کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15716
قُلْتُ : قَدْ رَوَى الطَّبَرَانِيُّ : أَنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا . ¤
محمد محی الدین
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام طبرانی نے یہ روایت نقل کی ہے ، انہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15716
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (524)»
حدیث نمبر: 15717
عَنْ أَبِي حَبَّةَ الْبَدْرِيِّ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَى آخِرِهَا قَالَ جِبْرِيلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَهَا أُبَيًّا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُبَيٍّ : " : إِنَّ جِبْرِيلَ أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِئَكَ هَذِهِ السُّورَةَ " . قَالَ : إِنِّي قَدْ ذُكِرْتُ ثَمَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَبَكَى أُبَيٌّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحبہ بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ سورت نازل ہوئی ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یا رسول الله ! آپ کا پروردگار آپ کو یہ حکم دیتا ہے کہ آپ اسے سیدنا ابی کے سامنے پڑھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جبرائیل نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں تمہارے سامنے یہ سورت پڑھوں ، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا وہاں میرا ذکر ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ رونے لگے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ حسن الحدیث ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15717
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (489/4)»
حدیث نمبر: 15718
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ، إِنِّي أُمِرْتُ : أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ " . فَقَالَ : بِاللَّهِ آمَنْتُ ، وَعَلَى يَدَيْكَ أَسْلَمْتُ ، وَمِنْكَ تَعَلَّمْتُ قَالَ : فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَوْلَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَذُكِرْتُ هُنَاكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ بِاسْمِكَ وَنَسَبِكَ فِي الْمَلَأِ الْأَعْلَى " . قَالَ : فَاقْرَأْ إِذًا يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوالمنذر ! مجھے یہ حکم دیا گیا ہے ، میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ، انہوں نے عرض کی : میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا اور میں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور میں نے آپ سے علم حاصل کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دہرائی تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرا ذکر وہاں ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تمہارے نام اور تمہارے نسب کے ہمراہ ملاء اعلیٰ میں ہوا ہے ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر آپ تلاوت کیجئے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15718
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (447)»
حدیث نمبر: 15719
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ : إِنِّي عَرَضْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقُرْآنَ ، فَقَالَ : " أَمَرَنِي جِبْرِيلُ : أَنَّ أَعْرِضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ " . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قرآن پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جبرائیل نے مجھے یہ ہدایت کی ہے ، کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15719
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1359) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (539)»
حدیث نمبر: 15720
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ أُبَيٌّ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمِرْتُ : أَنْ أُقْرِئَكَ الْقُرْآنَ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا ابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھاؤں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور پہلی روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15720
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 15721
وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي فَضْلِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : مِنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ " . ¤
محمد محی الدین
اس سے پہلے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی فضیلت سے متعلق یہ روایت گزر چکی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن چار افراد سے سیکھو ! ابی بن کعب سے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15721
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15722
وَعَنْ عَامِرِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتَّةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَبُو زَيْدٍ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ ، وَسَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَكَانَ جَارِيَةُ بْنُ مَجْمَعٍ قَدْ قَرَأَهُ إِلَّا سُورَةً أَوْ سُورَتَيْنِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عامر شبعی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں انصار سے تعلق رکھنے والے چھ افراد نے قرآن جمع کیا تھا ( شاید اس سے مراد یہ ہے پورا حفظ کیا تھا ) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابوزید رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابومعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ، سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ، جبکہ سیدنا جاریہ بن مجمع رضی اللہ عنہ نے پورا قرآن پڑھا تھا ، صرف ایک یا دو سورتوں کو نہیں پڑھا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد بن عثمان حضرمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15722
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2092)»
حدیث نمبر: 15723
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : كَانَ أَصْحَابُ الْقَضَاءِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتَّةً : عُمَرُ ، وَعَلِيٌّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ ، وَأُبَيٌّ وَزَيْدٌ ، وَأَبُو مُوسَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مسروق بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں قاضی کے طور پر فیصلہ دینے والے افراد چھ تھے ، سیدنا عمر ، سیدنا علی ، سیدنا عبداللہ ، سیدنا ابی بن کعب ، سیدنا زید اور سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہم ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15723
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (528)»
حدیث نمبر: 15724
وَعَنْ عُتَيٍّ السَّعْدِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ مَا خَضَّبَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
محمد محی الدین
عتی سعدی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، ان کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے ، وہ خضاب استعمال نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15724
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (525)»
حدیث نمبر: 15725
وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ : كَانَتْ فِي أُبَيٍّ بَشَاشَةُ شَرَابِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ كُنَاسَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں : سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مزاج میں خوشگواریت تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن کناسہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15725
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (527)»
حدیث نمبر: 15726
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ : مَاتَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ سَنَةَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ [ وَيَقُولُ بَعْضُهُمْ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ] وَقَائِلٌ يَقُولُ : سَنَةَ ثَلَاثِينَ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں تیئس ہجری میں ہوا تھا ، بعض حضرات نے یہ بات بیان کی ہے : ان کا انتقال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوا تھا ، کسی نے یہ کہا: ہے : سن تیس ہجری میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15726
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (530)»
حدیث نمبر: 15727
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يُكَنَّى أَبَا الْمُنْذِرِ بِالْمَدِينَةِ سَنَة ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ مِنِ ابْنِ نُمَيْرٍ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا انتقال مدینہ منورہ میں بائیس ہجری میں ہوا تھا ، ان کی کنیت ابوالمندر تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند ابن نمیر سے منقول ہونے کے حوالے سے منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15727
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (529)»