کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15752
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْخَزْرَجِ : أَبُو الْيُسْرِ : كَعْبُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غُنْمِ بْنِ [ سَوَادُ بْنُ غُنْمِ بْنِ ] كَعْبِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ عَلِيٍّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق نے ، غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے افراد کے ناموں میں انصار کی شاخ بنو خزرج سے تعلق رکھنے والے سیدنا ابوالیسر کعب بن عمرو بن عباد بن عمرو بن غنم بن سواد بن غنم بن کعب بن سلمہ بن علی کا ذکر کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15753
وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ : كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخَيْبَرَ عَشِيَّةً ، إِذْ أَقْبَلَتْ غَنَمٌ لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ تُرِيدُ حِصْنَهُمْ وَنَحْنُ مُحَاصِرُوهُمْ ، إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ [ رَجُلٍ ] يُطْعِمُنَا مِنْ هَذِهِ الْغَنَمِ ؟ " . قُلْتُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " فَافْعَلْ " . قَالَ : فَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ مِثْلَ الظَّلِيمِ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُوَلِّيًا قَالَ : " اللَّهُمَّ أَمْتِعْنَا بِهِ " . قَالَ : فَأَدْرَكْتُ الْغَنَمَ وَقَدْ دَخَلَ أَوَائِلُهَا الْحِصْنَ ، فَأَخَذْتُ شَاتَيْنِ مِنْ أُخْرَاهَا فَاحْتَضَنْتُهُمَا تَحْتَ يَدَيَّ ، ثُمَّ أَقْبَلْتُ بِهِمَا أَشْتَدُّ كَأَنَّهُ لَيْسَ مَعِي شَيْءٌ ، حَتَّى أَلْقَيْتُهُمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَبَحُوهُمَا وَأَكَلُوهُمَا . ¤ فَكَانَ أَبُو الْيُسْرِ مِنْ آخَرِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَلَاكًا ، فَكَانَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى ، ثُمَّ قَالَ : أُمْتِعُوا بِي لَعَمْرِي حَتَّى كُنْتُ آخِرَهُمْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ بَعْضِ رِجَالِ بَنِي سَلَمَةَ عَنْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! خیبر میں ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شام کے وقت موجود تھا ، اسی دوران ایک یہودی شخص کی بکریاں آئیں ، جو قلعے میں جانا چاہ رہی تھیں ، ہم نے ان کا محاصرہ کیا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کون شخص ان بکریوں میں سے کھانا کھلائے گا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسا کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کرو ! راوی کہتے ہیں : تو میں نر جانور کی طرح دوڑتا ہوا گیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جاتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا : اے اللہ ! تو ہمیں اس کے ذریعے نفع دینا ، راوی کہتے ہیں : میں بکریوں تک پہنچا ، ان کا ابتدائی حصہ قلعہ میں داخل ہو چکا تھا ، میں نے ان کے آخری حصے میں سے دو بکریاں پکڑیں اور انہیں بغل میں دبایا اور پھر انہیں لے کر دوڑتا ہوا آ گیا ، یوں جیسے میرے ساتھ کوئی چیز ہی نہیں ہے ، میں نے ان دونوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، لوگوں نے انہیں ذبح کیا اور انہوں نے ان دونوں کا گوشت کھایا ۔ سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں آخر میں انتقال کرنے والے افراد میں سے ایک ہیں ، جب وہ یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے تو رو پڑتے تھے ، پھر فرماتے تھے : تم مجھ سے نفع حاصل کر لو ! مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ، میں ان ( یعنی صحابہ کرام ) میں سے آخری افراد میں سے ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے بنو سلمہ کے بعض رجال کے حوالے سے ، سیدنا کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے بنو سلمہ کے بعض رجال کے حوالے سے ، سیدنا کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15754
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ أَبُو الْيُسْرِ : كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو سَنَةَ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ بِالْمَدِينَةِ ، وَهُوَ آخِرُ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! خیبر میں ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شام کے وقت موجود تھا ، اسی دوران ایک یہودی شخص کی بکریاں آئیں ، جو قلعے میں جانا چاہ رہی تھیں ، ہم نے ان کا محاصرہ کیا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کون شخص ان بکریوں میں سے کھانا کھلائے گا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسا کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کرو ! راوی کہتے ہیں : تو میں نر جانور کی طرح دوڑتا ہوا گیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جاتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا : اے اللہ ! تو ہمیں اس کے ذریعے نفع دینا ، راوی کہتے ہیں : میں بکریوں تک پہنچا ، ان کا ابتدائی حصہ قلعہ میں داخل ہو چکا تھا ، میں نے ان کے آخری حصے میں سے دو بکریاں پکڑیں اور انہیں بغل میں دبایا اور پھر انہیں لے کر دوڑتا ہوا آ گیا ، یوں جیسے میرے ساتھ کوئی چیز ہی نہیں ہے ، میں نے ان دونوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، لوگوں نے انہیں ذبح کیا اور انہوں نے ان دونوں کا گوشت کھایا ۔ سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں آخر میں انتقال کرنے والے افراد میں سے ایک ہیں ، جب وہ یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے تو رو پڑتے تھے ، پھر فرماتے تھے : تم مجھ سے نفع حاصل کر لو ! مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ، میں ان ( یعنی صحابہ کرام ) میں سے آخری افراد میں سے ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے بنو سلمہ کے بعض رجال کے حوالے سے ، سیدنا کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے بنو سلمہ کے بعض رجال کے حوالے سے ، سیدنا کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15755
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ : مَاتَ أَبُو الْيُسْرِ : كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو سَنَةَ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ بِالْمَدِينَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبدالله بن نمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ کا انتقال پچپن ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔