کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15797
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَبِي حَمْزَةَ . قُلْتُ : رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ كَنَّانِي بِبَقْلَةَ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ” ابوحمزہ “ رکھی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اُن کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری یہ کنیت ( ” حمزہ “ نامی ) ایک سبزی کی وجہ سے رکھی تھی ، جسے میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھاتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری یہ کنیت ( ” حمزہ “ نامی ) ایک سبزی کی وجہ سے رکھی تھی ، جسے میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھاتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15798
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَتْ لِي ذُؤَابَةٌ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمُدُّهَا وَيَأْخُذُ بِهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری لمبی زلفیں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کھینچ لیتے تھے اور انہیں پکڑ لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 15799
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خُوَيْدِمُكَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ جب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں گا : تو میں عرض کروں گا : آپ کا ادنیٰ خادم ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عطیہ ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عطیہ ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15800
وَعَنْ ثَابِتٍ قَالَ : كُنْتُ إِذَا أَتَيْتُ أَنَسًا يُخْبَرُ بِمَكَانِي ، فَأَدْخُلُ عَلَيْهِ ، فَآخُذُ بِيَدَيْهِ فَأُقَبِّلْهُمَا وَأَقُولُ : بِأَبِي هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ اللَّتَيْنِ مَسَّتَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُقَبِّلُ عَيْنَيْهِ وَأَقُولُ : بِأَبِي هَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ثابت بیان کرتے ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس میں آیا کرتا تھا ، اور انہیں میرے آنے کے بارے میں بتایا جاتا تھا ، تو وہ مجھے اندر آنے کے لئے کہتے تھے ، میں ان کے دونوں ہاتھ پکڑ کے ان کو بوسہ دیتا تھا اور یہ کہتا تھا : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، یہ دونوں ہاتھ وہ ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوا ہے ، پھر ان کی دونوں آنکھوں کو بوسہ دیتا تھا اور یہ کہتا تھا : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، یہ دو آنکھیں وہ ہیں ، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن ابوبکر مقدمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن ابوبکر مقدمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 15801
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ : لَمَّا مَاتَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ مُوَرِّقٌ الْعِجْلِيُّ : ذَهَبَ الْيَوْمَ نِصْفُ الْعِلْمِ ، فَقِيلَ : وَكَيْفَ ذَاكَ يَا أَبَا الْمُغِيرَةِ ؟ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ إِذَا خَالَفَنَا فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْنَا لَهُ : تَعَالَ إِلَى مَنْ سَمِعَهُ مِنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، تو مورق عجلی نے کہا: آج نصف علم رخصت ہو گیا ، اُن سے کہا: گیا : اے ابومغیرہ ! وہ کیسے ؟ انہوں نے فرمایا : پہلے جب کوئی بدمذہب کسی حدیث کے بارے میں ، ہم سے اختلاف کرتا تھا ، تو ہم اس سے یہ کہتے تھے : کہ آؤ ! ہم اُن کے پاس چلتے ہیں ، جنہوں نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15802
وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ : قُلْتُ لِشُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ : مَتَى مَاتَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ؟ قَالَ : سَنَةَ تِسْعِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
جریر بن حازم بیان کرتے ہیں : میں نے شعیب بن حجاب سے دریافت کیا : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا انتقال کب ہوا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : 90 ہجری میں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15803
وَعَنِ السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى قَالَ : مَاتَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَتِسْعِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
سری بن یحیی بیان کرتے ہیں : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا انتقال 93 ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔