کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15952
عَنْ قَيْسٍ الْمَدَنِيِّ : أَنَّ رَجُلًا جَاءَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلَ عَنْ شَيْءٍ ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ : عَلَيْكَ بِأَبِي هُرَيْرَةَ ، فَبَيْنَا أَنَا وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَفُلَانٌ فِي الْمَسْجِدِ نَدْعُو وَنَذْكُرُ رَبَّنَا - عَزَّ وَجَلَّ - إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا ، فَسَكَتْنَا ، فَقَالَ : " عُودُوا لِلَّذِي كُنْتُمْ فِيهِ " . فَقَالَ زَيْدٌ : فَدَعَوْتُ أَنَا وَصَاحِبِي قَبْلَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُؤَمِّنُ عَلَى دُعَائِنَا ، ثُمَّ دَعَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي سَائِلُكَ بِمِثْلِ مَا سَأَلَكَ صَاحِبَايَ ، وَأَسْأَلُكُ عِلْمًا لَا يُنْسَى . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " آمِينَ " فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ نَسْأَلُ اللَّهَ عِلْمًا لَا يُنْسَى ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَبَقَكُمَا بِهَا الْغُلَامُ الدَّوْسِيُّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَيْسٌ هَذَا كَانَ قَاصَّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ مُحَمَّدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
قیس مدنی بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اُن سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ ! ( کیونکہ ایک مرتبہ ) میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور فلاں شخص مسجد میں موجود تھے ، ہم اپنے پروردگار کا ذکر کر رہے تھے اس سے دعا کر رہے تھے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے ، یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس آ کر تشریف فرما ہوئے ، تو ہم خاموش ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ پھر وہی کرو جو تم پہلے کر رہے تھے ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نے اور میرے ساتھی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پہلے دعا کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری دعا پر آمین کہتے رہے ، پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دعا کرتے ہوئے یہ کہا: ” اے اللہ ! میں تجھ سے وہ چیز مانگتا ہوں جو میرے دونوں ساتھیوں نے مانگی ہے اور تجھ سے ایسے علم کا سوال کرتا ہوں جو بھولے نہیں ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آمین ! ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم بھی اللہ تعالیٰ سے ایسے علم کی دعا مانگتے ہیں ، جو بھولے نہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ دوسی لڑکا اس حوالے سے سبقت لے گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور قیس نامی راوی ، یہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز کا واعظ تھا ، اس کے حوالے سے اس کے بیٹے محمد کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15952
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1250)»
حدیث نمبر: 15953
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ جَرِيئًا عَلَى أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَسْأَلُهُ عَنْهَا غَيْرُهُ . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ فِي الْمُسْنَدِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مختلف چیزوں کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے کی جرأت رکھتے تھے کہ اُن چیزوں کے بارے میں ، ان کے علاوہ اور کوئی سوال نہیں کرتا تھا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے ” مسند “ میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو ” علامات نبوت “ کے بارے میں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15953
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15954
وَعَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ سُلَيْمٍ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُ أَبَا أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقُلْتُ : تُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَدْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّهُ قَدْ سَمِعَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ فِي إِحْدَاهُمَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْجَحْدَرِيُّ ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوشعثاء سلیم بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا ، وہاں میں نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو پایا کہ وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث بیان کر رہے تھے ، میں نے کہا: آپ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث بیان کر رہے ہیں ؟ جبکہ آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہوئی ہے ، تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : انہوں نے سماع کیا ہوا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، ان میں سے ایک راوی سعید بن سفیان جحدری ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15954
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2724)»
حدیث نمبر: 15955
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ قَرَّتْ عَيْنِي وَطَابَتْ نَفْسِي ، وَإِذَا لَمْ أَرَكَ لَمْ تَطِبْ نَفْسِي - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي مَيْمُونَةَ الْفَارِسِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب میں آپ کو دیکھتا ہوں ، تو میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں اور میرا من خوشگوار ہو جاتا ہے ، اور جب میں آپ کو نہیں دیکھتا ، تو میرا من خوشگوار نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ راوی کو شک ہے شاید اس کی مانند کوئی کلمہ اُنہوں نے ارشاد فرمایا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابومیمونہ فارسی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15955
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2725)»
حدیث نمبر: 15956
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ابْسُطْ ثَوْبَكَ " . فَبَسَطْتُهُ ، فَحَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَّةَ النَّهَارِ ، ثُمَّ تَفِلَ فِي ثَوْبِي ، ثُمَّ ضَمَمْتُ ثَوْبِي إِلَى بَطْنِي فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدُ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ : كَانَ مَالِكٌ يَرْضَاهُ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُنْدَعِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنا کپڑا پھیلاؤ ! تو میں نے اسے پھیلا دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دن کا بڑا حصہ مجھے مختلف باتیں بیان کیں ، پھر آپ نے میرے کپڑے میں لعاب دہن ڈالا ، پھر میں نے اپنے کپڑے کو لپیٹ کر پیٹ کے ساتھ لگا لیا ، اس کے بعد میں کوئی چیز نہیں بھولا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، سعید بن منصور کہتے ہیں : مالک اس سے راضی تھے اور یہ راوی ثقہ ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ بن عبدالرحمن جندعی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15956
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (815)»
حدیث نمبر: 15957
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ يَعْرِضُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقُرْآنَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ ( یعنی سیدنا جبرائیل علیہ السلام ) ہر سال میں ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے ، جب وہ سال آیا ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو مرتبہ دور کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15957
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (399/2)»