کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15794
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ : أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ دَخَلَ عَلَى الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يَقُولُ الشِّعْرَ ، فَقَالَ لَهُ : أَخِي ، أَمَا عَلَّمَكَ اللَّهُ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ هَذَا ؟ فَقَالَ لَهُ الْبَرَاءُ : أَتَخْشَى أَنْ أَمُوتَ عَلَى فِرَاشِي ؟ وَاللَّهِ لَا يَكُونُ ذَلِكَ أَبَدًا بَلَاءَ اللَّهِ إِيَّايَ ، فَقَدْ قَتَلْتُ مِائَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، مِنْهُمْ مَنْ تَفَرَّدْتُ بِقَتْلِهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ شَارَكْتُ فِيهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ شعر کہہ رہے تھے ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے میرے بھائی ! کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس چیز کا علم عطا نہیں کیا ، جو اس سے بہتر ہے ؟ تو سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ کو یہ اندیشہ ہے کہ میں اپنے بستر پر مر جاؤں گا ؟ اللہ کی قسم : ایسا کبھی نہیں ہو گا ، اس آزمائش کے بعد ، جس میں اللہ تعالیٰ نے مجھے مبتلاء کیا ہے ، میں نے ایک سو مشرکین کو قتل کیا ہے ، اُن میں سے کچھ ایسے بھی ہیں ، جنہیں میں قتل کرنے میں منفرد تھا ، اور ایسے بھی ہیں جنہیں قتل کرنے میں میں حصہ دار تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوہلال راسی ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اور محمد بن سیرین نامی راوی نے سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوہلال راسی ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اور محمد بن سیرین نامی راوی نے سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 15795
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : اسْتَلْقَى الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ عَلَى ظَهْرِهِ ثُمَّ تَرَنَّمَ ، فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ : اذْكُرِ اللَّهَ أَيْ أُخَيَّ ! فَاسْتَوَى جَالِسًا وَقَالَ : أَيْ أَنَسٌ ، أَتُرَانِي أَمُوتُ عَلَى فِرَاشِي وَقَدْ قَتَلْتُ مِائَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ مُبَارَزَةً سِوَى مَنْ شَارَكْتُ فِي قَتْلِهِ ؟ ! . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ پشت کے بل چت لیٹے ہوئے تھے ، وہ ترنم کے ساتھ کچھ پڑھنے لگے ، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے میرے بھائی ! تم اللہ کا ذکر کرو ، تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ، انہوں نے کہا: اے انس ! کیا تم میرے بارے میں یہ رائے رکھتے ہو ؟ کہ میں اپنے بستر پر مر جاؤں گا ؟ میں نے مقابلے کی دعوت دے کر ایک سو مشرکین کو قتل کیا ہے ، اور یہ ان کے علاوہ ہیں ، جن کے قتل کرنے میں ، میں حصہ دار تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15796
وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ : بَيْنَمَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَأَخُوهُ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ عِنْدَ حِصْنٍ مِنْ حُصُونِ الْعَدُوِّ وَالْعَدُوُّ يُلْقُونَ كَلَالِيبَ فِي سَلَاسِلَ مُحَمَّاةٍ ، فَتَعْلَقُ بِالْإِنْسَانِ فَيَرْفَعُونَهُ إِلَيْهِمْ ، فَعَلَقَ بَعْضُ تِلْكَ الْكَلَالِيبِ بِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَرَفَعُوهُ حَتَّى أَقَلُّوهُ مِنَ الْأَرْضِ ، فَأَتَى أَخُوهُ الْبَرَاءُ ، فَقِيلَ لَهُ : أَدْرِكْ أَخَاكَ ، وَهُوَ يُقَاتِلُ النَّاسَ ، فَأَقْبَلَ يَسْعَى حَتَّى نَزَا فِي الْجِدَارِ ، ثُمَّ قَبَضَ بِيَدِهِ عَلَى السِّلْسِلَةِ وَهِيَ تُدَارُ ، فَمَا بَرِحَ يَجُرُّهُمْ وَيَدَاهُ تُدَخِّنَانِ حَتَّى قَطَعَ الْحَبْلَ ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى يَدَيْهِ فَإِذَا عِظَامُهُ تَلُوحُ قَدْ ذَهَبَ مَا عَلَيْهَا مِنَ اللَّحْمِ ، أَنْجَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِذَاكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور اُن کے بھائی سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ دشمن کے ایک قلعے کے پاس موجود تھے ، دشمن نے گرم زنجیروں کے ذریعے آنکڑے لٹکائے ، جو شخص ان میں پھنس جاتا تھا ، وہ لوگ اسے اپنی طرف اٹھا لیتے تھے ، اُن آنکڑوں میں سے ایک میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ یہ پھنس گئے ، دشمن نے انہیں اٹھانا شروع کیا ، یہاں تک کہ وہ زمین سے کچھ اوپر ہو گئے ، تو اُن کے بھائی سیدنا براء رضی اللہ عنہ آئے ، اُن سے کہا: گیا : آپ اپنے بھائی کے پاس پہنچیں ، وہ اس وقت دشمن سے لڑائی کر رہے تھے ، وہ دوڑتے ہوئے آئے ، یہاں تک کہ وہ دیوار کی طرف اچھلے اور پھر انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس زنجیر کو پکڑ لیا ، وہ گھومنے لگی ، وہ مسلسل انہیں کھینچتے رہے ، ان کے دونوں ہاتھ جل گئے ، لیکن انہوں نے رسی کو کاٹ دیا ، جب انہوں نے اپنے ہاتھوں کا جائزہ لیا ، تو ان کی ہڈیاں نظر آ رہی تھیں اور ہڈیوں پر موجود گوشت ختم ہو چکا تھا ، لیکن اس طرح اللہ تعالیٰ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو نجات دیدی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔