کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15908
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ ، يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَأُمُّهُ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ ، وَأُمُّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، وَأُمُّهَا بِنْتُ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ ، وَأُمُّهَا فُلَانَةُ بِنْتُ جَابِرِ بْنِ نَصْرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حَسْلِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ،وَأُمُّهَا بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ نَصْرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِسْلِ بْنِ عَامِرٍ ، وَأُمُّهَا بِنْتُ سَعِيدِ بْنِ سَهْمٍ . . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بن ابوسفیان بن حرب بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف ہیں ، ان کی کنیت ابوعبدالرحمن ہے ۔ ان کی والدہ کا نام سیدہ بند رضی اللہ عنہا بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس بن عبدمناف ہے ، سیدہ ہند رضی اللہ عنہا کی والدہ کا نام صفیہ بنت امیہ بن حارثہ بن اوقص ہے ، ان کا تعلق بنوسلیم سے تھا اس خاتون کی والدہ کا نام بنت نوفل بن عبدمناف ہے اور ان کی والدہ کا نام فلانہ بنت جابر بنت جابر بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لؤی ہے اور ان کی والدہ کا نام بنت حارث بن حبیب بن خزیمہ بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر ہے اور ان کی والدہ کا نام بنت سعید بن سہم ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15908
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (304/19)»
حدیث نمبر: 15909
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ بِالْأَبْطَحِ أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ كَأَنَّهُ ثَلْجٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
اسحاق بن یسار بیان کرتے ہیں : میں نے ” ابطح“ کے مقام پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، ان کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے یوں جیسے برف ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15909
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (306/19)»
حدیث نمبر: 15910
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ : كَانَ مُعَاوِيَةُ طَوِيلًا ، أَبْيَضَ ، أَجْلَحَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَفْوَانَ بْنِ صَالِحٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
خالد بن معدان بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ طویل القامت گورے چٹے فرد تھے اور ان کے اطراف کے بال اڑے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف صفوان بن صالح کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15910
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (305/19)»
حدیث نمبر: 15911
وَعَنْ أَسْلَمَ - مَوْلَى عُمَرَ - قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ أَبْيَضُ النَّاسِ وَأَجْمَلُهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے وہ سب سے زیادہ گورے چٹے اور سب سے زیادہ خوبصورت تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مسلم بن جندب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15911
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (305/19)»
حدیث نمبر: 15912
وَعَنْ بَكَّارِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ قَالَ : قَالَ مُعَاوِيَةُ : مَا وَلَدَتْ قُرَشِيَّةٌ لِقُرَشِيٍّ خَيْرًا لَهَا فِي دُنْيَاهَا مِنِّي . فَقَالَ مَعْدُ بْنُ يَزِيدَ : مَا وَلَدَتْ قُرَشِيَّةٌ لِقُرَشِيٍّ خَيْرًا لَهَا فِي دِينِهَا مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَمَا وَلَدَتْ قُرَشِيَّةٌ لِقُرَشِيٍّ شَرًّا لَهَا فِي دُنْيَاهَا مِنْكَ . قَالَ : وَلِمَ ؟ قَالَ : لِأَنَّكَ عَوَّدْتَهَا عَادَةً كَأَنِّي بِهِمْ قَدْ طَلَبُوهَا مِنْ غَيْرِكَ ، فَكَأَنِّي بِهِمْ صَرْعَى فِي الطَّرِيقِ . قَالَ : وَيْحَكَ ! وَاللَّهِ إِنِّي لَأَكْتُمُهَا نَفْسَيْ كَذَا وَكَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ الْجُمَحِيُّ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
بکار بن محمد بن رافع بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کسی قریشی عورت نے کسی قریشی مرد کے ایسے بچے کو جنم نہیں دیا ، جو دنیاوی اعتبار سے اُس عورت کے لئے مجھ سے زیادہ بہتر ہو ۔ معد بن یزید نے کہا: کسی قریشی عورت نے کسی قریشی مرد کے ایسے بچے کو جنم نہیں دیا جو دینی اعتبار سے اس خاتون کے لئے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہتر ہو ، اور کسی قریشی عورت نے کسی قریشی مرد کے بچے کو جنم نہیں دیا ، جو دنیاوی اعتبار سے اس عورت کے لیے آپ سے زیادہ برا ہو ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ انہوں نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اس ( دنیا ) کو عادت بنا لیا ہے ، اور مجھے لگتا ہے کہ لوگ دنیا آپ کی بجائے کسی اور سے لینا چاہیں گے ، اور اس وجہ سے وہ راہوں میں مارے گئے ہوں گے ، تو انہوں نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ، اتنے اتنے عرصے سے میں نے اسے اپنے لئے چھپا کے رکھا ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اس میں محمد بن سلام جمحی نامی راوی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15912
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (440/19)»
حدیث نمبر: 15913
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : خَرَجَ مُعَاوِيَةُ مِنَ الشَّامِ يُرِيدُ مَكَّةَ ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ : الْأَبْوَاءُ ، فَاطَّلَعَ فِي بِئْرِ عَادِيَةٍ فَأَصَابَتْهُ لِقْوَةٌ ، فَأَجَدَّ السَّيْرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ ، وَأَتَاهُ الْحَاجِبُ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، النَّاسُ بِالْبَابِ مَا أَفْقِدُ وَجْهًا . قَالَ : فَابْسُطْ لِي إِذًا . قَالَ : ثُمَّ دَعَا بِعِمَامَةٍ فَلَفَّ بِهَا رَأَسَهُ وَشِقَّ وَجْهَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنْ أُعَافَى فَقَدْ عُوفِيَ الصَّالِحُونَ قَبْلِي ، إِنِّي لِأَرْجُوَ أَنْ أَكُونَ مِنْهُمْ ، وَإِنْ كَانَ مَرِضَ مِنِّي عُضْوٌ فَمَا أُحْصِيَ صَحِيحِي ، وَإِنْ كَانَ وَجَدَ عَلَيَّ بَعْضُ خَاصَّتِكُمْ فَقَدْ كُنْتُ حَدَبًا عَلَى عَامَّتِكُمْ ، وَمَا لِي أَنْ أَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَانِي ، فَرَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا دَعَا لِي بِالْعَافِيَةِ . وَارْتَجَّتِ الْأَصْوَاتُ بِالدُّعَاءِ فَاسْتَبْكَى ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ : مَا يُبْكِيكَ يَا أَمِيَر الْمُؤْمِنِينَ ؟ ! قَالَ : رَاجَعْتُ مَا كُنْتَ عَنْهُ عَزُوفًا ، فَقَالَ : كَبُرَتْ سِنِّي ، وَرَقَّ عَظْمِي ، وَكَثُرَتِ الدُّمُوعُ فِي عَيْنِي ، وَرُمِيتُ فِي أَحْسَنِي وَمَا يَبْدُو مِنِّي ، وَلَوْلَا هَوًى مِنِّي فِي يَزِيدَ أَبْصَرَتُ قَصْدِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْهَمْدَانِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شام سے نکلے ، ان کا مکہ جانے کا ارادہ تھا ، انہوں نے مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ، جس کا نام ” ابواء “ تھا ، وہاں انہوں نے ایک کنویں میں جھانک کر دیکھا ، تو انہیں لقوہ ہو گیا ، انہوں نے سفر تیز کیا اور مکہ پہنچ گئے ، دربان ان کے پاس آیا اور بولا: اے امیر المؤمنین دروازے پر لوگ موجود ہیں اور تقریباً سبھی لوگ ہیں تو انہوں نے فرمایا : تم میرے لئے کوئی چیز بچھاؤ ، پھر انہوں نے عمامہ منگوایا اور اسے اپنے سر پر لپیٹا اور چہرے کے ایک حصے پر لپیٹ لیا ، پھر وہ نکلے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، پھر انہوں نے فرمایا : امابعد ! اگر مجھے عافیت ملتی ہے تو مجھ سے پہلے نیک لوگوں کو بھی عافیت دی گئی اور مجھے یہ امید ہے کہ میں بھی نیک لوگوں میں ایک ہوؤں گا ، اور نیک لوگوں کو آزمائش میں مبتلاء کیا جاتا ہے ، لیکن میں ایسے لوگوں میں سے نہیں ہوں گا ، اگر میرا کوئی عضو بیمار ہو جاتا ہے تو میں اپنے صحیح حصے کو شمار نہیں کروں گا ، اور اگر تم میں سے کچھ لوگ میرے خلاف چیز محسوس کرتے ہیں ، تو میں تمہارے عمومی لوگوں کی دیکھ بھال کرنے والا ہوں اور مجھے کیا حق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو کچھ عطا کیا ہے ، میں اللہ تعالیٰ سے اس سے زیادہ کی تمنا کروں ؟ تو اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو میرے لئے عافیت کی دعا کرتا ہے ، تو لوگوں کی دعاؤں سے آواز کی گونج پیدا ہوئی ، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رونے لگے ، تو مروان نے ان سے دریافت کیا : اے امیر المؤمنین ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے مراجعت کی ہے اور میں اس سے دور نہیں ہوں ، انہوں نے فرمایا : میری عمر زیادہ ہو گئی ہے ، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ، میری آنکھوں سے آنسو بکثرت جاری ہوتے ہیں اور میری اچھی چیزوں اور میری طرف سے جو چیز ظاہر ہوتی ہے اس پر الزام لگایا گیا ہے ، اگر یزید کے بارے میں میری خواہش نہ ہوتی تو میں اپنے مقصود کے بارے میں بصیرت رکھتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن ابویزید ہمدانی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15913
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (306/19)»
حدیث نمبر: 15914
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ : أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَخَذَ الْإِدَاوَةَ بَعْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَبَيْنَا هُوَ يُوَضِّئُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ ، فَقَالَ : " يَا مُعَاوِيَةُ ، إِنْ وُلِّيتَ أَمْرًا فَاتَّقِ اللَّهَ وَاعْدِلْ " . قَالَ : فَمَا زِلْتُ أَظُنُّ أَنِّي مُبْتَلًى بِعَمَلٍ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى ابْتُلِيتُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فَوَصَلَهُ فَقَالَ فِيهِ : عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَوَضَّؤُوا " . قَالَ : فَلَمَّا تَوَضَّؤُوا نَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ : " يَا مُعَاوِيَةُ ، إِنْ وُلِّيتَ أَمْرًا فَاتَّقِ اللَّهَ وَاعْدِلْ " . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَقَالَ فِي الْأَوْسَطِ : " فَاقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ " . بِاخْتِصَارٍ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن عمرو بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دوات لی اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے ، ایک مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، وضو کرنے کے دوران سر اٹھا کر دو مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور پھر یہ فرمایا : ” اے معاویہ ! اگر تم حکومت کے نگران بن جاؤ تو اللہ سے ڈرتے رہنا اور عدل سے کام لینا ۔ “ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس کے بعد مجھے مسلسل یہ امید رہی کہ میں حکومت حاصل کروں گا ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ، یہاں تک کہ میں اس آزمائش میں مبتلاء ہوا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں
یہ روایت ” مرسل “ ہے ،
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ وضو کرو ! راوی کہتے ہیں : جب لوگوں نے وضو کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : اے معاویہ ! اگر تم حکومت کے نگران بنے ، تو تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور عدل سے کام لینا “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے معجم اوسط میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تم اُن کے اچھے فرد کی اچھائی کو قبول کرنا ، اور ان کے برے فرد سے درگزر کرنا ۔ “ انہوں نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15914
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15915
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُمِّ حَبِيبَةَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَقَّ الْبَابَ دَاقٌّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْظُرُوا مَنْ هَذَا " . قَالُوا : مُعَاوِيَةُ قَالَ : " ائْذَنُوا " . وَدَخَلَ وَعَلَى أُذُنِهِ قَلَمٌ يَخُطُّ بِهِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا الْقَلَمُ عَلَى أُذُنِكَ يَا مُعَاوِيَةُ ؟ " . قَالَ : قَلَمٌ أَعْدَدْتُهُ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ، فَقَالَ : " جَزَاكَ اللَّهُ عَنْ نَبِيِّكَ خَيْرًا ، وَاللَّهِ مَا اسْتَكْتَبْتُكَ إِلَّا بِوَحْيٍ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَا أَفْعَلُ مِنْ صَغِيرَةٍ وَلَا كَبِيرَةٍ إِلَّا بِوَحْيٍ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - كَيْفَ بِكَ لَوْ قَمَصَكَ اللَّهُ قَمِيصًا - يَعْنِي الْخِلَافَةَ - ؟ " . فَقَامَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ فَجَلَسَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنَّ اللَّهَ مُقَمِّصٌ أَخِي قَمِيصًا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِنَّ فِيهِ هَنَّاتٍ ، وَهَنَّاتٍ ، وَهَنَّاتٍ " . فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَادْعُ اللَّهَ لَهُ . فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اهْدِهِ بِالْهُدَى ، وَجَنِّبْهُ الرَّدَى ، وَاغْفِرْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ وَالْأُولَى " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ عَاصِمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا مخصوص دن آیا ، تو ایک دن کسی نے دروازے پر دستک دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ دیکھو کہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : معاویہ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اندر آنے کی اجازت دو ! وہ اندر آئے ، ان کے کان پر قلم لگا ہوا تھا جس کے ذریعے وہ لکھتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے معاویہ ! تمہارے کان پر قلم کیوں رکھا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یہ قلم ہے ، جسے میں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار رکھا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے نبی کی طرف سے جزائے خیر دے ، اللہ کی قسم ! میں نے تمہیں اللہ کی وحی کی کتابت کے لئے اس لئے مقرر کیا ہے ، اور میں جو بھی چھوٹا ، یا بڑا کام کرتا ہوں ، تو وہ اللہ کی وحی کے تابع ہوتا ہے ، اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا کہ جب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا ؟ راوی کہتے ہیں : یعنی خلافت نصیب کرے گا ، تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اٹھیں اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ میرے بھائی کو قمیص پہنائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن اس میں کچھ خامیاں ہوں گی ، تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو اسے ہدایت نصیب کرنا ، اور اسے برائیوں سے الگ رکھنا اور آخرت میں اور دنیا میں اس کی مغفرت کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن عاصم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15915
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1859)»
حدیث نمبر: 15916
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَأْذَنَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي أَمْرٍ ، فَقَالَ : " أَشِيرُوا عَلَيَّ " . فَقَالَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . فَقَالَ : " أَشِيرُوا عَلَيَّ " . فَقَالَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . فَقَالَ : " ادْعُوَا لِي مُعَاوِيَةَ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ : أَمَا كَانَ فِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ مَا يَنْفُذُونَ أَمْرَهُمْ حَتَّى بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى غُلَامٍ مِنْ غِلْمَانِ قُرَيْشٍ ؟ ! ، فَلَمَّا وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ : " أَحْضِرُوهُ أَمْرَكُمْ - أَوْ أَشْهِدُوهُ أَمْرَكُمْ - ; فَإِنَّهُ قَوِيٌّ أَمِينٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارِ اعْتِرَاضِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ ، وَشَيْخُ الْبَزَّارِ ثِقَةٌ ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ لَمْ يُوَثِّقْهُ إِلَّا الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ ، وَلَيْسَ فِيهِ جَرْحٌ مُفَسَّرٌ ، وَمَعَ ذَلِكَ فَهُوَ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کسی معاملے کے بارے میں مشورہ مانگا ، آپ نے فرمایا : مجھے مشورہ دو ! تو ان دونوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ مجھے مشورہ دو ! تو ان دونوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : معاویہ کو میرے پاس بلا کے لاؤ ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش سے تعلق رکھنے والے دو افراد میں وہ چیز نہیں ہے کہ جس کے ذریعے وہ اپنے فیصلے کو نافذ کر سکیں ؟ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ایک لڑکے کو پیغام بھیج دیا ہے ، جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اپنے معاملے میں شامل رکھو ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) کیونکہ یہ قوی ہے اور امین ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے صرف اختصار کے ساتھ یہ بات نقل کی ہے : کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اعتراض کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ، امام بزار کے استاد ثقہ ہیں امام طبرانی کے استاد کی ، امام ذہبی نے ” میزان الاعتدال “ میں توثیق کی ہے ، اس کے علاوہ کسی نے اس کی توثیق نہیں کی ، لیکن اس کے بارے میں کوئی مفسر جرح نہیں ہے اور اس کے علاوہ یہ حدیث منکر ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15916
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ رجال
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2721)»
حدیث نمبر: 15917
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ ، وَقِهِ الْعَذَابَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ زِيَادٍ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : ” اے اللہ ! تو معاویہ کو کتاب اور حساب کا علم عطا فرما ، اور اسے عذاب سے بچانا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث بن زیاد ہے ، میں نے ایسا کوئی فرد نہیں پایا جس نے اس کی توثیق کی ہو اور یونس بن سیف کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15917
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2723) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (251/18) اخرجه احمد فى المسند (126/4)»
حدیث نمبر: 15918
وَعَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِمُعَاوِيَةَ : " اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ ، وَمَكِّنْ لَهُ فِي الْبِلَادِ " .
محمد محی الدین
سیدنا مسلمہ بن خلد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا : ” اے اللہ ! اسے کتاب اور حساب کا علم عطا فرما اور اسے شہروں کی حکومت عطا فرما ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15918
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (439/19)»
حدیث نمبر: 15919
وَفِي رِوَايَةٍ أَيْضًا : " وَقِهِ سُوءَ الْعَذَابِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ ، وَجَبَلَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مَسْلَمَةَ فَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِيهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اور اسے برے عذاب سے بچانا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے جبلہ بن عطیہ کے حوالے سے مسلمہ بن مخلد سے نقل کی ہے ، اور جبلہ نے مسلمہ سے سماع نہیں کیا ہے ، تو
یہ روایت ” مرسل “ ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، ویسے ان کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15919
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (439/19)»
حدیث نمبر: 15920
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَمِيرِكُمْ هَذَا - يَعْنِي مُعَاوِيَةَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ قَيْسِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَذْحِجِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں نے ایسا کوئی فرد نہیں دیکھا جو تمہارے اس امیر سے زیادہ ( بہتر طور پر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق نماز ادا کرتا ہو ، راوی کہتے ہیں : ان کی مراد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف قیس بن حارث مذحجی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15920
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15921
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْوَدَ مِنْ مُعَاوِيَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي رِجَالِهِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں نے ایسا کوئی فرد نہیں دیکھا ، جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بڑا سردار ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15921
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13432)»
حدیث نمبر: 15922
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، اسْتَوْصِ مُعَاوِيَةَ ; فَإِنَّهُ أَمِينٌ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ ، وَنِعْمَ الْأَمِينُ هُوَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ فِطْرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَعَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ فِيهِ لِينٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں وصیت قبول کیجئے ! کیونکہ وہ اللہ کی کتاب کے بارے میں ” امین “ ہیں ، اور وہ اچھے امین ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فطر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور ایک راوی علی بن سعید رازی ہے ، جس میں کمزوری پائی جاتی ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15922
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15923
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ وَرَأْسُ مُعَاوِيَةَ فِي حِجْرِهَا وَهِيَ تُقَبِّلُهُ ، فَقَالَ لَهَا : " أَتُحِبِّينَهُ ؟ " . فَقَالَتْ : وَمَا لِي لَا أُحِبُّ أَخِي ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُحِبَّانِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے ، اس وقت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا سر ان کی گود میں تھا اور سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا انہیں بوسہ دے رہی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت لیا : کیا تم اس سے محبت کرتی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں کیوں اپنے بھائی سے محبت نہ کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے محبت کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15923
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15924
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَانَ يَكْتُبُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ) کتابت کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15924
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 15925
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنْتُ قَائِلًا فِي كَنِيسَةٍ بِأَرِيحَا ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مَسْجِدٌ يُصَلَّى فِيهِ قَالَ : فَانْتَبَهَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ مِنْ نَوْمَتِهِ ، فَإِذَا مَعَهُ فِي الْبَيْتِ أَسَدٌ يَمْشِي إِلَيْهِ ، فَقَامَ فَزِعًا إِلَى سِلَاحِهِ ، فَقَالَ لَهُ الْأَسَدُ : صَهٍ ; إِنَّمَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكَ بِرِسَالَةٍ لِتُبَلِّغَهَا ، قُلْتُ : مَنْ أَرْسَلَكَ ؟ قَالَ : اللَّهُ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ لِتُعْلِمَ مُعَاوِيَةَ الرَّحَّالَ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، قُلْتُ : مَنْ مُعَاوِيَةُ ؟ قَالَ : ابْنُ أَبِي سُفْيَانَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” اریحا “ کے مقام پر میں ایک گرجا گھر میں آرام کر رہا تھا ، وہ جگہ اس وقت مسجد بن چکی تھی ، جس میں نماز ادا کی جاتی ہے ، راوی کہتے ہیں : سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نیند سے بیدار ہوئے ، تو گھر میں ان کے ساتھ ایک شیر موجود تھا ، جو چلتا ہوا اُن کی طرف آ رہا تھا ، وہ اُٹھ کر اپنے ہتھیار کی طرف جانے لگے ، تو شیر نے ان سے کہا: رک جائیے ! میں آپ کے پاس ایک پیغام لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے پہنچا دیں ، میں نے دریافت کیا : تمہیں کس نے بھیجا ہے ؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ بتا دیں کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں ، میں نے دریافت کیا : کون معاویہ ؟ اس نے کہا: سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15925
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (307/19)»
حدیث نمبر: 15926
وَعَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ : لَوْ رَأَيْتُمْ مُعَاوِيَةَ لَقُلْتُمْ : هَذَا الْمَهْدِيُّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
اعمش بیان کرتے ہیں : اگر تم لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ لیتے تو تم یہ کہتے : کہ یہی مہدی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15926
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (308/19)»
حدیث نمبر: 15927
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : قَتْلَايَ وَقَتْلَى مُعَاوِيَةَ فِي الْجَنَّةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن اصم بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری طرف سے قتل ہونے والے لوگ ، اور معاویہ کی طرف سے قتل ہونے والے لوگ ، جنت میں جائیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس کے بعض رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15927
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (307/19)»
حدیث نمبر: 15928
وَعَنْ ثَابِتٍ - مَوْلَى أَبِي سُفْيَانَ - قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَرْضَ الرُّومِ فَوَقَعَ ثِلْبٌ فِي رَحْلِهِ ، فَنَادَى : يَا عِبَادَ اللَّهِ الْمُسْلِمِينَ ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَجَابَ مُعَاوِيَةُ ، فَنَزَلَ وَنَزَلَ النَّاسُ وَقَالُوا : نَكْفِي الْأَمِيرَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ أَوَّلَ مَنْ يُغِيثُ جِبْرِيلُ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ الثَّانِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الزُّبَيْدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے غلام ، ثابت بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ روم کی سرزمین پر ایک جنگ میں حصہ لیا ، ایک ثلب پالان میں گر گیا ( ایک نسخے میں یہ الفاظ ہیں : ایک شخص دریا میں گر گیا ) تو اس نے پکار کر کہا: اے اللہ کے مسلمان بندو ! ( میری مدد کرو ) تو سب سے پہلے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کو جواب دیا ، وہ نیچے اترے لوگ بھی نیچے اتر گئے ، انہوں نے کہا: اے امیر ! ہم آپ کی جگہ کفایت کر لیں گے ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے کہ اس کی مدد کرنے والے پہلے فرد سیدنا جبرائیل تھے ، تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں دوسرا بن جاؤں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عبدالجبار زبیدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15928
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (307/19)»
حدیث نمبر: 15929
وَعَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : رَحِمَ اللَّهُ مُعَاوِيَةَ مَا كَانَ أَشَدَّ حُبَّهُ لِلْعَرَبِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى مُجَاهِدٍ . ¤
محمد محی الدین
مجالد بن سعید بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ، وہ عربوں سے کتنی شدید محبت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور مجاہد تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15929
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (307/19)»
حدیث نمبر: 15930
وَعَنْ قَيْسٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - قَالَ : قَالَ مُعَاوِيَةُ لِأَخِيهِ : ارْتَدِفْ ، فَأَبَى ، فَقَالَ : بِئْسَ مَا أُدِّبْتَ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : دَعْ أَخَاكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی سے کہا: تم میرے پیچھے بیٹھ جاؤ ! تو انہوں نے انکار کر دیا ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہاری بری تربیت کی گئی ہے ، تو سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنے بھائی کو رہنے دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15930
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (308/19)»
حدیث نمبر: 15931
وَعَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ : مَاتَ مُعَاوِيَةُ سَنَةَ سِتِّينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابونعیم بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا انتقال 60 ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15931
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (305/19)»
حدیث نمبر: 15932
وَعَنِ اللَّيْثِ - يَعْنِي : ابْنَ سَعْدٍ - قَالَ : تُوُفِّيَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ رَجَبٍ سَنَةَ سِتِّينَ وَسَنَةَ بِضْعٍ وَسَبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
لیث بن سعد بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال چار رجب 60 ہجری میں ہوا تھا ، اس وقت ان کی عمر 70 سال سے 80 سال کے درمیان تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15932
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (304/19)»