کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت عمرو رضی اللہ عنہ ، ان کے صاحبزادے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ( حضرت عبداللہ کی والدہ ) سیدہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15902
عَنْ طَلْحَةَ - يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ - قَالَ : أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَيْءٍ ؟ أَلَا إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ مِنْ صَالِحِي قُرَيْشٍ ، وَنِعْمَ أَهْلُ الْبَيْتِ : أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو بات بھی بتاؤں گا ، وہ ایسی بات ہو گی ، جو میں نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہو گا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عمرو بن العاص ، قریش کے نیک لوگوں میں سے ایک ہے ، اور اچھا گھرانہ یہ لوگ ہیں : عبداللہ کا باپ ( یعنی سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ) عبداللہ کی ماں اور عبدالله ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15903
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " نِعْمَ أَهْلُ الْبَيْتِ : أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عبداللہ کا باپ ، عبداللہ کی ماں اور عبداللہ اچھا گھرانہ ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 15904
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كُنْتُ يَوْمًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِهِ فَقَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَنْ مَعَنَا فِي الْبَيْتِ ؟ " . قُلْتُ : مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - " . قُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا جِبْرِيلُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ قَدْ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَأَحَدُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں موجود تھا ، آپ نے فرمایا : کیا تم یہ جانتے ہو کہ ہمارے ساتھ گھر میں کون موجود ہے ؟ میں نے عرض کی : کون ہے ؟ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جبرائیل ہے ، میں نے کہا: اے سیدنا جبرائیل ! آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے تمہیں سلام کا جواب دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15905
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : لَخَيْرٌ أَعْلَمُهُ الْيَوْمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مِثْلَيْهِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; لِأَنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَهُمُّنَا الْآخِرَةُ ، وَلَا تَهُمُّنَا الدُّنْيَا ، وَإِنَّا الْيَوْمَ قَدْ مَالَتْ بِنَا الدُّنْيَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : آج اگر میں ایک بھلائی کروں ، تو یہ میرے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی ہوئی اس سے دُگنی بھلائی سے زیادہ پسندیدہ ہو گی ، کیونکہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے تو ہماری توجہ آخرت کی طرف تھی ، دنیا ہمارا مطمع نظر نہیں ہوتی تھی ، اور آج ہم دنیا کی طرف مائل ہو چکے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15906
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ : مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبدالله بن نمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا انتقال 65 ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 15907
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - وَيُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ بِمِصْرَ ، وَدُفِنَ فِي دَارِهِ - سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ . وَقَائِلٌ يَقُولُ : سَنَةَ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ ، وَسِنُّهُ ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ سَنَةً ، أَوِ اثْنَتَانِ وَتِسْعُونَ سَنَةً - شَكَّ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ - فِي السَّبْعِينَ أَوِ التِّسْعِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ جن کی کنیت ” ابومحمد “ تھی ، ان کا انتقال مصر میں ہوا ، انہیں ان کے گھر میں دفن کیا گیا ، یہ 65 ہجری کی بات ہے ، بعض حضرات نے یہ کہا: ہے : 68 ہجری میں ہوا تھا ، اس وقت ان کی عمر 72 سال تھی ، یحیی نامی راوی کو شک ہے : یا شاید 92 سال تھی ( یعنی 72 یا 92 کے درمیان یہ شک یحیی نامی راوی کو ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔