھوڑے پر سوار ہو ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں یہ تمہیں سواری کے لئے دوں ، تو وہ شخص غصے میں آ گیا اور بولا: اللہ کی قسم ! میں آپ سے اور آپ کے والد سے زیادہ بہتر شہسوار ہوں ، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب اس نے اللہ کے رسول کے خلیفہ کو یہ بات کہی ، تو میں غصے میں آ گیا ، میں اُٹھ کر اس کی طرف بڑھا ، میں نے اس کا سر پکڑا اور اس کی ناک پر مارا تو وہاں گومڑ سا بن گیا ، انصار نے یہ ارادہ کیا کہ وہ مجھ سے بدلہ لیں ، جب اس بات کی اطلاع سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے فرمایا : کچھ لوگ یہ گمان کر رہے ہیں کہ میں انہیں مغیرہ بن شعبہ سے بدلہ دلواؤں گا ، میں ان لوگوں کو ان کے علاقوں سے نکلوا دوں ، یہ اس سے زیادہ موزوں ہو گا کہ میں انہیں اس تربیت کرنے والے سے بدلہ دلواؤں جو اللہ کے بندوں کی تربیت کرتا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) اس آخری جملے کا مفہوم میں نہیں سمجھ سکا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15951
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (402/20)»