کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت ابودحداح رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15791
عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً وَأَنَا أُقِيمُ حَائِطِي بِهَا [ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَنِي حَتَّى أُقِيمَ حَائِطِي بِهَا ] فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَعْطِهِ إِيَّاهَا بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ " . فَأَبَى ، فَأَتَاهُ أَبُو الدَّحْدَاحِ ، فَقَالَ : بِعْنِي نَخْلَتِكَ بِحَائِطِي ، قَالَ [فَفَعَلَ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ النَّخْلَةَ بِحَائِطِي قَالَ ] : فَاجْعَلْهَا لَهُ فَقَدَ أَعْطَيْتُكَهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَمْ مِنْ عِذْقٍ رَدَّاحٍ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ " [ فِي الْجَنَّةِ ] . قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا . قَالَ : فَأَتَى امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ : يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ ، اخْرُجِي مِنَ الْحَائِطِ ; فَإِنِّي قَدْ بِعْتُهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ ، فَقَالَتْ : رَبِحَ الْبَيْعُ - أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا - . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص کا کھجور کا ایک درخت ہے اور وہ میرے باغ میں ہے ، اور میں اپنے اس باغ میں رہتا ہوں ، تو آپ اس شخص کو یہ حکم دیں تاکہ وہ مجھے وہ درخت دیدے ، تاکہ میں اپنے باغ میں رہ سکوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس شخص سے ) فرمایا : تم جنت میں کھجور کے ایک درخت کے عوض میں وہ درخت اسے دے دو ! اس شخص نے انکار کر دیا ، سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ اس شخص کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : تم اپنا وہ درخت میرے باغ کے عوض میں مجھے فروخت کر دو ! تو اس نے ایسا کر دیا ، سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اپنے باغ کے عوض میں وہ درخت خرید لیا ہے ، تو آپ وہ درخت اس متعلقہ شخص کو دے دیں ، وہ میں نے آپ کی نذر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں ابودحداح کے کتنے ہی کھجوروں کے وزنی گچھے ہیں ۔ “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اسے اُم دحداح ! اس باغ سے باہر آ جاؤ ! کیونکہ میں نے جنت میں موجود کھجور کے ایک درخت کے عوض میں اسے فروخت کر دیا ہے ، تو اس خاتون نے کہا: یہ کامیابی کا سودا ہے ، یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ کہا: ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15791
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (300/22) اخرجه احمد فى المسند (146/3)»
حدیث نمبر: 15792
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا قَالَ أَبُو الدَّحْدَاحِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ يُرِيدُ مِنَّا الْقَرْضَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ يَا أَبَا الدَّحْدَاحِ " . قَالَ : أَرِنَا يَدَكَ قَالَ : فَنَاوَلَهُ يَدَهُ قَالَ : قَدْ أَقْرَضْتُ رَبِّي حَائِطِي - وَحَائِطُهُ فِيهِ سِتُّمِائَةِ نَخْلَةٍ - فَجَاءَ يَمْشِي حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ وَأُمُّ الدَّحْدَاحِ فِيهِ وَعِيَالُهَا ، فَنَادَى : يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ قَالَتْ : لَبَّيْكَ قَالَ : اخْرُجِي فَقَدْ أَقْرَضْتُهُ رَبِّي . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” کون شخص ہے ، جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے ۔ “ تو سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ ہم سے قرض طلب کر رہا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اے ابودحداح ! انہوں نے عرض کی : آپ اپنا ہاتھ مجھے دکھائیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا ، تو انہوں نے عرض کی : میں اپنا باغ اپنے پروردگار کو قرض کے طور پر دیتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : اُن کے باغ میں کھجوروں کے چھ سو درخت تھے ، پھر وہ چلتے ہوئے اس باغ کے پاس آئے ، اُم دحداح اور ان کے گھر کے افراد اس باغ میں موجود تھے ، انہوں نے بلند آواز میں پکار کر کہا: اے ام دحداح ! اس خاتون نے کہا: میں حاضر ہوں ، انہوں نے کہا: تم باہر نکل آؤ ! کیونکہ یہ میں نے اپنے پروردگار کو قرض کے طور پر دے دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں اور امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15792
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4986) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (301/22)»
حدیث نمبر: 15793
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ إِلَى أَبِي الدَّحْدَاحِ يَسْتَقْرِضُهُ ، فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : بَعَثَ إِلَيَّ يَسْتَقْرِضُنِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَإِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ أَنَّ مَالِي فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَمْ مِنْ عِذْقٍ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر ان سے قرض طلب کیا ، جب قاصد ان کے پاس آیا تو انہوں نے دریافت کیا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیج کر مجھ سے قرض طلب کیا ہے ؟ قاصد نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ فلاں فلاں جگہ پر موجود میری زمین ، اللہ کے لئے ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت میں ابودحداح کے کتنے ہی گچھے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15793
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن