کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 15734
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ : حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ ، وَهُوَ الَّذِي مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مَعَ جِبْرِيلَ عِنْدَ الْمَقَاعِدِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن شہاب نے غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے افراد میں انصار کی شاخ بنو نجار سے تعلق رکھنے والے سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے اور یہ وہ فرد ہیں کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تھے اور اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ” مقاعد “ کے پاس سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ موجود تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15735
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ - فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا - : حَارِثَةُ بْنُ نُعْمَانِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ غُنْمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق نے غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے افراد کے ناموں میں ، سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ بن نعمان بن زید بن عبید بن ثعلبہ بن غنم بن مالک بن نجار کا ذکر کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس قول کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس قول کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15736
وَعَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ فِيهَا قِرَاءَةً ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ ، كَذَاكُمُ الْبِرُّ ، كَذَاكُمُ الْبِرُّ " [ وَكَانَ بَرًّا بِأُمِّهِ ] . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” میں جنت میں داخل ہوا ، تو میں نے اس میں تلاوت کی آواز سنی ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ تو فرشتوں نے بتایا : یہ سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) فرمانبردار اسی طرح ہوتے ہیں ، فرمانبردار اسی طرح ہوتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ اپنی والدہ کے فرمانبردار تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15737
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ : أَنَّ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ : مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ جِبْرِيلُ جَالِسٌ فِي الْمَقَاعِدِ ، فَسَلَّمَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ أَجَزْتُ ، فَلَمَّا رَجَعْتُ وَانْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَلْ رَأَيْتَ الَّذِي كَانَ مَعِي ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : " إِنَّهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا جبرائیل علیہ السلام موجود تھے اور آپ ” مقاعد “ میں تشریف فرما تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا ، پھر میں گزر گیا ، جب میں واپس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران فارغ ہو چکے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اُس فرد کو دیکھا تھا ؟ جو میرے ساتھ موجود تھا ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا اور اس نے تمہیں سلام کا جواب دیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15738
وَعَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُنَاجِي جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزَعَمَ أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ تَجَنَّبَ أَنْ يَدْنُوَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَخَوُّفًا أَنْ يَسْمَعَ حَدِيثَهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ إِذْ مَرَرْتَ بِي الْبَارِحَةَ ؟ " . قَالَ : رَأَيْتُكَ تُنَاجِي رَجُلًا فَخَشِيتُ أَنْ تَكْرَهَ أَنْ أَدْنُوَ مِنْكُمَا قَالَ : " فَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ ؟ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَلَوْ سَلَّمْتَ لَرَدَّ السَّلَامَ " . وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ غَيْرِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
موسیٰ بن عقبہ بیان کرتے ہیں : ابوسلمہ نے اُن صاحب کے حوالے سے
یہ روایت مجھے بیان کی ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کر رہے تھے ، ابوسلمہ کا یہ بیان کرنا ہے : وہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نہیں گئے تھے ، اس اندیشے کے تحت کہ شاید آپ کی گفتگو میں مخل نہ ہوں اگلے دن جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تم نے اس وقت سلام کیوں نہیں کیا ؟ جب تم گزشتہ رات میرے پاس سے گزرے تھے ، تو انہوں نے عرض کی : میں نے آپ کو ایک شخص کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دیکھا تھا تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو یہ چیز ناگوار نہ گزرے کہ میں آپ کی بات میں مخل ہوا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو وہ شخص کون تھا ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا ، اگر تم سلام کرتے ، تو اس نے سلام کا جواب دینا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ابوسلمہ نامی راوی کے علاوہ سے یہ بات سنی ہے کہ وہ فرد سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت مجھے بیان کی ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کر رہے تھے ، ابوسلمہ کا یہ بیان کرنا ہے : وہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نہیں گئے تھے ، اس اندیشے کے تحت کہ شاید آپ کی گفتگو میں مخل نہ ہوں اگلے دن جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تم نے اس وقت سلام کیوں نہیں کیا ؟ جب تم گزشتہ رات میرے پاس سے گزرے تھے ، تو انہوں نے عرض کی : میں نے آپ کو ایک شخص کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دیکھا تھا تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو یہ چیز ناگوار نہ گزرے کہ میں آپ کی بات میں مخل ہوا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو وہ شخص کون تھا ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا ، اگر تم سلام کرتے ، تو اس نے سلام کا جواب دینا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ابوسلمہ نامی راوی کے علاوہ سے یہ بات سنی ہے کہ وہ فرد سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15739
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ : أَنَّ حَارِثَةَ بْنَ النُّعْمَانِ قَالَ : مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ جِبْرِيلُ فِي جَالِسٌ الْمَقَاعِدِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ أَجَزْتُ ، فَلَمَّا رَجَعْتُ وَانْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَلْ رَأَيْتَ الَّذِي كَانَ مَعِي ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : " إِنَّهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ یہ بات بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ” مقاعد “ میں سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ تشریف فرما تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا ، پھر میں آگے گزر گیا ، جب میں واپس آیا تو اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فارغ ہو چکے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو میرے ساتھ تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا اور اس نے تمہیں سلام کا جواب دیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15740
وَعَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُنَاجِي جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَزَعَمَ أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ تَجَنَّبَ أَنْ يَدْنُوَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَخَوُّفًا أَنْ يَسْمَعَ حَدِيثَهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ إِذْ مَرَرْتَ بِيَ الْبَارِحَةَ " . فَقَالَ : رَأَيْتُكَ تَنَاجِي رَجُلًا ; فَخَشِيتُ أَنْ تَكْرَهَ أَنْ أَدْنُوَ مِنْكُمَا قَالَ : " فَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلِ ؟ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَوْ سَلَّمْتَ لَرَدَّ السَّلَامَ " . وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ غَيْرِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
موسیٰ بن عقبہ بیان کرتے ہیں : ابوسلمہ نے مجھے ان صاحب کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کر رہے تھے ، ابوسلمہ کا یہ کہنا ہے : وہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونے سے اجتناب کر گئے تھے ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں آپ کی گفتگو میں مخل نہ ہوں ، اگلے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : کیا وجہ ہے ؟ تم جب گزشتہ شام میرے پاس سے گزرے تھے ، تو تم نے سلام کیوں نہیں کیا ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے آپ کو ایک شخص کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دیکھا ، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ شاید آپ اس بات کو ناپسند کریں گے کہ میں آپ کے قریب آ جاؤں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو ؟ وہ فرد کون تھا ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا ، اگر تم سلام کرتے تو اس نے سلام کا جواب دینا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ابوسلمہ نامی راوی کے علاوہ سے یہ بات سنی ہوئی ہے کہ وہ فرد ، سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15741
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَرَّ حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُنَاجِيهِ ، فَمَرَّ وَلَمْ يُسَلِّمْ ، فَقَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : مَا مَنْعُهُ أَنْ يُسَلِّمَ ؟ إِنَّهُ لَوْ سَلَّمَ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ . ثُمَّ قَالَ : أَمَا إِنَّهُ مِنَ الثَّمَانِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَمَا الثَّمَانُونَ ؟ " . قَالَ : يَفِرُّ النَّاسُ عَنْكَ غَيْرَ ثَمَانِينَ فَيَصْبِرُونَ مَعَكَ ، رِزْقُهُمْ وَرِزْقُ أَوْلَادِهِمْ عَلَى اللَّهِ فِي الْجَنَّةِ . فَلَمَّا رَجَعَ حَارِثَةُ سَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا سَلَّمْتَ حِينَ مَرَرْتَ ؟ " . قَالَ : رَأَيْتُ مَعَكَ إِنْسَانًا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَ حَدِيثَكَ . قَالَ : " وَرَأَيْتُهُ ؟ " . قَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ قَالَ " . فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، رِجَالُهُ كُلُّهُمْ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا جبرائیل علیہ السلام موجود تھے اور آپ سرگوشی میں ان کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ گزر گئے ، انہوں نے سلام نہیں کیا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے دریافت کیا ، انہوں نے سلام نہیں کیا ، اگر یہ سلام کرتا تو میں نے اسے جواب دینا تھا ، پھر انہوں نے کہا: شاید یہ شخص ” ثمانین “ میں سے ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ” ثمانون “ سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : سب لوگ آپ کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ جائیں گے ، صرف ” ثمانین “ ( یعنی اتنی افراد ) کا معاملہ مختلف ہے وہ آپ کے ساتھ جمے رہیں گے ، جنت میں ان کو اور ان کی اولاد کو رزق فراہم کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے ، جب سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ واپس گئے تو انہوں نے سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : جب تم پہلے گزرے تھے تو تم نے سلام نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے آپ کے ساتھ ایک شخص کو دیکھا تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں آپ کی گفتگو میں مخل ہو جاؤں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اس شخص کو دیکھا تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا : وہ جبرائیل علیہ السلام تھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ بات بتائی کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے جو آپ سے کہا: تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے اور ان سب کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے اور ان سب کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔