کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 15728
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ أَشُدُّ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مِنْ فِئَةٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مشرکین کے لئے ، ابوطلحہ کی آواز ایک گروہ سے زیادہ سخت ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15728
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (203/3)»
حدیث نمبر: 15729
وَفِي رِوَايَةٍ : " لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” لشکر میں ابوطلحہ کی آواز ایک گروہ سے زیادہ بہتر ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15729
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (3983) اخرجه احمد فى المسند (261/3)»
حدیث نمبر: 15730
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ قَرَأَ سُورَةَ بَرَاءَةَ ، فَأَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ : انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا فَقَالَ : أَلَّا أَرَى رَبِّي يَسْتَنْفِرُنِي [شَابًّا وَشَيْخًا جَهَّزُونِي ، فَقَالَ لَهُ بَنُوهُ : قَدْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قُبِضَ ، وَغَزَوْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ ، وَغَزَوْتُ مَعَ عُمَرَ فَنَحْنُ نَغْزُوا عَنْكَ . فَقَالَ : جَهِّزُونِي ، فَرَكِبَ الْبَحْرَ فَمَاتَ ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ جَزِيرَةً يَدْفِنُونَهُ فِيهَا إِلَّا بَعْدَ سَبْعَةِ أَيَّامٍ فَلَمْ يَتَغَيَّرْ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سورت توبہ کی تلاوت کی ، جب وہ اس مقام پر پہنچے : ” ہلکے یا بوجھل ہونے کے عالم میں نکل کھڑے ہو ۔ “ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ دیکھ رہا ہوں ، میرے پروردگار نے مجھے یہ حکم دیا ہے ، میں نکل کھڑا ہوؤں ، خواہ میں جوان ہوں یا بوڑھا ہوں ، تو تم لوگ مجھے سامان سفر تیار کر کے دو ! ان کے بیٹوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے رہے ہیں ، یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے رہے ہیں ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے رہے ، اور اب ہم آپ کی جگہ جنگ میں حصہ لے لیں گے ، انہوں نے فرمایا : تم لوگ مجھے سامان فراہم کرو ! پھر وہ سمندری سفر پر روانہ ہوئے ، اور اس دوران ان کا انتقال ہو گیا ہے ، لوگوں کو ان کو دفن کرنے کے لئے کوئی جزیرہ نہیں ملا ، ایسا جزیرہ سات دن بعد ملا ، لیکن اس دوران ان کی میت خراب نہیں ہوئی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15730
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3413)»
حدیث نمبر: 15731
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ غَازِيًا فِي الْبَحْرِ ، فَمَاتَ فِي السَّفِينَةِ ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ مَكَانًا يَدْفِنُونَهُ فِيهِ ، فَانْتَظَرُوا بِهِ سِتَّةَ أَيَّامٍ حَتَّى وَجَدُوا لَهُ بَعْدَ سَبْعٍ مَكَانًا يَدْفِنُونَهُ فِيهِ ، وَلَمْ يَتَغَيَّرْ كَمَا هُوَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سمندری جنگ میں حصہ لینے کے لئے نکلے ان کا کشتی میں انتقال ہو گیا ، ان لوگوں کو انہیں دفن کرنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ملی ، تو وہ چھ دن تک انتظار کرتے رہے ، یہاں تک کہ سات دن بعد انہیں ایک جگہ ملی ، جہاں ان لوگوں نے انہیں دفن کیا ، تو اس دوران ان کا جسم خراب نہیں ہوا ، بلکہ ویسے ہی رہا جیسے تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15731
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4683)»
حدیث نمبر: 15732
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ أَبُو طَلْحَةَ : زَيْدُ بْنُ سَهْلٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ ، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَسِنُّهُ سَبْعُونَ سَنَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوطلحہ زید بن سہل رضی اللہ عنہ کا انتقال چونتیس ہجری میں ہوا تھا ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ، اس وقت ان کی عمر ستر سال تھی اور ان کا نام سیدنا زید بن سہل رضی اللہ عنہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15732
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4684)»
حدیث نمبر: 15733
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ : مَاتَ أَبُو طَلْحَةَ زَيْدُ بْنُ سَهْلٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ ، ، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِينَ سَنَةً ، وَقِيلَ : إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ مَاتَ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ مِنِ ابْنِ نُمَيْرٍ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوطلحہ زید بن سہل رضی اللہ عنہ کا انتقال چونتیس ہجری میں ہوا تھا ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ، انتقال کے وقت ان کی عمر ستر برس کے لگ بھگ تھی ، ایک قول کے مطابق سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا انتقال بتیس ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند ابن نمیر سے منقول ہونے کے حوالے سے منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15733
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4685)»