کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عبداللہ بن ابی کا تذکرہ
حدیث نمبر: 15759
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، قَامَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَسَلَّ عَلَى أَبِيهِ السَّيْفَ وَقَالَ : لِلَّهِ عَلَيَّ أَلَّا أُغْمِدَهُ حَتَّى تَقُولَ : مُحَمَّدٌ الْأَعَزُّ وَأَنَا الْأَذَلُّ قَالَ : وَيْلَكَ ! مُحَمَّدٌ الْأَعَزُّ وَأَنَا الْأَذَلُّ ! فَبَلَغَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْجَبَهُ وَشَكَرَهَا لَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بنو مصطلق سے واپس تشریف لائے تو عبداللہ بن اُبی کا بیٹا ( ان کا نام بھی سیدنا عبداللہ ہی یہ ہے ) اس نے اپنے باپ کے سامنے تلوار سونت لی اور یہ کہا: اللہ کی قسم ! مجھ پر یہ بات لازم ہے کہ یہ تلوار میں اس وقت تک میان میں نہیں ڈالوں گا ، جب تک آپ یہ نہیں کہتے : کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم عزت والے ہیں اور میں ذلیل ہوں ، تو عبداللہ بن اُبی نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم عزت والے ہیں ، اور میں ذلیل ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی تو آپ کو یہ بات اچھی لگی اور آپ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عبدالله کا شکریہ ادا کیا ( یا ان کی تعریف کی ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15759
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15760
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ : أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَقْتُلَ أَبَاهُ قَالَ : " لَا تَقْتُلْ أَبَاكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ لَمْ يُدْرِكْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ بن عبداللہ بن اُبی کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ وہ اپنے باپ ( رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ) کو قتل کر دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے باپ کو قتل نہ کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ عروہ بن زبیر نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عبدالله بن ابی کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15760
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 15761
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَهُوَ فِي ظِلِّ أُطُمٍ ، فَقَالَ : غَبَّرَ عَلَيْنَا ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ ، فَقَالَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَئِنْ شِئْتَ لَأَتَيْتُكَ بِرَأْسِهِ ، فَقَالَ : " لَا . وَلَكِنْ بِرَّ أَبَاكَ ، وَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر عبداللہ بن اُبی کے پاس سے ہوا ، وہ اس وقت ایک عمارت کے سائے میں موجود تھا ، اس نے کہا: ابن ابوکبشہ نے ہم پر غبار ڈال دیا ہے ، تو اس کے بیٹے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عبدالله نے کہا: یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے ، اگر آپ چاہیں ، تو میں اس کا سر آپ کے پاس لے کر آتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم اپنے باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، اور اس کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15761
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2708) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (231)»