کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15787
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَسَقَطَتْ عَلَى لِحْيَتِهِ رِيشَةٌ ، فَابْتَدَرَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ فَأَخَذَهَا ، [ مِنْ لِحْيَتِهِ ] فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَزَعَ اللَّهُ عَنْكَ مَا تَكْرَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نَائِلُ بْنُ نُجَيْحٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي أَيُّوبَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفا اور مروہ کے درمیان طواف کر رہے تھے ، آپ کی داڑھی پر ایک پر گر گیا ۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ لپک کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے اسے نکال لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم سے اُس چیز کو دور کرے ، جسے تم ناپسند کرتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نائل بن نجیح ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، دارقطنی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ حبیب بن ابوثابت نامی راوی نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نائل بن نجیح ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، دارقطنی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ حبیب بن ابوثابت نامی راوی نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 15788
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : نَزَلَ عَلَيَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ نَزَلَ عَلَيْهِ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ : وَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ نَزَلَ عَلَيْهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ هَيَاجُ بْنُ بِسْطَامٍ التَّمِيمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں پڑاؤ کیا ، میں وہ پہلا فرد تھا ، جس کے ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” میں وہ پہلا فرد تھا ، جس کے ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہیاج بن بسطام تمیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” میں وہ پہلا فرد تھا ، جس کے ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہیاج بن بسطام تمیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15789
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَزَلَ عَلَيْهِ حِينَ هَاجَرَ ، غَزَا أَرْضَ الرُّومِ ، فَمَرَّ عَلَى مُعَاوِيَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَجَفَاهُ ، فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ مِنْ غَزْوَتِهِ فَجَفَاهُ وَلَمْ يَرْفَعْ لَهُ رَأْسًا ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْبَأَنِي أَنَّا سَنَرَى بَعْدَهُ أَثَرَةً قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَبِمَ أَمَرَكُمْ ؟ قَالَ : أَمَرَنَا أَنْ نَصْبِرَ قَالَ : اصْبِرُوا إِذًا . فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ وَقَدْ أَمَّرَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ : يَا أَبَا أَيُّوبَ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ لَكَ عَنْ مَسْكَنِي كَمَا خَرَجْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ أَهْلَهُ فَخَرَجُوا ، وَأَعْطَاهُ كُلَّ شَيْءٍ أَغْلَقَ عَلَيْهِ الدَّارَ ، فَلَمَّا كَانَ انْطِلَاقُهُ قَالَ : حَاجَتُكَ ؟ قَالَ : حَاجَتِي عَطَائِي وَثَمَانِيَةُ أَعْبُدٍ يَعْمَلُونَ فِي أَرْضِي ، وَكَانَ عَطَاؤُهُ أَرْبَعَةَ آلَافٍ ، فَأَضْعَفَهَا لَهُ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، فَأَعْطَاهُ عِشْرِينَ أَلْفًا وَأَرْبَعِينَ عَبْدًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہجرت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے تھے ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روم کی سرزمین پر جنگ میں حصہ لینے کے لئے گئے ، ان کا گزر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ، وہ تشریف لے گئے ، جب وہ جنگ سے واپس تشریف لائے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پھر ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اور انہیں نگاہ اٹھا کے بھی نہیں دیکھا ، تو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی تھی کہ ہم لوگ ( یعنی انصار ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ترجیحی سلوک دیکھیں گے ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لوگوں کو کیا حکم دیا ؟ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم صبر سے کام لیں ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ لوگ صبر سے کام لیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بصرہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بصرہ کا گورنر مقرر کیا تھا ، انہوں نے کہا: اے سیدنا ابوایوب ! میں یہ چاہتا ہوں کہ میں آپ کی خاطر اپنی رہائش گاہ چھوڑ کے چلا جاؤں ، جس طرح آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اپنی رہائش گاہ چھوڑ دی تھی ، پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے اہل خانہ کو حکم دیا تو وہ گھر سے باہر آ گئے اور انہوں نے گھر کے اندر موجود ہر چیز سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو دے دی ، جب گھر خالی ہو گیا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ کو کوئی کام ہے ؟ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یہ کام ہے کہ جو میرا وظیفہ ہے ، وہ مجھے مل جائے اور آٹھ غلام مل جائیں ، جو میری زمین پر کام کریں ، اُن کا وظیفہ چار ہزار تھا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے پانچ گنا کر کے دیا ، اور انہیں بیس ہزار رقم دی اور چالیس غلام بھی دیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 15790
وَفِي رِوَايَةٍ : قَدِمَ أَبُو أَيُّوبَ عَلَى مُعَاوِيَةَ - رَحِمَهُمَا اللَّهُ - فَشَكَا لَهُ أَنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِإِسْنَادَيْنِ . وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي أَيُّوبَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ شکایت کی کہ ان کے ذمہ کچھ قرض ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ حبیب بن ثابت نامی راوی نے سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔