کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15756
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : أَمَرَ أَبِي بِحَرِيرَةٍ فَصَنَعْتُ ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَحَمَلْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " مَا هَذَا يَا جَابِرُ ، أَلَحَمٌ ذَا ؟ " . قُلْتُ : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنَّ أَبِي أَمَرَنِي بِحَرِيرَةٍ فَصَنَعْتُهَا ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَحَمَلْتُهَا . قَالَ : " ضَعْهَا " . فَأَتَيْتُ أَبِي ، فَقَالَ : مَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : قَالَ لِي : " مَا هَذَا يَا جَابِرُ ؟ أَلَحْمٌ ؟ " . قَالَ أَبِي : أَرَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ أَحْسَبُ - يَشْتَهِي اللَّحْمَ . فَقَامَ إِلَى دَاجِنٍ فَذَبَحَهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَشُوِيَتْ ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَتَيْتُ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " جَزَاكُمُ اللَّهُ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ خَيْرًا ، وَلَا سِيَّمَا آلَ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ ، وَسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے ” حریرہ “ تیار کرنے کا حکم دیا ، میں تے وہ تیار کیا ، پھر انہوں نے مجھے حکم دیا تو میں اسے اُٹھا کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ کیا یہ گوشت ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! یا رسول اللہ ! میرے والد نے مجھے حریرہ تیار کرنے کا حکم دیا تھا وہ میں نے تیار کیا ، پھر انہوں نے مجھے ہدایت کی تو میں اسے اٹھا کے لے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے رکھ دو ! میں اپنے والد کے پاس آیا ، انہوں نے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا ؟ میں نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے جابر ! یہ کیا ہے ؟ کیا یہ گوشت ہے ؟ راوی کہتے ہیں : میرے والد نے کہا: میرا خیال ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کی خواہش ہو رہی ہے ، پھر وہ بکری کی طرف اُٹھ کے گئے ، انہوں نے اسے ذبح کیا ، پھر ان کے حکم کے تحت اسے پکایا گیا پھر انہوں نے مجھے حکم دیا ، تو میں اس کا گوشت لے کر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے انصار کے گروہ ! اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے ، خاص طور پر عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہ کے گھر والوں کو ( جزائے خیر عطا کرے ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15757
وَعَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِجَابِرٍ : " أَلَا أُبَشِّرُكَ يَا جَابِرُ ؟ " . قَالَ : [ بَلَى ] يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالْخَيْرِ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ أَحْيَا أَبَاكَ فَأَقْعَدَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : تَمَنَّ عَلَيَّ مَا شِئْتَ أُعْطِيكَهُ قَالَ : يَا رَبِّ ، مَا عَبَدْنَاكَ حَقَّ عِبَادَتِكَ ، أَتَمَنَّى عَلَيْكَ أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا فَأُقَاتِلَ مَعَ نَبِيِّكَ فَأُقْتَلُ مَرَّةً أُخْرَى ، فَقَالَ لَهُ : قَدْ سَلَفَ مِنِّي إِنَّكَ إِلَيْهَا لَا تَرْجِعُ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ الْفَيْضِ بْنِ وَثِيقٍ ، عَنْ أَبِي عُبَادَةَ الزُّرَقِيِّ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے جابر ! کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! بھلائی کی بات ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ کو زندہ کیا اور اسے اپنے سامنے بٹھایا اور فرمایا : تم میرے سامنے جو چاہو آرزو کرو ! میں وہ چیز تمہیں عطا کروں گا ، اس نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! ہم نے تیری عبادت اس طرح نہیں کی ، جو تیری عبادت کا حق تھا ، تو میں تیرے سامنے یہ خواہش بیان کرتا ہوں کہ تو مجھے دنیا کی طرف لوٹا دے ، تاکہ میں تیرے نبی کے ساتھ جنگ میں حصہ لوں اور مجھے دوبارہ قتل کر دیا جائے ، تو پروردگار نے اس سے فرمایا : میری طرف سے یہ بات پہلے طے ہو چکی ہے کہ تم دنیا کی طرف واپس نہیں جاؤ گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے فیض بن وثیق کے حوالے سے ابوعبادہ زرقی سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے فیض بن وثیق کے حوالے سے ابوعبادہ زرقی سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حدیث نمبر: 15758
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : اسْتُشْهِدَ أَبِي وَعَمِّي وَعَلَى أَبِي دَيْنٌ ، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا جَابِرُ ، أَلَا أُبَشِّرُكَ بِبِشَارَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَحْيَا أَبَاكَ وَعَمَّكَ فَعَرَضَ عَلَيْهِمَا ، وَسَأَلَا رَبَّهُمَا أَنْ يَرُدَّهُمَا إِلَى الدُّنْيَا ، فَقَالَ : أَبَعْدَ مَا قَضَيْتُ فِي الْكِتَابِ أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يُرْجَعُونَ ؟ ! " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ خَالِيًا عَنْ ذِكْرِ عَمِّهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد اور میرے چچا نے جام شہادت نوش کر لیا ، میرے والد کے ذمہ قرض تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : اے جابر ! کیا میں تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ملنے والی خوشخبری نہ سناؤں ؟ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ اور تمہارے چچا کو زندہ کیا اور ان دونوں کے سامنے آیا ، ان دونوں نے اپنے پروردگار سے یہ درخواست کی کہ پروردگار ان دونوں کو دوبارہ دنیا کی طرف بھیج دے ، تو پروردگار نے فرمایا : یہ نہیں ہو سکتا ، کیونکہ میں کتاب میں یہ طے کر چکا ہوں کہ اُن لوگوں کو دنیا کی طرف نہیں لوٹایا جائے گا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، لیکن انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے چچا کا ذکر نہیں کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عمرو ہے اور وہ کذاب ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، لیکن انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے چچا کا ذکر نہیں کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عمرو ہے اور وہ کذاب ہے ۔