کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15890
عَنْ رَاشِدٍ مَوْلَى حَبِيبِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ قَالَ : لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنَ الْأَحْزَابِ عَنِ الْخَنْدَقِ ، جَمَعْتُ رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانُوا يَرَوْنَ مَكَانِي وَيَسْمَعُونَ مِنِّي ، فَقُلْتُ لَهُمْ : تَعْلَمُونَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى أَمْرَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْلُو الْأُمُورَ عُلُوًّا كَبِيرًا مُنْكَرًا ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَمْرًا فَمَا تَرَوْنَ فِيهِ ؟ قَالُوا : وَمَا رَأَيْتَ ؟ قُلْتُ : رَأَيْتُ أَنْ نَلْحَقَ بِالنَّجَاشِيِّ فَنَكُونَ عِنْدَهُ ، فَإِنْ ظَهَرَ مُحَمَّدٌ عَلَى قَوْمِنَا كُنَّا عِنْدَ النَّجَاشِيِّ ، فَإِنَّا أَنْ نَكُونَ تَحْتَ يَدَيْهِ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْ أَنْ نَكُونَ تَحْتَ يَدَيْ مُحَمَّدٍ ، وَإِنْ ظَهَرَ قَوْمُنَا فَنَحْنُ مَنْ قَدْ عُرِفُوا ، فَلَنْ يَأْتِيَنَا مِنْهُمْ إِلَّا خَيْرٌ . قَالُوا : إِنَّ هَذَا الرَّأْيُ . قَالَ : قُلْتُ لَهُمْ : فَاجْمَعُوا لِي مَا يُهْدَى ، وَكَانَ أَحَبُّ مَا يُهْدَى إِلَيْهِ مِنْ أَرْضِنَا الْأَدَمَ ، فَجَمَعْنَا لَهُ أَدَمًا كَثِيرًا ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ ، فَوَاللَّهِ إِنَّا لَعِنْدَهَ إِذْ جَاءَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمَرِيُّ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ بَعَثَهُ إِلَيْهِ فِي شَأْنِ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا دَخَلَ إِلَيْهِ وَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ : فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي : هَذَا عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ لَوْ قَدْ دَخَلْتُ عَلَى النَّجَاشِيِّ وَسَأَلْتُهُ إِيَّاهُ فَأَعْطَانِيهِ ، فَضَرَبْتُ عُنُقَهُ ، فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَأَتْ قُرَيْشٌ أَنِّي قَدْ أَجْزَأْتُ عَنْهَا حِينَ قَتَلْتُ رَسُولَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قَالَ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَجَدْتُ لَهُ كَمَا كُنْتُ أَصْنَعُ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِصَدِيقِي ، أَهْدَيْتَ لِي مِنْ بِلَادِكَ شَيْئًا ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، أَيُّهَا الْمَلِكُ ثُمَّ قُلْتُ : أَيُّهَا الْمَلِكُ لَقَدْ أَهْدَيْتُ لَكَ أُدْمًا كَثِيرًا ، ثُمَّ قَدَّمْتُهُ إِلَيْهِ ، فَأَعْجَبَهُ وَاشْتَهَاهُ ثُمَّ قُلْتُ : أَيُّهَا الْمَلِكُ إِنِّي رَأَيْتُ رَجُلًا خَرَجَ مِنْ عِنْدِكَ وَهُوَ رَسُولُ رَجُلٍ عَدُوٍّ لَنَا ، فَأَعْطِنِيهِ فَأَقْتُلَهُ ; فَإِنَّهُ قَدْ أَصَابَ مِنْ أَشْرَافِنَا وَخِيَارِنَا . ¤ قَالَ : فَغَضِبَ ، وَمَدَّ يَدَهُ وَضَرَبَ بِهَا أَنْفَهُ ضَرْبَةً ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ كَسَرَهُ ، فَلَوِ انْشَقَّتْ لِيَ الْأَرْضُ لَدَخَلْتُ فِيهَا فَرَقًا مِنْهُ . ثُمَّ قُلْتُ : أَيُّهَا الْمَلِكُ ، وَاللَّهِ لَوْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ تَكْرَهُ هَذَا مَا سَأَلْتُهُ . قَالَ : تَسْأَلُنِي أَنْ أُعْطِيَكَ رَسُولَ رَجُلٍ يَأْتِيهِ النَّامُوسُ الْأَكْبَرُ الَّذِي كَانَ يَأْتِي مُوسَى لِتَقْتُلَهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : أَيُّهَا الْمَلِكُ ، أَكَذَاكَ هُوَ ؟ قَالَ : وَيْحَكَ يَا عَمْرُو ! أَطِعْنِي وَاتَّبِعْهُ; فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَعَلَى الْحَقِّ ، وَلَيَظْهَرَنَّ عَلَى مَنْ خَالَفَهُ كَمَا ظَهَرَ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ وَجُنُودِهِ . قَالَ : فَتُبَايِعُنِي لَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَبَسَطَ يَدَهُ ، وَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ . ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى أَصْحَابِي وَقَدْ حَالَ رَأْيِي عَمَّا كُنْتُ عَلَيْهِ ، وَكَتَمْتُ أَصْحَابِي إِسْلَامِي ، ثُمَّ خَرَجْتُ عَامِدًا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقِيتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَكَانَ قُبَيْلَ الْفَتْحِ وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا سُلَيْمَانَ قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَقَامَ الْمَيْسَمُ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ نَبِيٌّ ، اذْهَبْ فَأَسْلِمْ ، فَحَتَّى مَتَى ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَاللَّهِ مَا جِئْتُ إِلَّا لِأُسْلِمَ قَالَ : فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَقَدَّمَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَأَسْلَمَ وَبَايَعَ ، ثُمَّ دَنَوْتُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَغْفِرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي وَلَا أَذْكُرُ مَا تَأَخَّرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَمْرُو ، بَايِعْ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ يَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهُ ، وَإِنَّ الْهِجْرَةَ تَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهَا " . قَالَ : فَبَايَعْتُهُ ثُمَّ انْصَرَفْتُ . ¤ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : وَقَدْ حَدَّثَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ كَانَ مَعَهُمَا أَسْلَمَ حِينَ أَسْلَمَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ مِنْ فِيهِ إِلَى أُذُنِي ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حبیب بن اوس ثقفی کے غلام راشد بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بذات خود مجھے یہ بات بتائی : انہوں نے فرمایا : ” جب ہم غزوہ خندق کے موقع پر واپس گئے ، تو میں نے قریش کے کچھ افراد کو جمع کیا ، جو لوگ میری حیثیت سے واقف تھے میری بات سنتے تھے ، میں نے ان سے کہا: اللہ کی قسم ! تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے ، جو ایک قابل انکار چیز ہے ، تو میں نے ایک رائے سوچی ہے ، تم لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے دریافت کیا : آپ کی کیا رائے ہے ؟ میں نے کہا: میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ہم نجاشی کے پاس چلے جاتے ہیں ، اور وہاں رہیں گے ، اگر سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہماری قوم پر غالب آ گئے ، تو ہم نجاشی کے پاس ہی رہیں گے ، کیونکہ ہم اس کے ماتحت رہ کے زندگی گزاریں ، یہ ہمارے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ ہم سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ماتحت ہو جائیں اور اگر ہماری قوم غالب آ گئی ، تو ہم وہ لوگ ہیں کہ ہماری قوم کے لوگ ہماری حیثیت سے واقف ہیں ، ہمیں ان کی طرف سے بھلائی ہی نصیب ہو گی ، ان لوگوں نے کہا: یہ ایک اچھی رائے ہے ، میں نے ان سے کہا: پھر تم نجاشی کے لئے سامان تیار کرو ، جو اسے تحفے کے طور پر دیا جائے اور ہمارے علاقے کی چیزوں میں اس کے نزدیک تحفے میں سب سے زیادہ پسندیدہ چیز چمڑا ہے ، ہم نے اس کے لئے بہت سا چمڑا جمع کیا ۔ پھر ہم روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ اس کے پاس آئے ، جب ہم اس کے پاس پہنچے تو اسی دوران عمرو بن امیہ ضمری ( جو مسلمان تھے ) وہ اس کے پاس سے نکلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اسے نجاشی کے پاس بھیجا تھا ، جب ہم نجاشی کے پاس جا رہے تھے تو وہ وہاں سے نکل رہے تھے ، میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: یہ تو عمرو بن امیہ ہے ، اگر میں نجاشی کے پاس جا کر اس سے اس فرد کو مانگوں ، تو وہ مجھے یہ دیدے گا اور میں اس کی گردن اڑا دوں گا اور جب میں ایسا کروں گا ، تو قریش یہ سمجھیں گے : میں نے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے قاصد کو قتل کر کے ان کی طرف سے بدلہ لے لیا ہے ، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میں نجاشی کے پاس گیا ، تو میں نے اسے سجدہ کیا ، جس طرح پہلے کیا کرتا تھا ، اس نے کہا: میرے دوست کو خوش آمدید ہے ، تم اپنے علاقے سے میرے لئے کوئی تحفہ لے کے آئے ہو ؟ میں نے کہا: اے بادشاہ ! جی ہاں ! پھر میں نے کہا: اے بادشاہ ! میں تمہارے لئے تحفے کے طور پر بہت سے چمڑے لے کے آیا ہوں ، پھر میں نے وہ اسے دیا ، وہ اسے اچھا لگا اور پسند آیا ۔ پھر میں نے کہا: اے بادشاہ ! میں نے ایک شخص کو تمہارے پاس سے باہر جاتے ہوئے دیکھا ہے ، وہ ہمارے دشمن کا قاصد ہے ، وہ فرد تم ہمارے حوالے کر دو ، تاکہ میں اسے قتل کر دوں ، کیونکہ اس نے ہمارے معززین اور بہترین لوگوں کو نقصان پہنچایا ہے ، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو نجاشی غصے میں آ گیا ، اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اپنی ناک پر زور سے ضرب لگائی ، مجھے یوں لگا جیسے وہ اپنی ناک کو توڑ دے گا ، اس وقت اس کے خوف کی وجہ سے میں نے یہ سوچا کہ اگر زمین شق ہو جائے ، تو میں زمین کے اندر داخل ہو جاؤں ، پھر میں نے کہا: اے بادشاہ ! اللہ کی قسم ! اگر مجھے یہ اندازہ ہوتا کہ تم اس چیز کو ناپسند کرو گے ، تو میں نے یہ درخواست کرنی ہی نہیں تھی ، اس نے کہا: تم نے مجھ سے یہ درخواست کی ہے کہ میں تمہیں ان صاحب کا قاصد دے دوں ، جن کے پاس وہ ” ناموس اکبر “ آتا ہے ، جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آتا تھا ، تاکہ تم اس قاصد کو قتل کر دو ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اے بادشاہ ! کیا ایسا ہی ہے ؟ اس نے کہا: اے عمرو ! تمہارا ستیاناس ہو ، تم میری بات مانو اور ان کی پیروی کر لو ، کیونکہ اللہ کی قسم ! وہ حق پر ہیں اور وہ اپنے مخالفین پر ضرور غالب آ جائیں گے ، جس طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کے لشکریوں پر غالب آئے تھے ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا: تو کیا تم ان کی طرف سے اسلام پر مجھ سے بیعت لے لو گے ؟ اس نے کہا: ٹھیک ہے ، پھر اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے اسلام پر بیعت لے لی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر میں نکل کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا ، پہلے جو میرا خیال تھا وہ رکاوٹ بنا ہوا تھا ، میں نے اپنے ساتھیوں سے اپنا اسلام چھپایا ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانے کے لئے نکلا ، راستے میں میری ملاقات سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، یہ فتح مکہ سے کچھ پہلے کی بات ہے ، وہ مکہ کی طرف سے آ رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : اے ابوسلیمان ! کہاں جا رہے ہو ؟ اس نے بتایا : اللہ کی قسم ! راستہ ٹھیک ہو گیا ہے ، وہ صاحب واقعی نبی ہیں ، میں جا رہا ہوں تاکہ اسلام قبول کر لوں ، آخر کب تک اس میں تاخیر کروں گا ؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں بھی اسلام قبول کرنے کے لئے ہی آیا ہوں ، راوی کہتے ہیں : پھر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ، انہوں نے اسلام قبول کیا پھر بیعت کی ، پھر میں آگے ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس شرط پر آپ کی بیعت کروں گا کہ میرے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے ، راوی کہتے ہیں : مجھے بعد والی کوتاہیوں کے بارے میں خیال نہیں آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عمرو ! تم بیعت کر لو ، کیونکہ اسلام اپنے سے پہلے کی تمام کوتاہیوں کو ختم کر دیتا ہے اور ہجرت اپنے سے پہلے کی سب چیزوں کو ختم دیتی ہے ، راوی کہتے ہیں : تو پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور پھر میں واپس آ گیا ۔ ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : مجھے اس فرد نے
یہ روایت بیان کی ہے جس پر میں تہمت عائد نہیں کرتا کہ سیدنا عثمان بن طلحہ بن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں حضرات کے اسلام قبول کرنے کے وقت ان کے ہمراہ اسلام قبول کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بذات خود مجھے یہ بات بیان کی ، جو میرے کانوں نے سنی ، ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت بیان کی ہے جس پر میں تہمت عائد نہیں کرتا کہ سیدنا عثمان بن طلحہ بن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں حضرات کے اسلام قبول کرنے کے وقت ان کے ہمراہ اسلام قبول کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بذات خود مجھے یہ بات بیان کی ، جو میرے کانوں نے سنی ، ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15891
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ رَمْثَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ وَخَرَجْنَا مَعَهُ ، فَنَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ عَمْرًا " . فَتَذَاكَرْنَا كُلَّ مَنِ اسْمُهُ عَمْرٌو . فَنَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ عَمْرًا " . قَالَ : ثُمَّ نَعَسَ الثَّالِثَةَ ، فَاسْتَيْقَظَ فَقَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ عَمْرًا " . فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ عَمْرٌو هَذَا ؟ قَالَ : " عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ " . قُلْنَا : وَمَا شَأْنُهُ ؟ قَالَ : " كُنْتُ إِذَا نَدَيْتُ النَّاسَ إِلَى الصَّدَقَةَ جَاءَ فَأَجْزَلَ مِنْهَا ، فَأَقُولُ : يَا عَمْرُو ، أَنَّى لَكَ هَذَا ؟ قَالَ : مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ، وَصَدَقَ عَمْرٌو إِنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا كَثِيرًا " . ¤ قَالَ زُهَيْرُ بْنُ قَيْسٍ : لَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : لَأَلْزَمَنَّ هَذَا الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا كَثِيرًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَ زُهَيْرٌ : فَلَمَّا كَانَتِ الْفِتْنَةُ قُلْتُ : أَتَّبِعُ هَذَا الَّذِي قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالَ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علقمہ بن رمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بحرین بھیجا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگی مہم پر تشریف لے گئے ، آپ کے ساتھ ہم بھی گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آئی ، تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم کرے ، ہم نے ہر اس فرد کو یاد کیا جس کا نام عمرو تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آئی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم کرے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تیسری مرتبہ اونگھ آئی ، پھر جب آپ بیدار ہوئے تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم کرے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! عمرو سے مراد کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : عمرو بن العاص ، ہم نے عرض کی : ان کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے لوگوں کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا ، جب عمرو آیا تو وہ بہت سا صدقہ لے کر آیا ، میں نے کہا: اے عمرو ! یہ کہاں سے آیا ہے ؟ تو اس نے کہا: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اور عمرو نے ٹھیک کہا: ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُس کے لئے بہت زیادہ بھلائی ہے ۔ زہیر بن قیس کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو میں نے سوچا کہ میں ان صاحب کے ساتھ رہوں گا ، جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے : کہ اُن کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت زیادہ بھلائی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : زہیر نامی راوی نے کہا: جب فتنے کا زمانہ آیا تو میں نے سوچا کہ میں ان صاحب کے ساتھ رہوں گا ، جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ۔ امام أحمد کے رجال اور طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : زہیر نامی راوی نے کہا: جب فتنے کا زمانہ آیا تو میں نے سوچا کہ میں ان صاحب کے ساتھ رہوں گا ، جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ۔ امام أحمد کے رجال اور طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15892
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : كَانَ إِسْلَامُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، وَعُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ عِنْدَ النَّجَاشِيِّ ، فَقَدِمُوا الْمَدِينَةَ فِي صَفَرٍ سَنَةَ ثَمَانٍ مِنَ الْهِجْرَةِ . قُلْتُ : إِسْلَامُهُمْ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ مَعْرُوفٍ ، وَأَمَّا إِسْلَامُ خَالِدٍ وَعُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ عِنْدَ النَّجَاشِيِّ فَلَمْ أَجِدْهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ مِنْ قَوْلِهِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے نجاشی کے ہاں اسلام قبول کیا تھا ، پھر یہ لوگ ہجرت کے آٹھویں سال صفر کے مہینے میں مدینہ منورہ آئے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان حضرات کا ایک ہی دن اسلام قبول کرنا ایک معروف بات ہے ، لیکن سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کا نجاشی کے پاس اسلام قبول کرنا ،
یہ روایت صرف میں نے ابن اسحاق کے قول کے طور پر ہی پائی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت صرف میں نے ابن اسحاق کے قول کے طور پر ہی پائی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 15893
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ الطَّائِيِّ قَالَ : لَمَّا كَانَتْ غَزْوَةُ ذَاتِ السَّلَاسِلِ اسْتُعْمِلَ رَسُولُ اللَّهِ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَلَى جَيْشٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ . قَالَ الْحَدِيثُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن ابورافع طائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ ذات سلاسل کے مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس لشکر کا امیر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا ان لوگوں میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ شامل تھے ، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15894
وَعَنْ طَلْحَةَ - يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَا عَمْرُو ، إِنَّكَ لَذُو رَأْيٍ سَدِيدٍ فِي الْإِسْلَامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ : " فِي الْإِسْلَامِ " . وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ فِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے عمرو ! اسلام میں تم ایک سمجھ دار رائے رکھنے والے فرد ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اسلام میں“ ۔ معجم کبیر کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ہزار کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اسلام میں“ ۔ معجم کبیر کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ہزار کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15895
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ابْنَا الْعَاصِ مُؤْمِنَانِ ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فِي الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ " وَعَمْرٌو فِي الْجَنَّةِ وَأَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَ : " عَمْرٌو وَهِشَامٌ " . وَرِجَالُ الْكَبِيرِ وَأَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عاص کے دونوں بیٹے مؤمن ہیں اور عمرو بن العاص جنت میں جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ صرف یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” عمرو ، جنت میں جائے گا ۔ “ امام أحمد نے بھی
یہ روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” عمرو اور ہشام ۔ “ معجم کبیر کے رجال اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ صرف یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” عمرو ، جنت میں جائے گا ۔ “ امام أحمد نے بھی
یہ روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” عمرو اور ہشام ۔ “ معجم کبیر کے رجال اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 15896
وَعَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ : أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ حِينَ شَيَّعَ عَمْرًا : أَوَ تَزِيدُ النَّاسَ نَارًا ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا يَصْنَعُ هَذَا بِالنَّاسِ ؟ ! ، فَقَالَ : دَعْهُ ; فَإِنَّمَا وَلَّاهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعِلْمِهِ بِالْحَرْبِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْمُنْذِرِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن بریدہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتے ہوئے جا رہے تھے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ لوگوں کی آگ میں اضافہ کریں گے ؟ کیا آپ نے دیکھا نہیں ہے کہ انہوں نے لوگوں کے ساتھ کیا کیا ہے ؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں رہنے دو ! کیونکہ انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا امیر بنایا تھا ، کیونکہ یہ جنگ کے بارے میں بخوبی علم رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف منذر بن ثعلبہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف منذر بن ثعلبہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 15897
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " خُذْ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ وَسِلَاحَكَ ثُمَّ ائْتِنِي " . قَالَ : فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ ، ثُمَّ طَأْطَأَ فَقَالَ : " إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ فَيُسَلِّمُكَ اللَّهُ وَيُغْنِمُكَ ، وَأَرْغَبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ رَغْبَةً صَالِحَةً " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَسْلَمْتُ مِنْ أَجْلِ الْمَالِ ، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ ، وَأَنْ أَكُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ : " يَا عَمْرُو ، نَعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلْمَرْءِ الصَّالِحِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَقَالَ : هَكَذَا فِي النُّسْخَةِ : " نَعِمَّا " . بِنَصْبِ النُّونِ وَكَسْرِ الْعَيْنِ ، وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : بِكَسْرِ النُّونِ وَالْعَيْنِ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَقَالَ فِيهِ : وَلَكِنْ أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ ، وَأَكُونُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " نَعَمْ وَنَعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلْمَرْءِ الصَّالِحِ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا اور فرمایا : تم اپنا لباس اور ہتھیار پہن کر پھر میرے پاس آؤ ! راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وضو کر رہے تھے ، آپ نے نگاہ اٹھا کر میری طرف دیکھا اور پھر آپ نے سر جھکا لیا ، پھر آپ نے فرمایا : میں تمہیں ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجنا چاہتا ہوں ، اللہ تعالیٰ تمہیں سلامت رکھے اور تمہیں غنیمت عطا کرے ، میں تمہارے لئے مال کے حوالے سے اچھی رغبت رکھتا ہوں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے مال کی خاطر اسلام قبول نہیں کیا ہے ، میں نے اسلام میں رغبت رکھتے ہوئے اسلام قبول کیا ہے ، تاکہ میں اللہ کے رسول کے ساتھ رہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمرو ! اچھا مال ، اچھا ہوتا ہے ، جو اچھے آدمی کے پاس ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : نسخے میں اسی طرح لفظ ” نعما “ جس میں ” ن “ پر زبر ہے اور ” ع “ پر زیر ہے ، ابوعبیدہ کہتے ہیں : ” ن “ پر زیر ہے اور ” ع “ پر بھی زیر ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں نے اسلام میں رغبت رکھتے ہوئے اور اللہ کے رسول کے ساتھ ہونے میں رغبت رکھتے ہوئے ایسا کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، وہ اچھا مال ، اچھا ہوتا ہے ، جو اچھے آدمی کے پاس ہو ۔ “ امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : نسخے میں اسی طرح لفظ ” نعما “ جس میں ” ن “ پر زبر ہے اور ” ع “ پر زیر ہے ، ابوعبیدہ کہتے ہیں : ” ن “ پر زیر ہے اور ” ع “ پر بھی زیر ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں نے اسلام میں رغبت رکھتے ہوئے اور اللہ کے رسول کے ساتھ ہونے میں رغبت رکھتے ہوئے ایسا کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، وہ اچھا مال ، اچھا ہوتا ہے ، جو اچھے آدمی کے پاس ہو ۔ “ امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15898
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا فِي الْحِجْرِ مَعَ النَّاسِ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ قِيلَ : قَدِمَ اللَّيْلَةَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ : فَمَا أَكْثَرْنَا أَنْ دَخَلَ عَلَيْنَا فَمَدَدْنَا إِلَيْهِ أَبْصَارَنَا ، فَطَافَ ، ثُمَّ صَلَّى فِي الْحِجْرِ رَكْعَتَيْنِ وَقَالَ : أَقَرَصْتُمُونِي ؟ قُلْنَا : مَا ذَكَرْنَاكَ إِلَّا بِخَيْرٍ ، ذَكَرْنَاكَ وَهِشَامَ بْنَ الْعَاصِ فَقُلْنَا : أَيُّهُمَا أَفْضَلُ ؟ قَالَ بَعْضُهُمْ : هَذَا ، وَقَالَ بَعْضُنَا : هِشَامٌ . قَالَ : أَنَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ ، أَسْلَمْنَا وَأَحْبَبْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَاصَحْنَاهُ ، ثُمَّ ذَكَرَ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ ، فَقَالَ : أَخَذْتُ بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ ، ثُمَّ اغْتَسَلْتُ وَتَحَنَّطْتُ ، ثُمَّ تَكَفَّنْتُ ، فَعَرَضْنَا أَنْفُسَنَا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَبِلَهُ فَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي . - يَقُولُهَا ثَلَاثًا - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو عَمْرٍو مَوْلَى بَنِي أُمَيَّةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسود بن خلف بیان کرتے ہیں : ہم لوگ قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے ہمراہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران کہا: گیا کہ آج رات سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تشریف لے آئیں گے ، راوی کہتے ہیں : ہم ان کا زیادہ تر ذکر کرتے رہے تو اسی دوران وہ ہمارے پاس تشریف لے آئے ، تو ہم ان کی طرف دیکھنے لگے ، انہوں نے طواف کیا پھر حطیم میں دو رکعت ادا کیں پھر فرمایا : تم لوگ میرا ذکر کر رہے تھے ؟ ہم نے کہا: ہم آپ کا ذکر صرف بھلائی کے ہمراہ کر رہے تھے ، ہم نے آپ کا اور ( آپ کے بھائی ) سیدنا ہشام بن العاص رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ، پھر ہم نے یہ بحث کی کہ آپ دونوں میں کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ تو کسی کا یہ کہنا تھا کہ یہ زیادہ فضیلت رکھتے ہیں ، کسی کا کہنا تھا کہ ہشام زیادہ فضیلت رکھتے ہیں ، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں ، میں نے ( اور میرے بھائی نے ) اسلام قبول کیا ، ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھی ، ان کی خیرخواہی کی ، پھر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے جنگ یرموک کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا: کہ میں نے خیمے کی لکڑی پکڑی ، پھر میں نے غسل کیا ، پھر میں نے خوشبو لگائی ، پھر میں نے کفن پہن لیا ، ہم نے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے قبول کر لیا ( یعنی اسے جام شہادت عطا کیا ) تو وہ اس حوالے سے مجھ سے بہتر ہے ، یہ بات سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوعمرو ہے ، جو بنوامیہ کا غلام ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوعمرو ہے ، جو بنوامیہ کا غلام ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15899
وَعَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ قَالَ : جَزِعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عِنْدَ الْمَوْتِ جَزَعًا شَدِيدًا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، مَا هَذَا الْجَزَعُ ؟ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُدْنِيكَ وَيَسْتَعْمِلُكَ ؟ ! قَالَ : أَيْ بُنَيَّ ، كَانَ ذَلِكَ وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ : إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا كَانَ ذَلِكَ أَمْ تَأَلُّفًا يَتَأَلَّفُنِي ؟ ، وَلَكِنْ أَشْهَدُ عَلَى رَجُلَيْنِ أَنَّهُ فَارَقَ الدُّنْيَا وَهُوَ يُحِبُّهُمَا : ابْنُ سُمَيَّةَ ، وَابْنُ أُمِّ عَبْدٍ ، فَلَمَّا حَزَبَهُ الْأَمْرُ جَعَلَ يَدَهُ مَوْضِعَ الْغِلَالِ مِنْ ذَقْنِهِ وَقَالَ : اللَّهُمَّ أَمَرْتَنَا فَتَرَكْنَا ، وَنَهَيْتَنَا فَرَكِبْنَا ، وَلَا يَسَعُنَا إِلَّا مُغْفِرَتُكَ . وَكَانَتْ تِلْكَ هِجِّيرَاهُ حَتَّى مَاتَ . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابونوفل بن ابوعقرب بیان کرتے ہیں : موت کے وقت سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ پر شدید پریشانی کی کیفیت طاری ہو گئی جب ان کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اس صورت حال میں دیکھا تو کہا: اے ابوعبداللہ ! یہ پریشانی کس وجہ سے ہے ؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنے قریب رکھا تھا ، آپ کو عامل مقرر کیا تھا ، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! ایسا ہوا تھا ، لیکن میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں ، اللہ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت کی وجہ سے ایسا کیا تھا ؟ یا تالیف قلب کے طور پر ایسا کیا تھا ؟ البتہ میں دو افراد کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تھے ، تو آپ ان دونوں لوگوں سے محبت کرتے تھے ، ایک ابن سمیہ ( یعنی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ) اور ایک ابن ام عبد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) راوی کہتے ہیں : جب اُن کی طبیعت زیادہ بگڑنا شروع ہوئی ، تو انہوں نے اپنا ہاتھ ٹھوڑی پر اس جگہ رکھا ، جہاں طوق آتا ہے اور پھر یہ کہا: اے اللہ ! تو نے ہمیں حکم دیا ، تو ہم نے اسے چھوڑ دیا ، تو نے ہمیں منع کیا ، تو ہم نے وہ کام کیے ، اب تیری عطا کردہ مغفرت ہی ہمارے لئے کفایت کر سکتی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو وصال کرنے تک اُن کے یہی کلمات رہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15900
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ : مَاتَ عَمْرٌو بِمِصْرَ يَوْمَ الْفِطْرِ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَأَرْبَعِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کا انتقال مصر میں ، عید الفطر کے دن 42 ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15901
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَيُكْنَى : أَبَا عَبْدِ اللَّهِ بِمِصْرَ لَيْلَةَ الْفِطْرِ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعِينَ ، وَدُفِنَ يَوْمَ الْفِطْرِ ، وَصَلَّى عَلَيْهِ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَسِنُّهُ نَحْوٌ مِنْ مِائَةِ سَنَةٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبداللہ تھی ، ان کا انتقال مصر میں ، عید الفطر کی رات 43 ہجری میں ہوا تھا اور عید الفطر کے دن انہیں دفن کیا گیا ، ان کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ، انتقال کے وقت ان کی عمر ایک سو سال کے لگ بھگ تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔