کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15933
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ حَلِيفُ آلِ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ ، كَانَ إِسْلَامُهُ بِمَكَّةَ ، وَهَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى قَدِمَ زَمَنَ خَيْبَرَ ، وَقِيلَ : مَاتَ أَبُو مُوسَى سَنَةَ خَمْسِينَ ، وَدُفِنَ بِالتُّوتَةِ عَلَى مِيلَيْنِ مِنَ الْكُوفَةِ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ سیدنا عبداللہ بن قیس ، ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ ہیں ، جو آل عتبہ بن عبدشمس کے حلیف تھے ، یہ مکہ میں مسلمان ہوئے تھے ، پھر انہوں نے حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کی تھی ، یہاں تک کہ یہ خیبر کے زمانے میں آئے تھے ، یہ بات بیان کی گئی ہے : سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا انتقال 50 ہجری میں ہوا تھا اور انہیں کوفہ سے دو میل کے فاصلے پر موجود جگہ ” توتہ “ کے مقام پر دفن کیا گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 15934
وَعَنْ شُبَابٍ الْعُصْفُرِيِّ قَالَ : وَلِيَ أَبُو مُوسَى الْكُوفَةَ وَلَهُ بِهَا أَهْلٌ وَدَارٌ حَضْرَةُ الْجَامِعِ ، مَاتَ أَبُو مُوسَى سَنَةَ إِحْدَى وَخَمْسِينَ . وَنَسَبُهُ قَالَ : أَبُو مُوسَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيُّ ، هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنِ بْنِ حَرْبِ بْنِ عَامِرِ بْنِ تَمِيمِ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ وَائِلِ بْنِ نَاجِيَةَ بْنِ جَمَاهِرِ بْنِ الْأَشْعَرِ بْنِ أَدَدِ بْنِ عُرَيْبِ بْنِ يَشْجُبَ بْنِ زَيْدِ بْنِ كَهْلَانَ بْنِ سِنَانِ بْنِ يَشْجُبَ بْنِ يَغُوثَ بْنِ قَحْطَانَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
شباب عصفری بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کوفہ کے گورنر بنے تھے ، وہاں ان کے اہل خانہ تھے اور گھر تھا جو جامع مسجد کے پاس تھا ، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا انتقال 51 ہجری میں ہوا تھا ۔ ان کے نسب کے بارے میں انہوں نے یہ کہا: ہے : یہ سیدنا ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ ہیں ، یہ عبداللہ بن قیس بن حسن بن حرب بن عامر بن تمیم بن بكر بن عامر بن عدی بن وائل بن ناجیہ بن جماہر بن اشعر بن أدد بن عريب بن يشجب بن زید بن کہلان بن سنان بن يشجب بن یغوث بن قحطان ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 15935
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ : مَاتَ أَبُو مُوسَى سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَخَمْسِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ربیع بن ابوموسیٰ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا انتقال 52 ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15936
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ : قَدِمَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخَيْبَرَ ، فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَكْبَرِ أَهْلِ السَّفِينَةِ وَأَصْغَرِهِمْ ، وَكَانَ أَبُو عَامِرٍ يَقُولُ : أَنَا أَكْبَرُ أَهْلِ السَّفِينَةِ وَابْنِي أَصْغَرُهُمْ . ¤ قَالَ سَعِيدٌ : وَكَانَ فِيهَا أَبُو عَامِرٍ ، وَأَبُو مَالِكٍ ، وَأَبُو مُوسَى ، وَكَعْبُ بْنُ عَاصِمٍ ، خَرَجُوا بِالْأَبْوَاءِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ خیبر سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کشتی میں آنے والے ہر بڑے چھوٹے شخص کو دعا دی ، سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ” میں کشتی والوں میں سب سے بڑا تھا اور میرا بیٹا سب سے چھوٹا تھا ۔ سعید بیان کرتے ہیں : اس کشتی میں سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا کعب بن عاصم رضی اللہ عنہ تھے ، یہ لوگ ” ابواء “ کے مقام پر آئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15937
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : كَانَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ مِمَّنْ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، فَأَقَامَ بِهَا حَتَّى بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى النَّجَاشِيِّ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ ، فَجَعَلَهُمْ فِي سَفِينَتَيْنِ ، فَقَدِمَ بِهِمْ خَيْبَرَ بَعْدَ الْحُدَيْبِيَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ، ان افراد میں سے ایک ہیں ، جنہوں نے حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کی تھی ، یہ وہاں مقیم رہے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کو نجاشی کی طرف بھیجا ، تو نجاشی نے ان لوگوں کو دو کشتیوں میں بھیجا ، تو یہ حدیبیہ کے بعد غزوہ خیبر کے قریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15938
وَعَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : خَرَجَ بُرَيْدَةُ عِشَاءً فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا صَوْتُ رَجُلٍ يَقْرَأُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُرَاهُ يُرَائِي ؟ " . فَأُسْكِتَ بُرَيْدَةُ فَإِذَا بِرَجُلٍ يَدْعُو فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالذَّي نَفْسِي بِيَدِهِ " أَوْ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ " . قَالَ : فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْقَابِلَةِ خَرَجَ بُرَيْدَةُ عِشَاءً وَلَقِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا صَوْتُ الرَّجُلِ يَقْرَأُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُرَاهُ يُرَائِي ؟ " . فَقَالَ بُرَيْدَةُ : أَتَقُولُ هُوَ مُرَاءٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا بَلْ مُؤْمِنٌ مُنِيبٌ لَا ، بَلْ مُؤْمِنٌ مُنِيبٌ " . فَإِذَا الْأَشْعَرِيُّ يَقْرَأُ بِصَوْتٍ لَهُ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْأَشْعَرِيَّ - أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ - أُعْطِي مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ دَاوُدَ " . فَقُلْتُ : أَلَا أُخْبِرُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بَلَى فَأَخْبِرْهُ " . فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : أَنْتَ لِي صَدِيقٌ ; أَخْبَرْتَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَدِيثٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ " . وَهُنَا : " مِنْ مَزَامِيرِ دَاوُدَ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن بریدہ نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ رات کے وقت نکلے ، اُن کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں ساتھ لے کر مسجد میں داخل ہوئے ، تو وہاں ایک صاحب کے تلاوت کرنے کی آواز آ رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہو کہ یہ دکھاوا کر رہا ہے ؟ تو سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ خاموش رہے ، پھر اس شخص نے دعا کرنا شروع کی اور یہ کہا: ” اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس واسطے سے کہ میں یہ گواہی دیتا ہوں ، بے شک تو وہ اللہ ہے کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو ایک ہے ، تو بے نیاز ہے ، تو وہ ہے کہ کسی کو اس نے جنم نہیں دیا ہے اور نہ ہی اُس کو جنم دیا گیا اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، اس نے اللہ تعالیٰ سے اُس کے اسم اعظم کے وسیلے سے دعا کی ہے کہ جب اُس اسم اعظم کے وسیلے سے مانگا جائے ، تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے ، اور جب دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : جب اگلی رات آئی ، تو سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ عشاء کے بعد نکلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے ملاقات ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں مسجد میں لے گئے ، تو وہاں ایک شخص کے تلاوت کرنے کی آواز آ رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہو کہ یہ دکھاوا کر رہا ہے ؟ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ دکھاوا کرنے والا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ فرمانبردار مومن ہے ، جی نہیں ! بلکہ یہ فرمانبردار مومن ہے ، راوی کہتے ہیں : تو وہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے ، جو تلاوت کر رہے تھے اور مسجد کے کونے سے اُن کی آواز آ رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اشعری کو ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) عبداللہ بن قیس کو سیدنا داؤد علیہ السلام کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے ۔ “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں انہیں بتاؤں نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تم اسے بتاؤ ، میں نے انہیں بتایا ، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میرے دوست ہو ، تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک بات مجھے بتائی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ” صحیح “ میں اس میں سے یہ الفاظ منقول ہیں : ” بے شک عبداللہ بن قیس کو آل داؤد کی خوش الحانی میں سے حصہ عطا کیا گیا ہے ۔ “ اور یہاں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا داؤد علیہ السلام کی خوش الحانی میں سے حصہ عطا کیا گیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ” صحیح “ میں اس میں سے یہ الفاظ منقول ہیں : ” بے شک عبداللہ بن قیس کو آل داؤد کی خوش الحانی میں سے حصہ عطا کیا گیا ہے ۔ “ اور یہاں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا داؤد علیہ السلام کی خوش الحانی میں سے حصہ عطا کیا گیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15939
وَعَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِي حَتَّى صَعِدَ أُحُدًا ، وَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ : " وَيْحَ أُمِّهَا قَرْيَةٌ ! يَدَعُهَا أَهْلُهَا أَعْمَرَ مَا تَكُونُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنِقَابِهَا مَلَكًا مُصْلِتًا . ثُمَّ انْحَدَرَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بَرَجُلٍ قَائِمٍ يُصَلِّي وَيَقْرَأُ ، فَقَالَ : " تُرَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ؟ ، إِنَّهُ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أُبَشِّرُهُ ؟ قَالَ : " احْذَرْ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ " . ثُمَّ انْحَدَرَ ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَوَجَدْنَا بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيَّ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ ، وَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلٌ يُطِيلُ الصَّلَاةَ ، وَكَانَ بُرَيْدَةُ صَاحِبَ مُزَاحَاتٍ ، فَقَالَ : يَا مِحْجَنُ ، أَلَا تُصَلِّي كَمَا يُصَلِّي سَكِيَّةَ ؟ ! فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ، وَرَجَعَ ، فَلَمَّا أَتَى بَيْتَهُ قَالَ : " خَيْرُ دِينِنَا أَيْسَرُهُ ، خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ ، خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ ، خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ آپ اُحد پہاڑ پر چڑھ گئے پھر آپ نے مدینہ منورہ کی طرف دیکھا اور فرمایا : اس کی ماں کی بربادی ہے ، یہ ایک بستی ہے ، جس کے رہنے والے اسے چھوڑ جائیں گے ، جبکہ یہ آباد ہو چکی ہو گی ، دجال اس کے پاس آئے گا ، تو وہ اس کے ہر راستے پر فرشتے کو تلوار سونتے ہوئے پائے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اُترے آپ مسجد میں آ گئے ، وہاں ایک شخص کھڑا ہوا نماز ادا کر رہا تھا اور تلاوت کر رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عبداللہ بن قیس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ یہ ایک نیک بردبار شخص ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں انہیں خوشخبری نہ دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس سے بچو کہ تم اسے یہ بات سنا کر اسے ہلاکت کا شکار کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ چلے گئے ، یہاں تک کہ ہم لوگ مسجد میں آ گئے ، ہم نے سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو مسجد کے دروازے پر پایا ، مسجد میں ایک شخص تھا ، جو طویل نماز ادا کر رہا تھا ، سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کے مزاج میں مزاح کا عنصر تھا ، انہوں نے فرمایا : اے محجن ! کیا تم اس طرح نماز نہیں ادا کرو گے جس طرح سکیہ نماز ادا کر رہا ہے ؟ تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور واپس چلے گئے ، جب وہ اپنے گھر آئے تو انہوں نے کہا: ہمارے دین میں سب سے بہتر وہ ہے جو زیادہ آسان ہو ، تمہارے دین میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جو زیادہ آسان ہو ، تمہارے دین میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جو زیادہ آسان ہو ، تمہارے دین میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جو زیادہ آسان ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف رجاء بن ابورجاء کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف رجاء بن ابورجاء کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 15940
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَقَدْ أُعْطِيَ أَبُو مُوسَى مِنْ مَزَامِيرِ دَاوُدَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ " . وَهُنَا : " مِنْ مَزَامِيرِ دَاوُدَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ابوموسیٰ کو سیدنا داؤد علیہ السلام کی خوش الحانی میں سے حصہ دیا گیا ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” آل داؤد کی خوش الحانی میں سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اور یہاں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا داؤد علیہ السلام کی خوش الحانی میں سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” آل داؤد کی خوش الحانی میں سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اور یہاں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا داؤد علیہ السلام کی خوش الحانی میں سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 15941
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَقْرَأُ ، فَقَالَ : " لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، وہ تلاوت کر رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسے آل داؤد کی خوش الحانی میں سے حصہ دیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 15942
وَعَنْ أَبِي مُوسَى : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى أَبِي مُوسَى ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَبُو مُوسَى يَقْرَأُ ، وَمَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَائِشَةُ ، فَقَامَا يَسْتَمِعَانِ لِقِرَاءَتِهِ ، ثُمَّ إِنَّهُمَا مَضَيَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ لَقِيَ أَبُو مُوسَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا مُوسَى ، مَرَرْتُ بِكَ الْبَارِحَةَ وَمَعِي عَائِشَةُ وَأَنْتَ تَقْرَأُ فِي بَيْتِكَ ، فَقُمْنَا فَاسْتَمَعْنَا لِقِرَاءَتِكَ " . فَقَالَ أَبُو مُوسَى : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، لَوْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكَ لَحَبَّرْتُ لَكَ تَحْبِيرًا " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحِ غَيْرَ خَالِدِ بْنِ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيِّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اس وقت تلاوت کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں ، یہ دونوں کھڑے ہو کر ان کی قرأت غور سے سننے لگے اور پھر یہ دونوں تشریف لے گئے ، اگلے دن جب صبح سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے ابوموسیٰ ! گزشتہ رات میں تمہارے پاس سے گزرا تھا ، میرے ساتھ عائشہ تھی ، تم اس وقت اپنے گھر میں تلاوت کر رہے تھے ، تو ہم کھڑے ہو کر تمہاری تلاوت غور سے سنتے رہے تھے ، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اگر مجھے آپ کی موجودگی کا علم ہوتا ، تو میں آپ کی خاطر اسے اور بنا سنوار کر ( تلاوت ) کرتا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کی شرط کے مطابق ہیں ، صرف خالد بن نافع اشعری کا معاملہ مختلف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کی شرط کے مطابق ہیں ، صرف خالد بن نافع اشعری کا معاملہ مختلف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 15943
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَعَدَ أَبُو مُوسَى فِي بَيْتِهِ ، وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ ، فَأَنْشَأَ يَقْرَأُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ . قَالَ : فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَعْجَبَكَ مِنْ أَبِي مُوسَى ، قَعَدَ فِي بَيْتٍ وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ فَأَنْشَأَ يَقْرَأُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَسْطِيعُ أَنْ تُقْعِدَنِي حَيْثُ لَا يَرَانِي أَحَدٌ مِنْهُمْ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَأَقْعَدَهُ الرَّجُلُ حَيْثُ لَا يَرَاهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ ، فَسَمِعَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى ، فَقَالَ : " إِنَّهُ يَقْرَأُ عَلَى مِزْمَارٍ مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھے تھے ، لوگ ان کے پاس اکٹھے ہوئے ، انہوں نے ان لوگوں کے سامنے قرآن پڑھنا شروع کیا ، راوی کہتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! کیا آپ کو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پر حیرانگی نہیں ہو رہی ؟ وہ اپنے گھر میں بیٹھے ہیں ، لوگ ان کے پاس اکٹھے ہوئے ہیں اور وہ ان لوگوں کے سامنے قرآن پڑھ رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم یہ استطاعت رکھتے ہو ؟ کہ تم مجھے کسی ایسی جگہ پر بٹھا دو جہاں اُن میں سے کوئی مجھے نہ دیکھ سکے ، اس شخص نے کہا: ٹھیک ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، اس شخص نے آپ کو ایک ایسی جگہ بٹھا دیا ، جہاں اُن میں سے کوئی آپ کو نہیں دیکھ سکتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی قرأت سنتے رہے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ آل داؤد کی خوش الحانی کی طرح تلاوت کر رہا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15944
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا مُوسَى يَقْرَأُ فَقَالَ : " كَأَنَّ صَوْتَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِيهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس شخص کی آواز آل داؤد کی خوش الحانی میں سے ایک ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور ان میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور ان میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 15945
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَسَمِعَهُ يَقْرَأُ : " لَقَدْ أُوتِيَ أَخُوكُمْ مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : آپ نے انہیں تلاوت کرتے ہوئے سنا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے بھائی کو آل داؤد کی خوش الحانی میں سے حصہ عطا کیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15946
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : كَتَبَ عُمَرُ فِي وَصِيَّتِهِ أَنْ لَا يُقَرَّ لِي عَامِلٌ أَكْثَرَ مِنْ سَنَةٍ ، وَأَقِرُّوا الْأَشْعَرِيَّ أَرْبَعَ سِنِينَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ إِلَّا أَنَّ الشَّعْبِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ) ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وصیت میں یہ لکھا تھا : ” میرے مقرر کردہ کسی بھی اہلکار کو ایک سال سے زیادہ اپنے عہدے پر نہ رہنے دینا اور اشعری کو چار سال تک اس کے عہدے پر برقرار رکھنا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ، البتہ امام شعبی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ، البتہ امام شعبی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔