حدیث نمبر: 15708
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّهُ كَانَ مَرِيضًا فَبَصَقَ عَنْ يَمِينِهِ - أَوْ أَرَادَ : أَنْ يَبْصُقَ عَنْ يَمِينِهِ - فَقَالَ : مَا بَصَقْتُ عَنْ يَمِينِي مُنْذُ أَسْلَمْتُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ بیمار ہو گئے ، انہوں نے اپنے دائیں طرف تھوک دیا ، یا انہوں نے اپنے دائیں طرف تھوکنے کا ارادہ کیا ( یعنی انہیں دائیں طرف تھوکنے کی ضرورت پیش آئی ) تو انہوں نے فرمایا : جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے ، کبھی اپنے دائیں طرف نہیں تھوکا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15709
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ ، حَنِيفًا مُسْلِمًا ، وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ . ¤ فَقَالَ بَعْضُ جُلَسَائِهِ : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ . قَالَ : لَمْ أَنْسَ ، ثُمَّ قَالَ : أَتَدْرُونَ مَا الْأُمَّةُ ؟ قَالُوا : لَا . قَالَ : الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ . قَالَ : هَلْ تَدْرُونَ مَا الْقَانِتُ ؟ قَالُوا : لَا قَالَ : الْمُطِيعُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَجَّاجِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ایک امت تھے ، جو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے ، سیدھے راستے پر گامزن تھے ، اور مسلمان تھے ، وہ مشرکین میں سے نہیں تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : راوی کے ساتھ بیٹھے ہوئے کسی شخص نے یہ بات بیان کی : ابراہیم نخعی نے یہ بات بیان کی ہے : میں یہ بات نہیں بھولا کہ اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ اُمت سے مراد کیا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سے مراد وہ شخص ہے جو لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے ، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو قانت سے مراد کیا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سے مراد ، اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار شخص ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حجاج بن ابراہیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حجاج بن ابراہیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 15710
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : مِنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قرآن کا علم چار لوگوں سے حاصل کرو ! ابی بن کعب ، عبداللہ بن مسعود ، معاذ بن جبل اور ابوحذیفہ کا غلام سالم ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15711
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ إِمَامُ الْعُلَمَاءِ بِرَتْوَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَزْهَرَ الْأَنْصَارِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” معاذ بن جبل ، علماء سے ایک قدم آگے ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن ازہر انصاری ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کی بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن ازہر انصاری ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کی بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15712
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكَ يَقُولُ : مَاتَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً ، وَقَائِلٌ يَقُولُ : ابْنُ اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثِينَ . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مُعَاذٌ إِمَامُ الْعُلَمَاءِ بِرِتْوَةٍ " . قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ : الرِّتْوَةُ : الْمَنْزِلَةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا انتقال 28 سال کی عمر میں ہو گیا تھا ، کسی نے یہ بیان کیا ہے : کہ 32 سال کی عمر میں ہوا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” معاذ ، علماء سے ایک قدم آگے ہو گا ۔ “ یحیی بن بکیر کہتے ہیں : لفظ ” رتوة“ کا مطلب ” منزلت “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 15713
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فِي طَاعُونِ عَمْوَاسٍ ، سَنَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ ثَمَانَ عَشْرَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا انتقال ” عمواس “ کے طاعون میں 17 یا شاید 18 ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 15714
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : قُبِضَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ سَنَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، اس وقت ان کی عمر 35 برس یا شاید 34 برس تھی ۔
حدیث نمبر: 15715
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : تُوُفِّيَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً ، وَالَّذِي يَرْفَعُ فِي نَسَبِهِ يَقُولُ : اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن سعید بیان کرتے ہیں : جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، اس وقت ان کی عمر 28 برس تھی ، جس نے ان کی عمر زیادہ بیان کی ہے اس کا یہ کہنا ہے : کہ ان کی عمر 32 برس تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔